آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 8 از 17

يَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوۡا ؕ وَلَقَدۡ قَالُوۡا كَلِمَةَ الۡـكُفۡرِ وَكَفَرُوۡا بَعۡدَ اِسۡلَامِهِمۡ وَهَمُّوۡا بِمَا لَمۡ يَنَالُوۡا‌ ۚ وَمَا نَقَمُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ اَغۡنٰٮهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ مِنۡ فَضۡلِهٖ‌ الخ۔ (سورة التوبہ آیت نمبر 74)۔

ترجمہ: وہ لوگ قسمیں کھا جاتے ہیں کہ ہم نے فلانی بات نہیں کی حالانکہ یقیناً انہوں نے کفر کی بات کہی تھی اور (وہ بات کہہ کر) اپنے اسلام (ظاہری) کے بعد (ظاہر میں بھی) کافر ہوگئے اور انہوں نے ایسی بات کا ارادہ کیا تھا جو ان کے ہاتھ نہ لگی اور یہ کہ انہوں نے صرف اس بات کا بدلہ دیا کہ انہیں اللہ اور رسولﷺ نے رزق خداوندی سے مالدار کردیا۔

اگر بقول شیعہ یہ تسلیم کرلیا جائے کہ نبی کریمﷺ کی آنکھ بند ہوتے ہی خلفائے ثلاثہؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد ہوگئے اور نفاق کی زندگی بسر کرنے لگے تو وہ و کفروا بعد اسلامھم کے مصداق بن گئے تو آیت میں ان کے متعلق ارشاد ہے۔

(1)۔ وهموا بمالم ينالوا یعنی جس کام کا قصد کیا اس میں ناکام ہوئے اپنے دینوی مقصد میں انہیں بھی کامیابی نصیب نہ ہوگی تو اب دیکھنا یہ ہے کہ خلفائے ثلاثہؓ نے کس امر کا قصد کیا اور اس میں نا کام ہوئے کیا انہیں خلافت ملنا ان کی ناکامی کی دلیل ہے یہ جو غصب فدک کا قصہ گھڑ لیا گیا ہے یہ ان کی ناکامی کی دلیل ہے یہ ایک لاکھ کئی ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ان کے ساتھ متفق ہو جانا یہ ان کی ناکامی کی دلیل ہے اگر ہر پہلو میں ان کی کامیابی سامنے آتی ہے تو آیت کی مصداق تلاش کیجئے ذرا پلٹ کے اپنے اس دعویٰ پر غور کرو کہ خلیفہ بلا فصل کی خلافت چھین لی گئی پھر اسے کیا کہیں گے؟ حصولِ فدک کے لئے کتنا زور مارا مگر نہ ملا تو اسے کیا کہیں گے؟ اس لئے آیت کے مفہوم پر غور کیا جائے تو یہ سب افسانے ثابت ہوتے ہیں لہٰذا حقیقت ظاہر ہے کہ نہ وہاں ارتداد و نفاق کا سوال پیدا ہوتا ہے نہ یہاں خلافت کے لئے جتن کرنے اور خلافت کے غصب ہو جانے کا حقیقت سے کوئی تعلق ثابت ہوتا ہے اور اگر حقائق سے صرف نظر کر کے فرضی داستانوں پر یقین کر لیا جائے تو معاذ اللہ فرمان خداوندی بے معنیٰ ثابت ہوتا ہے۔

(2)۔ دوسرا حصہ ہے يعذبهم الله عذاباً اليما فی الدنیا ان کی دنیوی سزا یہ ہے کہ انہیں قتل کر کے ان کا خاتمہ کیا جائے گا تو کیا بقول شیعہ تمام مرتد ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قتل کیا گیا اور بچ گئے تو وہی تین چار جو ارتداد سے بچے اگر ایسا نہیں تو آیت کا مصداق کون ہے؟۔

(3)۔ ومالهم فی الأرض من ولى ولا نصیر تیسری صورت بتائی کہ دنیا میں کوئی ان کا یارو مددگار نہ ہوگا مگر تاریخی حقیقت یہ ہے کہ پورا ملک اور ساری آبادی ان کے ساتھ اور ان کی مہموں میں ممد و معاون رہی اور دوسری طرف بقول شیعہ حالت یہ ہے کہ چالیس روز تک سارے شہر میں پھرایا گیا مگر کسی نے حامی نہ بھری اس عقدے کا حل تو تلاش کیا ہوتا۔

