آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 16 از 17

لیجئے بات صاف ہوگئی نہ جماعت نے نزول آیت سے پہلے کسی خاص فرد جس میں تمام صفات مذکورہ موجود ہوں کو نفقہ نہ دینے کی قسم کھائی نہ نزولِ آیت کے بعد نفقہ قطع نہ کرنے کی قسم کھائی یہ دونوں باتیں سیدنا صدیقِ اکبرؓ سے متعلق ہیں لہٰذا اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ آیت انہی کے حق میں نازل ہوئی۔ 

شیعہ نے یہاں اور راہ نکالی کہ اولوا الفضل منکم میں فضیلت مال ہے یعنی مال میں فضیلت رکھتا ہے مگر یہ راہ بھی مسدود نظر آتی ہے کیونکہ قرآن نے اس سے آگے لفظ والسعة فرمایا اگر فضل سے مراد مال ہے تو سعتہ سے کیا مراد ہوگی؟ ۔

قرآن نے حضرت طالوت کے ضمن میں فرمایا ولم یٶت سعة من المال اگر بات وہی ہے جو شیعہ کہتے ہیں تو یہاں تکرار کی کیا حاجت تھی؟ دوسری بات یہ ہے کہ سیدہ عائشہؓ کی برات بیان ہو رہی ہے اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی شان قرآن نے یہاں مدح کے دونوں پہلو بیان فرما دیئے دینی بھی اور دنیوی بھی کیا اب بھی سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے صدقہ کی قبولیت میں کسی شک کی گنجائش باقی ہے؟۔

پھر اللہ کریم نے فرمایا:

وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ الَّذِىۡ يُؤۡتِىۡ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى‌ۚ وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰٓىۙ الخ۔

(سورۃ اللیل آیت:17)

ترجمہ: اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے جو اپنا مال (محض) اس فرض سے دیتا ہے کہ (گناہوں سے) پاک ہوجائے اور بجز اپنے عالیشان پروردگار کی رضا جوئی کے (کہ یہی اس کا مقصود ہے) اس کے ذمہ کسی کا احسان نہ تھا۔

یہ آیت بھی سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی شان میں نازل ہوئی۔ جیسے تفسیر اتقان (30:1)۔

فاتها نزلت في ابی بكر الصديق رضي الله عنه بالاجماع۔

آیت میں لفظ الاتقی خاص طور پر قابلِ غور ہے صیغہ افعل التفضیل کا ہے اور اس پر الف لام داخل ہے جو موصولہ نہیں نہ معرفہ ہے مقام جمع میں کہ فائدہ عموم کا دے اتقیٰ مفرد ہے اور لفظ الذی مفرد موجود ہے جو عہدی ہے موعود سیدنا صدیقِ اکبرؓ ہیں پھر افعل التفضیل کا صیغہ تمیز من الخیر کے لئے استعمال ہوتا ہے جسے زید افضل القوم اس طرح یہاں صیغہ فرد کا ہے لہٰذا اس صیغہ میں مشارکت ختم ہوگئی مفرد ہی رہا اور وہ اتقی سیدنا صدیقِ اکبرؓ ہی رہے جو غیروں سے ممیز ہوگئے۔ جب آیت میں عموم باطل ہوا تو آیت اپنے شانِ نزول میں بند ہوگئی اور اتقیٰ سیدنا صدیقِ اکبرؓ ثابت ہوئے۔

آیت اول میں فضیلت ثابت ہوئی اس میں آپؓ کا اتقیٰ ہونا ثابت ہوا اور اتقیٰ کو خود اللہ نے افضل اور اکرم فرما دیا۔ 

اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَتۡقٰٮكُمۡ‌ ؕ الخ۔(سورۃ الحجرات آیت:13)۔

اس سلسلہ میں کہا جاتا ہے کہ سیدنا علیؓ کے صدقہ کا بھی قرآن میں ذکر ہے کہ:

اِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِـوَجۡهِ اللّٰهِ لَا نُرِيۡدُ مِنۡكُمۡ جَزَآءً وَّلَا شُكُوۡرًا اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوۡسًا قَمۡطَرِيۡرًا‏۝۔(سورۃ الدھر آیت:9)۔

