آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 5 از 17

حضورﷺ کے زمانے میں تو سیدنا علیؓ کے تمول کے حالت یہ بیان ہوئی ہے کہ نکاح کے وقت سارا خرچ سیدنا عثمانؓ نے دیا ان کے پاس لے دے کے صرف ایک زرہ تھی اور آپ کے عہدِ خلافت کی حالت اصول کافی باب سیرۃ الامام میں یوں درج ہے۔

عن حماد بن عثمان قال حضرت ابا عبدالله عليه السلام فقلت له اصلحك الله ذكرت ان علیؓ بن ابی طالب كان يلبس الخشن يلبس القميض باربعة دراهم وما اشبه ذالك ونری علیک اللباس الجديد فقال له ان على ابن ابی طالب کان یلبس ذلک فی زمان لا ینکر علیه ولو لیس مثل ذلک الیوم شھر به فخیر لباس کل زمان لباس اھلة۔

خلاصہ یہ کہ سیدنا حعفرؒ نے تصدیق کی سیدنا علیؓ ایک روپیہ یا کم و بیش قیمت کی قمیض پہنا کرتے تھے تو ایک ہزار دینار طلائی کی چادر کس مال کی زکوٰۃ کے طور پر دے دی۔ 

یہ تو بالکل گورکھ دھندا سا بن جاتا ہے کاش کوئی اسے حل کر سکے۔

خاتم کے واقعہ میں مزید رنگ بھرنے کے لیے شیعہ کتب میں تقابل بیان ہوا ہے اس کا جائزہ لینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔

تفسیر صافی 452:2:

روی عن عمر بن الخطابؓ انه قال واللہ لقد تصدقت باربعین ختما وانا راکع لینزل فی ما نزل فی علی فما نزل۔نزل

یعنی سیدنا عمرؓ نے حالت رکوع میں چالیس انگشتریاں صدقہ کیں کہ میرے بارے میں قرآن کی آیت نازل ہوجاۓ جیسی سیدنا علیؓ کے بارے میں نازل ہوئی مگر ناکامی ہوئی۔

اور تفسیر منہج الصادقین 363:3:

چوں صحابہؓ آنرا دید ہر کس کہ انگشتری داشت صدقہ بداد چہار صد انگشتری باعرابی رسید اعرابی شاد شد۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سیدنا علیؓ کی ریس کرتے ہوئے انگشتریاں صدقہ میں دے دیں اور اس طرح بدو کو 1400 انگشتریاں مل گئیں (یہ نہیں بتایا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اپنے حق میں آیت نازل ہونے کے لئے یہ کام کیا تھا یا ویسے ہی ان کا جذبہ ایثار جوش میں آگیا۔) 

تقابل تو خوب ہے مگر اس سے کئی اور نتائج بھی نکلتے ہیں مثلاً:

  1.  سیدنا عمرؓ کے حق میں آیت نازل نہ ہوئی بھلا کیونکر ہو سکتی تھی ان کی انگوٹھی 6 ماشہ کی نہیں تو ایک تولہ کی ہوگی اس سے زیادہ کیا ہو سکتی 604 اونٹوں کے بوجھ کے برابر یا اس سے زیادہ وزنی ہوتی تو نزولِ آیت کی توقع کرنا بھی بجا تھا ایک ننھی منّی انگوٹھی خواہ وہ تعداد میں چالیس سہی آدھ سیر سے زیادہ پھر بھی نہیں ہوسکتی اس پر آیت کے نزول کی امید رکھنے میں کیا تک ہے۔
  2.  سیدنا عمرؓ کی وہ انگوٹھیاں اپنی ذاتی ہوں گی کسی کافر کے ہاتھ سے اتار کے دیتے تو کوئی بات بھی تھی پھر یہ کہ انہوں نے صدقہ دیا زکوٰۃ تھوڑی ہی دی اور اگر زکوٰۃ دیتے تو اس مال کی دیتے جو ان کے پاس سرے سے موجود ہی نہ ہوتا تب ممکن ہے آیت نازل ہو جاتی۔
  3. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا صدقہ اعرابی کو ملا یعنی شرعاً اپنے محل پر صرف ہوا لہٰذا مقبول ہوا اور سیدنا علیؓ نے زکوٰۃ دی فرشتے کو ظاہر ہے غیر محل پر صرف ہوئی اور غیر محل پر زکوٰۃ کب مقبول ہوتی ہے اس لئے صدقہ مقبول اور غیر مقبول کا کیا مقابلہ ہوسکتا ہے لہٰذا معلوم ہوا کہ خاتم یا حلہ کا واقعہ فرضی ہے اس کا سارا تانا بانا فرضی ہے اور کسی صورت میں آیت کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا اور یہ کہنا کہ یہ آیت سیدنا علیؓ کے حق میں نازل ہوئی محض افسانہ ہے۔

