آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 17
  1. مجمع البحرين و مطلع امیرین صفحه 92 حاشیہ پر لفظ ولاء.

روى عن الصادق ان الخاتم الذی تصدق به امیر المؤمنین وزن حلقته اربعة مثاقيل فضه ووزن فضه الشام ستة مأته جمل فضة. واربعة احمال من الذهب وهو بطوار بن الحران قتله امیر المومنین واخذ الخاتم من اسبعته

 سیدنا جعفر صاقؓ سے روایت مروی ہے کہ جو انگوٹھی سیدنا علیؓ نے صدقہ میں دی تھی اس کے خراج حلقہ کا وزن چار مثقال چاندی کے برابر تھا اور اس کے نگینہ کا وزن شام کے خراج کے برابر يعنی 600 اونٹ کے بوجھ کے برابر چاندی اور چار اونٹوں کے بوجھ کے برابر سونا اور وہ انگوٹھی سیدنا علیؓ نے ایک کافر بطوار بن الحران کو قتل کر کے اس کی انگلی سے اتاری تھی۔

سیدنا جعفر صادقؓ کی اس روایت میں تو وہ کمال دکھایا ہے کہ باید و شاید مثلاً 

  1. خاتم کے حلقہ کا وزن چار مثقال چاندی تھا۔
  2.  خاتم کے نگینہ کا وزن شام کے خراج کے برابر تھا۔ یعنی 600 اونٹ چاندی اور چار

اونٹ سونے کے وزن کے برابر ہونا۔

  1.  یہ انگشتری ایک کافر طوار بن حران کی انگلی میں تھی کتنا دیوہیکل وہ کافر ہوگا جس کی ایک انگلی میں پہنی ہوئی انگوٹھی کے نگینہ کا وزن 604 اونٹ کے بوجھ کے برابر تھا۔کون کہہ سکتا ہے کہ وہ انسان ہوگا جس نے انگلی میں اتنا بوجھ اٹھا رکھا تھا۔ 
  2.  سیدنا علیؓ نے اسے قتل کیا اور انگوٹھی اتار کے خود پہن لی مالِ غنیمت سمجھا ہوگا مگر تاریخ میں کسی ایسے واقعہ کا سراغ نہیں ملتا کہ کسی تصادم میں سیدنا علیؓ نے اس نام کے کسی کافر کو قتل کیا اور مال غنیمت کے طور پر اس کی انگوٹھی اپنے قبضہ میں لے لی اور ظاہر ہے کہ یہ نبی کریمﷺ کے عہد کی بات ہے جس میں مال غنیمت کی تقسیم خود نبی کریمﷺ فرمایا کرتے تھے۔ 
  3.  کوئی ماہر ریاضیات اس معمہ کو حل کر کے دکھائے کہ ایک انسان جو نبی کریمﷺ کے دور کا ہو اپنے ہاتھ کی انگلی میں 604 اونٹوں کے بوجھ کے برابر وزنی انگوٹھی لٹکائے پھرے۔
  4.  یہ کوئی خواب نہیں بیان ہو رہا بلکہ سیدنا جعفر صادقؒ کی روایت ہے جو اس عالم ناسوت میں عالمِ بیداری سے تعلق رکھتی ہے۔
  5. سیدنا علیؓ نے وہ انگوٹھی اپنی انگلی میں کس نیت سے پہنی اگر زینت مقصد تھا تو یہ ناجائز ہے اور اگر اتباعِ سنت مقصد تھا تو حضورﷺ نے کب ایسی انگوٹھی پہنی اور دورِ نبویﷺ میں سیدنا علیؓ کو کب یہ ضرورت تھی کہ حکم ناموں پر مہر کرنے کے لئے انگوٹھی پہنتے یعنی جس کے تخمینہ کا وزن 604 اونٹ کے بوجھ کے برابر ہو۔ چنانچہ استبصار 189:2۔

يجوز ليس الخاتم اذ كان القصد السنت بدون ان يكون القصد به الزينة۔

اگر اتباعِ سنت کی نیت ہو زینت مقصد نہ ہو تو انگوٹھی پہننا جائز ہے۔

اور فروع کافی 468:6:

عن ابی عبدالله عليه السلام قال قال رسول الله ﷺ لامير المؤمنين لا تخم بالذهب فانه زينتك فی الآخرة۔

ابو عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی كريمﷺ نے امیر المومنین سے فرمایا سونے کی انگوٹھی نہ پہن وہ تمہارے لئے آخرت میں زینت ہوگی۔

قال امير المؤمنین عليه السلام لا تختموا بغير الفضه وعن ابی عبدالله قال لا تجعل فی یدک خاتما من ذهب۔