مگر فرق اتنا ہے کہ صدیق کے صدقہ کے ساتھ فرمایا کہ ابتغاء وجه ربه الاعلیٰ ولسوف يرضیٰ اور یہاں فرمایا کہ انا نخاف من ربنا يوما عبوسا قمطریراانا نخاف من ربنا يوما عبوسا قمطریرا

اس سلسلہ میں جو ذکر کیا گیا ہے اسے تو جانتا ہے کہ مسںٔلہ کا تعلق لفظ سے ہے جس کے لئے عموم ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ آیت ایک معین شخص کے حق میں نازل ہوئی ہے اور لفظ کی بناء پر اس میں کوئی عموم نہیں ہے کیونکہ یہ تو اس شخص پر بند کردی گئی ہے جیسا فرمان باری ہے:

وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ الخ یہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے حق میں نازل ہوئی اس پر اجماع ہے اور امام رازیؒ نے اس قول کو دوسرے ارشاد باری ان اکرمکم عند الله اتقاكم سے ملا کر استدلال کیا ہے کہ رسول کریمﷺ کے بعد سیدنا ابوبکرؓ افضل الناس ہیں جس نے یہ گمان کیا کہ آیت عام ہے ہر اس شخص کے لئے جو اب عمل کرے جیسا سیدنا صدیقؓ نے کیا اور اس کو ایک عام قاعدہ سمجھ لے تو وہ شخص وہم کا شکار ہوا کیونکہ الف لام اس وقت عموم کا فائدہ دیتے ہیں جب موصولہ یا معرفہ بنانے کے لئے ہو جمع میں اور ایک گروہ نے کہا کہ یا مفرد ہو مگر اس شرط پر کہ وہاں عہد نہ ہو اور الاتقیٰ میں لام موصولہ نہیں کیونکہ افعل التفضیل کے ساتھ موصولہ نہیں بتایا جاتا اس پر اجماع ہے اور الاتقیٰ جمع نہیں بلکہ مفرد ہے اور عہد موجود ہے بالخصوص جب کہ صیغہ افعل التفضیل ممیز کر دیتا ہے اور مشارکت کو قطع کر دیتا ہے اس لئے عموم كا قول باطل ہوا اور اس کا قصر خاص پر متعین ہوگیا اور یہ قصر حقیقی ہے جس کے حق میں آیت نازل ہوئی۔ یعنی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے حق میں۔

اس قانون کو سمجھنے کیلئے یا اصطلاحیں سامنے رکھیں:

قصر: کسی چیز کو کسی سے مختص کر دینا کہ دوسرے تک نہ پہنچ سکے۔ 

قطع المشارکت: کسی چیز میں معین شخص کے ساتھ کسی کی شرکت کو ناجائز قرار دیا۔ 

الاتقیٰ میں جو الف لام ہے یہ نہ موصولہ ہے نہ تعریفی ہے یعنی معرفہ بنانے کے لئے نہیں بلکہ یہ الف لام عہدی ہے۔

وَقُلْ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِىۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِىۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّاجۡعَلْ لِّىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا‏۝(سورۃ الاسراء آیت:80)۔

ترجمہ: اے رب مجھے خوبی کے ساتھ پہنچاںٔیو اور مجھ کو خوبی کے ساتھ لے جائیو اور مجھ کو اپنے پاس سے ایسا غلبہ دیجیو جس کے ساتھ نصرت ہو۔

سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی فضیلت تو آیت نصرت میں اللہ تعالیٰ نے بڑے الفاظ میں فرما دی کہ:

اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذۡ اَخۡرَجَهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ الخ۔(سورۃ التوبۃ آیت:40)۔

مگر آیت مندرجہ بالا میں دوسرے انداز سے سیدنا صدیقؓ کی نصرت کا اظہار فرمایا اس آیت کی تفسیر سیدنا جعفرؒ سے سنٸیے۔

صفحہ 16 از 17