آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 15 از 17

پھر قرینہ صلوٰۃ بھی موجود ہے جو اصطلاح ہے ہیئت خاص کے لئے اس لئے زکوٰۃ سے فرضی اور اصطلاحی زکوٰۃ ہی مراد ہے اب اس لفظ کو سیدنا علیؓ کے لئے تسلیم کیا جائے تو۔

  1. ثابت کیا جائے کہ سیدنا علیؓ پر زکوٰۃ واجب تھی۔
  2. زکوٰۃ کا مصرف قرآن میں مذکور ہے غیر محل پر زکوٰۃ ادا ہی نہیں ہوتی سیدنا علیؓ نے فرشتہ کو زکوٰۃ دے کر قرآن کی مخالفت کیسے کر ڈالی۔

وهم را کعون:

 شیعہ اس و کو واٶ حالیہ بناتے ہیں اس صورت میں حال واقع ہوگا دونوں فعلوں پر یعنی يقيمون الصلوٰة ويؤتون الزكوٰة فعل دو ہیں فاعل ایک ہے تو معنیٰ یہ ہوئے کہ سیدنا علیؓ رکوع کی حالت میں نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں یہ جملہ کہ رکوع کی حالت میں نماز پڑھتے ہیں ایک معمہ بن گیا رکوع تو نماز کا ایک رکن ہے یعنی کل کا ایک جزو ہے تو کل کا معاملہ یہ بنا کہ جزو کی حالت میں کل کرتے ہیں بھلا اس میں کوئی تک ہے۔

اگر صرف فعل زکوٰۃ سے حال مراد لیں تو اس کے لئے قول راجح درکار ہے اور جس قول کا سہارا لے کر یہ بتایا جاتا ہے وہ قول خود مرجوح اور ضعیف ہے لہٰذا صیح نہ ہوا اس کی صحیح صورت یہ ہوگی کہ مسلمانوں کے دوست اللہ رسولﷺ اور اہلِ ایمان ہی ہیں جو نماز پڑھتے ہیں خشوع و خضوع والے ہیں نماز عجز و نیاز سے پڑھتے ہیں۔

واؤ کو حالیہ بنا کر اس میں رنگ بھرنے کے لئے جو افسانہ تیار کیا گیا اس کی تفصیل گزر چکی ہے مگر اس سے اب غرض یہ ہے کہ اس افسانہ سے سیدنا علیؓ کی فضیلت نہیں بلکہ افضلیت ثابت کی جائے۔

پھر سیدنا فاروقِ اعظمؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے انفاق کی یہی صورت اور اس کی عدمِ مقبولیت کیلئے روایات تراش لی گئیں مگر رب العالمین کے مقرر کردہ پیمانوں کے مقابلے انسانوں کے پیمانے

اور وہ بھی فرضی بھلا کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:

(1)۔ لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ الخ۔(سورۃ الحدید آیت:10)۔

ترجمہ: تم میں سے جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے راہ اللہ میں خرچ کیا اور جہاد کیا وہ ان لوگوں کے مقابلے میں بلند ترین درجہ رکھتے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ اور جہاد کیا۔

اب اس خدائی پیمانے سے پیمائش کر کے دیکھئے تو کافر کے ہاتھ سے اتاری ہوئی انگشتری فرشتے کو دے دینے کی اور وہ بھی فتح مکہ کے بعد کیا حیثیت رہ جاتی ہے جو جہاد تو کیا انسانوں کے کام بھی نہ آئی پھر فرمایا۔

(2)۔ وَلَا يَاۡتَلِ اُولُوا الۡـفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِى الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ‌‌الخ۔(سورۃ النور آیت:22)۔

ترجمہ: اور جو لوگ تم میں (دینی) بزرگی اور (دنیوی) وسعت والے ہیں وہ اہلِ قرابت کو اور مساکین کو اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے قسم نہ کھا بیٹھیں۔

