آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 17 از 17

سیدنا جعفرؒ از آبائے کرام خود روایت کرده کہ رسول ایں دعا رادر وقتے کرد کہ در غار بود یعنی بار خدایا بیرون آور مرا از غار با امنیت و باز بمکہ رساں مرابا ظفر و غنیمت و اجعل لی و بده مرا من لدنک از نزدیک خود سلطاناً نصیراً جہتے یاری دہنده و قوتے واعانت کننده و غالب شونده بر جميع اہلِ خلاف وعناد و مراد بسلطان سلطنت و پادشاہی است کہ ناصر اسلام باشد بر کفر چہ رواج اسلام بیرون آں میسر بنود پس حق تعالیٰ اجابت دعوت آنحضرت قبول فرمود بقوله فان حزب الله هم الغالبون وبقوله ليظهره على الدين كله وبقوله ليستخلفتنهم فی الارض۔ (منہج الصادقین صفحه 307)

سیدنا جعفرؒ کی تفسیر سے چند نکات حاصل ہوئے۔

  1.  حضورﷺ نے یہ دعا غار میں کی۔
  2.  دعا کا آغاز اس درخواست سے ہوتا ہے کہ مجھے غار میں سے امن کے ساتھ باہر نکال
  3.  آغاز سے انجام تک مجھے ایسا اعانت کنندہ ساتھی دے جو منافقین اور دشمنوں پر غالب آئے۔ 

(4)۔ حضورﷺ کی دعا قبول ہوئی اور قبولیت کا ثبوت یہ ہے کہ

  1. فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ۝۔
  2. لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖۙ الخ۔
  3.  لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ الخ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ قبولیت دعا کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے غار سے امن کے ساتھ نکالنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلطاناً نصیراً سیدنا ابوبکر صدیقؓ عطا فرمایا اور اعلان فرمایا فَقَدۡ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذۡ اَخۡرَجَهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ الخ

فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ کے مناظر حضورﷺ کی حیات طیبہ میں جو سامنے آئے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کے ہاتھوں سے صورت پذیر ہوئے پس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت ہی حزب اللہ ہے جو حضورﷺ کی دعا کی قبولیت کے طور پر معرض وجود میں آئی اور حضورﷺ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد غلبہ کی ابتدا مرتدین کی سرکوبی کے سلسلے میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھوں ہوئی اور اسلام کی سلطنت کا پھیلاؤ سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے ہاتھوں ہوا اور اس میں مزید وسعت اور اہلِ خلاف و عناد کی سرکوبی سیدنا عثمانِ غنیؓ کے ہاتھوں ہوٸ فان حزب الله هم الغالبون اور ليظهره على الدین کله   کی عملی تفسیر خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھوں ہوئی اور ان آیات کا مصداق وہی ہیں اگر یہ کہا جائے کہ غار میں اللہ نے دعا قبول کی مگر انجام سے بے خبر تھا کہ ان لوگوں یعنی خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھ سے ہی لیظهره علی الدین کله کی تفسیر عملی ہوگی اور حزب الله هم الغالبون کا نقشہ بھی یہی لوگ پیش کریں گے اور اللہ کو بدا تو ہو ہی جاتا ہے بالخصوص امامت کے مسئلے میں اور خلافت کے معاملے میں اللہ کا بدا انتہا کو پہنچ گیا اگر اللہ اس انجام سے واقف ہوتا تو ہرگز غار میں دعا قبول نہ کرتا۔

ليستخلفنهم فی الأرض كي صورت قبولیت ظاہر ہے کہ اللہ نے دین اسلام کو غالب کرنے اور سلطنت اسلام کو وسعت دینے اور مخالفین اسلام کو ختم کرنے کے لئے خلفائے ثلاثہؓ کو یکے بعد دیگرے حضور اکرمﷺ کا خلیفہ بنایا۔ 

اگر ان حقائق سے انکار کیا جائے اور سیدنا علیؓ کو خلیفہ بلا فصل مان لیا جائے تو تاریخ اس کا ساتھ نہیں دیتی سیدنا علیؓ نے مرتدین کے خلاف نہ کوئی جنگ کی نہ ان کا قلع قمع کیا اور انہوں نے اپنے عہد میں ایک انچ کے برابر زمین کا سلطنت اسلامی میں اضافہ نہیں کیا لہٰذا سیدنا جعفرؒ نے قبولیت دعا کے ثبوت میں جو تین آیتیں پیش کیں ان کا مصداق خلفائے ثلاثہؓ اور جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی قرار پاتی ہے اور اہلِ سنت والجماعت کا یہی عقیدہ ہے اور قرآن کریم کی رو سے دین حق یہی ہے۔


صفحہ 17 از 17