امیر المومنین نے فرمایا چاندی کے بغیر کوئی انگوٹھی نہ پہنو اور سیدنا جعفرؒ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی نہ پہننا۔

تفسیر صافی صفحه 651:

ويمكن التوفيق بين مارواه في الكافی ان المصدقه به كان حلة و بين ما رواهانه خاتم لعله تصدق فی غيره نوعه مرة بالحلة واخرى بالخاتم۔

اصولِ کافی کی روایت کو چادر صدقہ میں دی تھی اور دوسروں کی روایت کہ وہ انگوٹھی تھی ان میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ ایک بار چادر دی دوسری مرتبہ انگوٹھی دی۔

ان روایات کا سرسری جائزہ لیجئے:

  1. انگوٹھی عقیق کی تھی:
  2.  انگوٹھی چاندی کی تھی۔
  3.  انگوٹھی نہیں چادر تھی۔
  4. انگوٹھی چاندی کی تھی یا سونے کی تھی۔
  5.  انگوٹھی نہیں چادر تھی جس کی قیمت ایک ہزار دینار تھی۔
  6. چادر تھی جو نماز کی حالت میں پھینک دی گئی۔
  7.  انگوٹھی چاندی کی تھی جس کے حلقے کا وزن 4 مثقال اور نگینہ کا وزن 604 اونٹ کے بوجھ کے برابر تھا جو ایک کافر نے پہن رکھی تھی اور سیدنا علیؓ نے اسے قتل کر کے اس کے ہاتھ سے اتار لی۔

ان متضاد بیانات اور ناممکن الوقوع حالات میں سے حقیقت تلاش کیجئے ممکن ہے کسی نکتہ سنج کو حقیقت کی کوئی جھلک نظر آ جائے آخر دنیا میں کیا نہیں ہوتا۔

آئیے دیکھیں کہ وہ سائل کون تھا جو اتناجری اور موقع شناسی واقعہ ہوا ہے۔

اصول کافی صفحہ 178 اور تفسیر صافی صفحہ 450:2:

والسائل الذی سأل امير المؤمنین عليه السلام من الملائكة۔(وه سائل فرشتہ تھا)۔

اور الصافی شرح اصول کافی 297:3 پر خلیل قروینی نے لکھا ہے:

سائل کے سوال کرد امیر المومنینؓ را از ملائکہ بود۔

زکوٰۃ وصدقہ شریعت کی رو سے صرف دے دینا کافی نہیں بلکہ صحیح محل پر دینا ضروری ہے ورنہ وہ صدقہ مقبول نہیں مردود ہے۔ 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سیدنا علیؓ عالم ما كان و ما يكون تھے تو کیا انہیں علم نہ ہوا کہ یہ فرشتہ ہے انسان نہیں اور اگر علم ہوگیا تو کیا انہیں شریعت کے متعلق اتنی واقفیت بھی نہ تھی کہ فرشتہ کو اس کی احتیاج نہیں لہٰذا یہ محلِ صدقہ نہیں اور کیا انہیں یہ بھی علم نہ تھا کہ یہ عمل مقبول نہیں اگر علم تھا تو یہ نیکی شمار ہوگا یا فعل عبث ظاہر ہے کہ غیر محل پر صدقہ دینا فعل عبث ہے نا جائز ہے نا مقبول ہے کوئی نیکی نہیں تو ایسا فعل سیدنا علیؓ کی فضیلت کا باعث کیونکر بنا؟۔

اب آئیے آیت کے چند الفاظ پر غور کرتے ہیں آیت میں دوستی کے قابل اہلِ ایمان کے اوصاف میں سے دو وصف بیان ہوئے ہیں یقیمون الصلوٰۃ ويؤتون الزكوٰة۔

جس طرح اصطلاح شریعت میں صلوٰۃ ایک خاص مقررہ ہٸیت سے عبادت کرنے کا نام ہے اسی طرح زکوٰۃ بھی اصطلاح شریعت میں اس صدقہ کو کہتے ہیں جو اس مال کا اڑھائی فیصد ہے جو آدمی کے پاس سال بھر جمع رہے اگر زکوٰۃ کا مدلول انگوٹھی یا چادر ہے تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ سیدنا علیؓ کے پاس حضورﷺ کے زمانے میں کبھی نصاب کے مطابق مال جمع بھی رہا ہے پھر یہ دیکھنا پڑے گا کہ اگر ایک ہزار دینار کی چادر تھی تو کتنے مال کا اڑھائی فیصد بنتا ہے اگر ان کے پاس مال ہی نہ تھا تو زکوٰۃ کسی کی اگر زکوٰۃ نہیں تھی تو آیتِ قرآنی کا مدلول کیونکر بنا۔

صفحہ 4 از 17