اس آیت کی تفسیر کہئے یا تائید یا تفصیل ایک اور آیت سے ہوتی ہے۔

لَئِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِيۡنَ فِى قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ وَّالۡمُرۡجِفُوۡنَ فِى الۡمَدِيۡنَةِ لَـنُغۡرِيَـنَّكَ بِهِمۡ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا مَّلۡـعُوۡنِيۡنَ ‌ۛۚ اَيۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَقُتِّلُوۡا تَقۡتِيۡلًا سُنَّةَ اللّٰهِ فِى الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُۚ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا۝۔(سورۃ الاحزاب آیت:60)۔

ترجمہ: یہ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور لوگ جو مدینہ میں (جھوٹی) افواہیں اڑایا کرتے ہیں اگر باز نہ آئے تو ضرور ہم ان پر آپ کو مسلط کریں گے پھر یہ لوگ آپ کے پاس مدینہ میں بہت ہی کم رہنے پائیں گے پھر وہ بھی (ہر طرف سے) پھٹکارے ہوئے جہاں ملیں گے پکڑ دھکڑ اور مار دھاڑ کی جاوے گی اور اللہ تعالیٰ نے ان (مفسد) لوگوں میں بھی اپنا یہی دستور رکھا ہے جو پہلے گزرے ہیں اور آپ اللہ کے دستور میں کسی شخص کی طرف سے رد و بدل نہ پائیں گے۔

اس آیت سے منافقین کی تین قسمیں معلوم ہوتی ہیں۔

  1. جن کے افعال و اعمال سے نفاق ظاہر ہو جاتا ہے۔
  2.  جن کے دلوں میں نفاق چھپا ہوا تھا۔
  3. جو افواج اسلامی کے خلاف بری خبریں پھیلاتے تھے۔

آثار و علامات گو مختلف ہیں مگر نفاق سب میں قدر مشترک ہے ان کے متعلق ارشاد ہے کہ:

اگر یہ نفاق سے باز آجائیں تو بہتر ورنہ:

  1.  ہم آپ کو انہیں قتل کر دینے کا حکم دیں گے۔
  2.  یہ لوگ مدینہ میں آپ کے قرب و جوار میں قیام نہیں کر سکیں گے۔
  3.  اگر تھوڑی سی مدت کے لئے وہ بھی گئے تو ملعون ہو کر رسوا ہوکر رہیں گے۔
  4.  پھر مدینہ سے باہر بھی جہاں پائے جائیں گے قتل کر دیئے جائیں گے۔
  5. یہ سنت اللہ ہے تو ہمیشہ سے جائز ہے لہٰذا منافقین مدینہ کے حق میں بھی اللہ کے اس طریقہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

شیعہ کی مستند تفسیر صافی سے اس آیت کے متعلق ایک جھلک دیکھ لیجئے لنغرینک بهم ای لنا مرنک بقتالهم واجلاتهم من الله ذالك في الاسم الماضية وهو ان يقتل الذين نافقوا الانبياء وسعوا في وهنهم بالارجاف۔

(صفحہ367)۔

ترجمہ: یعنی ہم آپ کو یقیناً ان کے قتل کرنے اور جلا وطن کر دینے کا حکم دیں گے اللہ کا یہ طریقہ پہلی امتوں میں بھی رہا ہے کہ جو لوگ انبیاء سے منافقت کرتے ہیں ان کو قتل کیا جاتا ہے یہ منافقین بری خبریں پھیلا کر انبیاء اور مسلمانوں کو پریشان کرتے ہیں پھر تفسیر شیعہ منہج الصادقین سے اس کی تفسیر ملاحظہ ہو۔

اگر منتهی نشوند منافقان و اسلام در جفان از امور منہیه بر آںٔیند ترابقتال ایشاں تحریص کنیم و بعد ازاں مجاورت و ہمسائیگی نکنند با تو در مدینہ مگر زمانہ اندک دیا

مجاورت اندک چہ در اندک فرصتے مستاصل گردند ہرگاه یافت شوند ایشاں کشتہ شوند و سنت نہادہ است خدا قتل منافقاں را یعنی مقرر کرده در اہم ماضیہ کہ انبیاء بکشتند منافقاں عبد خودرا۔

عجیب اتفاق ہوا کہ میں نے قرآن کریم کی یہ آیتیں ایک موقعہ پر ملک العلماء مولوی فیض احمد شیعہ اور سلطان المناظرین مرزا احمد علی لاہوری کے سامنے پیش کر کے ان کی امور کی وضاحت طلب کی کہ:

صفحہ 8 از 17