آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 17

لیجئے اب شک یا تاویل کی گنجائش کہاں باقی رہی مگر اس کے باوجود آدمی جب بہکنے لگے تو اسے کون روکے۔ چنانچہ تفسیرِ قُمی میں علی ابنِ ابراہیم قمی نے لکھا ہے کہ یہ آیت امام مہدی کے حق میں نازل ہوئی دلیل یہ دی ہے کہ آیت میں سوف کا لفظ ہے جو استقبال کو چاہتا ہے۔ بعد والا زمانہ مراد ہے لہٰذا اس کے مصداق امام مہدی ہونگے حیرت ہے کہ مفسر صاحب کی نگاہ من یرتد منکم پر کیوں نہ رکی کہا یہ جا رہا ہے کہ تم حاضرین میں سے جو مرتد ہوں گے ان کی سرکوبی کے لئے ایک قوم کھڑی کی جائے گی تو کیا اُس زمانہ کے مرتدین امام مہدی کے زمانہ تک زندہ رہیں گے اور ان کے زمانہ میں ارتدار کا اظہار کریں گے؟۔

دوسرا جواب یہ کہ یہ آیت سیدنا علیؓ کے حق میں نازل ہوئی انہوں نے صفین اور جمل دو جنگیں لڑیں اس پر بحث ہو چکی مگر ایک دو باتیں مزید بتا دینا مناسب ہے۔

 (1)۔ صاحب تفسر منہج الصادقین نے سیدنا علیؓ کے متعلق لکھا ہے:

ہم چنانکہ در زمانہ و رسولہ با کفار حرب کردو بعد از فوت آن حضرت نیز با فجار جہاد کرد (253:3)۔

رسول کریمﷺ کے زمانے میں جس طرح سیدنا علیؓ نے کفار کے ساتھ جنگ کی اسی طرح حضورﷺ کی وفات کے بعد فاجروں کیساتھ جہاد کیا۔

ان دو جملوں میں شیعہ مفسر نے دو امور کا اعتراف کیا۔

اول یہ کہ سیدنا علیؓ نے حضور اکرمﷺ کے بعد کفار کے ساتھ کوئی جنگ نہیں کی۔ 

دوم یہ کہ آپ کی جنگیں ان مسلمانوں کے خلاف تھیں جنہیں شیعہ مفسر فاجر کہتا ہے یعنی کافروں یا مرتدوں کے خلاف سیدنا علیؓ نے کوئی جنگ نہیں کی۔

پھر اسی صفحہ پر لکھتے ہیں کہ:

نیز روزے صحابہؓ افرمود کہ منکم من يقاتل على تاويل القرآن كما قاتلت على تنزيله۔

حضورﷺ نے ایک روز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا تم میں سے وہ لوگ ہونگے جو قرآن کی تفسیر و تاویل کے بارے میں اسی طرح جنگ کریں گے جس طرح میں نے قرآن کی تنزیل کے بارے میں جنگ کی

خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کا مصداق خلفائے ثلاثہؓ ثابت ہوئے وہ اور ان کے متبعین ان اوصاف کے حامل قرار پائے جو آیت میں درج ہیں اور خلفائے ثلاثہؓ ہیں اذلۃ علی المومنین اور اعزة على الكافرین ثابت ہوئے اور یہی اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے اور مذہب اہلِ سنت کی حقانیت اس آیت سے ثابت ہوگئی۔

آیت نمبر 2:

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ الخ۔(سورۃ المائدہ آیت:55)۔

ربط آیات میں بیان ہو چکا ہے کہ آیاتِ یہود و نصاریٰ سے ترکِ موالات کے سلسلہ میں نازل ہوئیں جہاں تک شانِ نزول کا تعلق ہے یہ آیت سیدنا عبادہ بن صامتؓ کے حق میں نازل ہوئیں جب انہوں نے یہود و نصاریٰ سے دوستی ترک کی۔

(تفسیر ابنِ کثیر 71:2)

وقد تقدم فی الاحاديث التی أوردناها ان هذه الايات كلها نزلت فی عبادہ بن الصامت رضی الله عنه حين تبرأ من حلف اليهود ورضى بولاية الله ورسوله والمؤمنين۔

ہماری بیان کردہ گزشتہ احادیث میں گزر چکا ہے کہ ساری آیتیں سیدنا عبادہ بن الصامتؓ کے حق میں نازل ہوئیں جب یہود کے حلیف ہونے سے براءت کا اظہار کیا اور اللہ و رسولﷺ کے ساتھ دوستی رکھنے پر راضی ہوئے۔