اہلِ سنت نے جہاں کہیں ایسی روایات کا ذکر کیا ہے ان میں راوی لازماً شیعہ یا مجہول ہے وہ روایت ضعیف یا موضوع ہے جیسا کہ علامہ ابنِ کثیر نے اپنی تفسیر میں وضاحت کر دی ہے پھر ان روایتوں میں سائل کا فرشتہ ہونا کہیں مذکور نہیں۔

سائل کے متعلق ایک اور موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ وہ فرشتہ امتحان کے لئے آیا تھا یہ موقف دو اعتبار سے بودا نظر آتا ہے اول جب مدعیان کو یہ تسلیم ہے کہ سیدنا علیؓ معصوم ہیں عالم ما کان و ما يكون ہیں تو امتحان کا مقصد کیا ٹھہرا۔

دوم یہ کہ امتحان کے لئے جن مواقع پر فرشتوں کا آنا فرض کرلیا گیا ہے وہاں تو فرشتوں نے کوئی دینوی چیز اپنے قبضہ میں نہیں کی مگر یہ فرشتہ تو انوکھا نکلا کہ چادر یا انگوٹھی لے کر چلتا بنا نہ جانے انہیں کہاں پھینکا ہوگا کیونکہ یہ دونوں چیزیں فرشتے کے کام کی تو تھیں نہیں چادر یا انگوٹھی آدمی کے کام تو آ نہ سکی کیونکہ سائل فرشتہ تھا اور فرشتے کے لئے بیکار تھی کہ اسے احتیاج نہیں تھی اللہ جانے رکوع کی حالت میں دی ہوئی زکوٰۃ کس کھاتے لگی۔

ربط آیات اور شان نزول بیان کرنے کے بعد اب اس آیت کی تفسیر کا ذکر کرنا ضروری ہے چونکہ انما ولیکم الله سے لے کر ان حزب الله هم الغالبون تک ایک ہی مضمون بیان ہوا ہے اس لئے ان دو آیات کی تفسیر یک جا بیان کی جاتی ہے۔

دوسری آیت کے آخر میں اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت رکھنے والوں کو حزب اللہ کہا گیا ہے اور ان کے غلبہ کا یقینی ہونا تاکید سے بیان ہوا ہے اہلِ ایمان کے لئے حزب اللہ کا سرٹیفیکیٹ اللہ و رسولﷺ سے محبت اور ان کی اتباع کی بناء پر دیا گیا لہٰذا رسولﷺ کے غلبہ میں تو شبہ ہی پیدا نہیں ہوسکتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو رسولوں کے غالب رہنے کی بار بار خبر دی ہے اور دوسری طرف کسی رسول کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ وہ مغلوب یا اپنے مشن میں ناکام رہا ہو چنانچہ ارشاد باری ہے:

  1.  وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِرُسُلِهِمۡ لَـنُخۡرِجَنَّكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِنَاۤ اَوۡ لَـتَعُوۡدُنَّ فِىۡ مِلَّتِنَا‌ ؕ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ لَــنُهۡلِكَنَّ الظّٰلِمِيۡنَۙ وَلَـنُسۡكِنَنَّكُمُ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ‌ؕ ذٰلِكَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامِىۡ وَخَافَ وَعِيۡدِ وَاسۡتَفۡتَحُوۡا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيۡدٍۙ۝۔

(سورۃ الابراہیم آیت:13)۔

ترجمہ: اور کفار نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی زمین سے نکال دیں گے، یا یہ ہو کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ پس ان رسولوں پر ان کے رب نے (تسلی کے لئے) وحی نازل فرمائی کہ ان ظالمون کو ضرور ہلاک کر دیں گے اور ان کے ہلاک کرنے کے بعد تم کو اس زمین پر آباد رکھیں گے اور یہ ہر اس شخص کے لئے (عام) ہے جو میرے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرے اور میرے وعید سے ڈرے۔

صفحہ 5 از 17