آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 17

خلاصہ یہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے اہلِ بیتؓ اور اپنے شیعہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ پہلے خلفاء نے عمداً ایسے کام کئے جو نبی کریمﷺ کی سنت کے سراسر خلاف ہیں اب اگر میں ان اعمال میں تبدیلی کر کے سنت کے مطابق کروں تو ڈرتا ہوں کہ فوج میرا ساتھ چھوڑ دے گی اور میں تن تنہا رہ جاؤں گا۔

ظاہر ہے کہ سیدنا علیؓ اپنے شیعہ کی ایسی جانباز فوج میں گھرے ہوئے تھے کہ کسی ایک حکم کو جسے وہ باطل سمجھتے تھے بدلنے کا اقدام نہیں کر سکتے ہیں تو ایسے بہادروں کے بل بوتے پر کفار سے جنگ کر کے ان پر غلبہ حاصل کرنے کی نوبت کیونکر آسکتی تھی۔

ان حقائق کے باوجود شیعہ مفسرین نے ایک روایت کا سہارا لے کر سیدنا علیؓ کو اس آیت کا مصداق قرار دینے کی کوشش کی ہے علامہ فتح اللہ کاشانی نے اپنی کتاب مسیح الصادقین میں اس آیت کے تحت یہ روایت نقل کی ہے لاعطين الراية عذا رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله کہ خیبر کے دن نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ کل میں جھنڈا اس آدمی کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور رسولﷺ کو دوست رکھتا ہے اور اللہ و رسولﷺ اسے دوست رکھتے ہیں اس استدلال کے جواب میں چند امور قابلِ توجہ ہیں:

  1. یہ حدیث خبر واحد ہے اور ہمارا استدلال ظاہر قرآن سے ہے۔
  2.  حدیث میں لفظ رجلاً ہے رجل سے مراد قوم کبھی نہیں ہوتی۔
  3.  حدیث میں ضمیریں مفرد ہیں آیت میں سب ضمیر میں جمع کی ہیں۔
  4.  خیبر کی جنگ اہلِ کتاب کے ساتھ ہوئی مرتدین کے خلاف نہیں ہوئی۔
  5.  خیبر میں فوج کشی نبی کریمﷺ نے خود کی آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ مرتدین کے خلاف فوج کشی کرنے والی قوم غیر رسول ہوگی۔

لہٰذا اس خبر واحد کے سہارے آیتِ قرآنی کا مدلول سیدنا علیؓ کی ذات کو قرار دینا کسی پہلو سے بھی قابلِ اعتبار نہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سیدنا علیؓ اس آیت کے مصداق اس بناء پر ہیں کہ انہوں نے جنگِ جمل اور صفین میں ان اوصاف کا مظاہرہ کیا۔

یہ دعویٰ بھی کئی وجوہ سے باطل قرار پاتا ہے مثلاً

  1. سیدنا علیؓ کے مقابل اہلِ قبلہ تھے۔
  2.  سیدنا علیؓ نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ جہاں تک ایمان کا تعلق ہے ان میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں نہ ان کا ایمان مجھ سے زیادہ ہے اور نہ میرا ایمان ان سے زیادہ ہے لہٰذا آیت کا مصداق نہیں قرار دیا جا سکتا۔
  3.  بفرضِ محال کالشریک الباری یہ مان لیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ باغی تھے تو قرآنِ کریم باغی کو مومن کہتا ہے۔ 

وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌ۚ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰٮهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِىۡ تَبۡغِىۡ الخ۔

(سورۃ الحجرات آیت:9)۔

ترجمہ: پس یہ جنگ تو جنگِ فتنہ ہوگی مرتدین کے مقابلے میں جہاد فی سبیل اللہ کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا یہاں ایک اور نکتہ قابلِ غور ہے:

بقول شیعہ خلفائے ثلاثہؓ نے دین کو خراب کیا قرآن کی تحریف کی سنتِ رسولﷺ کو برباد کیا پھر بھی سیدنا علیؓ نے ان کے خلاف تلوار نہ اٹھائی اور سیدنا امیرِ معاویہؓ پر تو ان میں سے کوئی بہتان بھی نہیں لگایا گیا پھر ان کے خلاف تلوار کیوں اٹھائی گئی ممکن ہے کوئی معقول وجہ بتائی جا سکے خلاصہ یہ ہے کہ اس پہلو سے بھی سیدنا علیؓ کو اس آیت کا مصداق نہیں قرار دیا جا سکتا ہاں خلفائے ثلاثہؓ اس آیت کے مصداق ثابت ہو گئے مرتدین کے خلاف انہوں نے ہی تلوار اٹھائی ان پر غلبہ حاصل کیا ان کا قلع قمع کیا کسی قسم کی ملامت کی پروا نہ کی۔

علمائے شیعہ کے نزدیک آیات کی تفسیر:

 اب ہم اس آیت کی تفسیر شیعہ کتبِ تفسیر سے بیان کرتے ہیں۔

منہج الصادقین 3: 248۔

در تاریخ مذکور است کہ سیزده قبائل از اسلام مرتد شدند سہ در آخر عبد رسول اللہﷺ و قتل اسود درشبے واقع شد کہ در صبح آں رسول اللہﷺ بجوار رحمت ایزدی پیوست۔

تاریخ میں ذکر ہے کہ 13 قبائل مرتد ہوئے ان میں سے تین تو حضور اکرمﷺ کے عہد کے اواخر میں مرتد ہوئے اور اسود کا قتل اس رات واقع ہوا جس کی صبح کو حضورﷺ کا وصال ہوا۔

طلیحہ پر عہدِ نبوی میں حملہ ہوا مگر وہ زمانہ صدیقیؓ میں مسلمان ہوا اب رہا مسیلمہ کذاب کا معاملہ تو اس کے متعلق علامہ کاشانی لکھتے ہیں:

و بعد ازاں رسول خداﷺ بیمار شد و بجوار ایزدی پیوست و کار مسلیمہ قوت گرفت و ابوبکرؓ چوں مخلافت بنشت خالد ولیدؓ رابا جماعتے بجانب خیبر فرستادتا اور امقہور کردند۔

 اور اس کے بعد رسول کریمﷺ بیمار ہوگئے اور پھر حضورﷺ کا وصال ہوگیا اس دوران مسیلمہ نے قوت پکڑ لی جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ خلیفہ ہوئے انہوں نے سیدنا خالد بن ولیدؓ کو ایک جماعت دے کر خیبر کی طرف بھیجا انہوں نے یہ بغاوت فرو کی۔

یعنی سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے مسیلمہ کا خاتمہ کیا جو کام نبی کریمﷺ نے شروع کیا اس کی تکمیل ان کے سچے جانشین سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کر دی اسی صفحہ 248 پر آگے لکھتے ہیں۔

 ودر عہدِ سیدنا ابوبکرؓ ہفت قبیلہ مرتد گشتند۔ 

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے عہد میں سات قبیلے مرتد ہوئے۔

پھر صفحہ 249 حق تعالیٰ شرایشاں را کفایت کردو بردست مسلمانان بقتل آمدند۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے شر کو دور کیا اور وہ مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

یعنی ان سات مرتد قبائل کا قلع قمع سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے کیا ثابت ہوا کہ یہی وہ لوگ تھے یہی وہ قوم تھی جن کی صفات آیتِ مذکورہ بالا میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں پھر اسی صفحہ پر ہے۔

در زمانہ عمرؓ غسان قوم جبلہ بن الیم نصرانی شده

سیدنا عمرؓ کے عہد میں قبیلہ غسان نصرانی ہوگیا جو جبلہ بن الیم کا قبیلہ تھا۔

یعنی عہدِ فاروقیؓ میں مرتدین کی سرکوبی سیدنا فاروقؓ نے کی لہٰذا مفسر شیعہ نے تسلیم کر لیا کہ آیتِ مذکورہ کا مصداق شیخینؓ ہوئے اور ان اوصاف کے حامل بھی یہی قوم تھی جن کا ذکر آیت میں ہوا ہے بلکہ آگے چل کر یہی مفسر واضح الفاظ میں اعتراف کرتا ہے۔

نقل کرده اند کہ آیت درباره ابوبکرؓ است و اصحاب او کہ با اهل رده کا راز کردند۔

نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا ابوبکرؓ اور انکے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے مرتدین سے جنگ کی

صفحہ 2 از 17