شیعہ کا دعویٰ ہے کہ یہ آیت سیدنا علیؓ کے حق میں نازل ہوئی پھر اور یؤتون الزكوٰۃ و هم راکعون کی تائید میں دو روایات پیش کرتے ہیں جن میں ذکر ہے کہ سیدنا علیؓ نے حالت نماز میں انگشتری بطورِ زکوٰۃ دے دی ان روایات کی حقیقت علامہ ابنِ کثیر سے سنیے۔ (تفسیر ابن کثیر 71:2)۔

وليس يصح شئ منها بالكلية لضعف استادها و جهالة رواتها ورجالها۔

يعنی جو روایات سیدنا علیؓ کی انگشتری کے متعلق بیان ہوئیں ان میں کوئی ایک بھی صحیح نہیں۔

ان کے استاد ضعیف راوی مجہول ہیں ان میں نکارت و جہالت ہے۔

آیتِ قرآنی کا مفہوم واضح ہے سیدنا عبادہؓ سے کہا گیا ہے کہ تمہارے دوست اللہ و رسولﷺ اور مومنین ہیں جو خشوع و خضوع سے نماز پڑھتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں وہی دوستی کے لئے کافی ہیں مگر ضعیف روایات کا سہارا لے کر اس آیت کا سلسلہ سیدنا علیؓ کی ذات سے جوڑا جاتا ہے مگر اس کا انداز ذرا ملاحظہ ہو۔

(1)۔ منہج الصادقین 251:3:

رسول اللہﷺ نے سائل سے پوچھا کہ کچھ ملا تو جواب دیا ہاں چاندی کی انگوٹھی۔

 سائل کے جواب کے الفاظ یہ ہیں گفت نعم خاتم من فضہ داد۔

(2)۔ منہج الصادقین 258:3:

و خاتم عقیق خود راکہ در انگشت مبارک داشت بہ سائل داد۔

عقیق کی انگوٹھی جو آپکی انگلی میں تھی سائل کو دے دی۔

(3)۔ نماقب شہر بن آشوب 4:3:

هل اعطاك احد شيئاً قال نعم خاتم فضه فی روایاته خاتم من ذهب۔

پوچھا کیا کسی نے تمہیں کچھ دیا ہے کہنے لگا ہاں چاندی کی انگوٹھی اور روایت میں ہے سونے کی انگوٹھی ۔

(4)۔ تفسیر صافی 450:2:

وكان امير المؤمنين فی صلوٰۃ الظهر وقد صلى ركعتين وهو راكع و عليه حلة قيمتها الف دينار۔

اور سیدنا علیؓ نماز ظہر پڑھ رہے تھے دو رکعتیں پڑھ چکے تو رکوع میں تھے اور ان پر ایک چادر تھی جس کی قیمت ایک ہزار دینا تھی۔

(5)۔ اصول کافی صفحہ177 سیدنا جعفرؓ سے روایت ہے۔

فجاء السائل فقال السلام علیک يا ولی الله و اولى بالمؤمنين من انفسهم تصدق على مسكين فطرح الحلة اليه واما بيده ان احمل۔

سائل آیا اور کہا اللہ کے ولی اور جسے مومنوں پر ان کی ذات سے بھی زیادہ اختیار ہے تم پر سلام اس مسکین کو صدقہ دے تو آپؓ نے چادر اس کی طرف پھینک دی اور ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اٹھالے۔

اس روایت سے کئی نکات ظاہر ہوئے ہیں۔ 

اول یہ کہ سائل نے سیدنا علیؓ کو اس وصف سے مخاطب کیا جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کا بیان فرمایا کہ:

اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ‌ الخ۔(سورۃ الاحزاب آیت:6)۔

ترجمہ: تو معلوم ہوا کہ سیدنا علیؓ سائل کے نزدیک نبی تھے بلکہ النبی تھے جن کے متعلق اللہ نے قرآن میں یہ الفاظ بیان فرمائے۔

دوم یہ ہے کہ سائل ایسا بدتمیز تھا کہ انتظار بھی نہ کیا کہ آپؓ نماز سے فارغ ہو لیں۔

 سوم یہ کہ سیدنا علیؓ نے اپنے رب سے تعلق معطل کیا اور مخلوق کی طرف متوجہ ہوگئے۔

چہارم یہ کہ نماز کی حالت میں چادر اتاری اور سائل کی طرف پھینک دی۔ 

پنجم یہ کہ پھر اسے اشارہ کیا کہ چادر اٹھالے واقعی کیا عجب نماز تھی کیا سیدنا علیؓ کا عبادت کرنے کا یہی انداز تھا؟ 

صفحہ 3 از 17