یہ آیت سورۃ نور کی ہے جس میں واقعہ افک بیان ہوا ہے جس کا تعلق سیدہ عائشہؓ سے ہے اس صورت میں جہاں سیدہ عائشہؓ کی برات بیان ہوئی وہاں آپ کے والد سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے اور اس آیت کا صدیق اکبرؓ کے حق میں نازل ہونا حد تواتر کو پہنچا ہوا ہے۔

امام رازی فرماتے ہیں:

اجتمع المفسرون على ان المراد من قوله اولوا الفضل منكم ابوبكر وهذه الأیته تدل على انه رضى الله عنه كان افضل الناس بعد رسول اللهﷺ ان اختصاص هذه الآيته بابی بکرؓ بالغ الى حد التواتر فلو جاز منعه لجاز منع كل تواتر۔

تمام مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی شان میں نازل ہوئی اور آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد سیدنا صدیقِ اکبرؓ افضل الناس ہیں اور اس آیت کا سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ساتھ مختص ہونا حد تواتر کو پہنچا ہوا ہے اگر اس تواتر کا انکار کیا جائے تو ہر تواتر کا انکار جائز ہوگا۔

ہر وصف کے مراتب تین ہوتے ہیں۔ 

ادنیٰ متوسط اعلیٰ افضل الناس کہنے سے ادنیٰ اور متوسط خود بخود خارج ہوگئے پھر قرآن کریم نے یہ فضیلت بہ نسبت تمام کے فرمائی ہے جیسا کہ کہا جائے خیر الحاضرين اسی طرح اولو الفضل منکم کسی خاص فرد یا کسی خاص جماعت کی نسبت سے نہیں ہے۔

رہی یہ بات کہ صیغہ جمع کا ہے فرد واحد مراد کیونکر ہوسکتا ہے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ مقام مدح ثنا کا ہے احکام کا ذکر نہیں مقام مدح میں ہمیشہ جمع بول کر معنیٰ مفرد مراد لینا جائز ہے۔

اگر جمع ہی مراد لی جائے تو پھر بھی سیدنا ابوبکرؓ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے صحیح یہی ہے کہ آیت سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے حق میں نازل ہوئی جیسا کہ علامہ قرطبی نے کہا ہے والاول الاصح نزلت في شان ابی بکرؓ

اور صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ:

واستدل بها على فضل ابي بكر الصديق رضى الله عنه لأن دخل في أولى الفضل قطعا لانه وحده او مع جماعة سبب النزول ولا يضر فی ذالک عموم الحكم لجميع المومنين۔

سیدنا ابوبکرؓ کی فضیلت پر اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے وہ یقیناً اولو الفضل میں داخل ہیں خواہ منفرد ہوں یا مع جماعت آیت ان کے حق میں نازل ہوئی ہے اور عموم حکم تمام جماعت کے لئے مضر نہ ہوگا (روح المعانی)۔

ظاہر ہے کہ جب آیت سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی بیٹی کی برأت کے سلسلے میں نازل ہوئی تو صاحبِ فضیلت جماعت میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ بطریقِ اولیٰ داخل ہیں۔

ایک شیعہ مفسر اپنی تفسیر منہج الصادقین میں اس کی تفسیر لکھتے ہیں۔

در بعض تفاسیر آورده اند کہ ابوبکرؓ سوگند خورده بود کہ پسر خالہ خود یعنی مسطح کہ از فقرا مہاجرین بود و اہل بدر، نفقہ نکنند و مطلقا بادنیکی نہ نماید بجہت آنکہ او یکے از متکلمان بود حق تعالیٰ آیت فرستاد کہ ولا يأتل اولو الفضل منكم (صفحہ:286)۔

پھر آگے صفحہ 287 پر لکھتے ہیں:

اولى القربیٰ والمساكين والمهاجرين فی سبيل الله۔

یعنی کسانیکہ جامع ایں صفات باشند مانند مسطح کہ ہم خویش بودو ہم سکین و ہم مہاجر۔

پھر ذرا آگے قولِ سیدنا ابوبکرؓ نقل کیا کہ:

بخدا سوگند کہ ہرگز نفقہ را از مسطح قطع نکنم۔

صفحہ 15 از 17