آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 9 از 17
  1. خلفائے ثلاثہؓ بقول آپ کے جب منافق تھے تو انہیں کیوں نہ قتل کیا گیا۔ 
  2. انہیں مدینہ سے کیوں نہ نکالا گیا کہ ان کے لئے مجاورت نبوی ممنوع تھی۔
  3. جو مجاورت خلفائے ثلاثہؓ کو حاصل ہوئی یہ زمان اندک ہے یا مجاورت اندک ہے زندگی بھر ساتھ رہے برزخ میں بھی ساتھ ہیں پھر اس اندک کی پیدائش کس پیمانے سے کی گئی ہے۔

پھر اس کے برعکس نہ آپکے عقیدہ اور واقعات کے مطابق:

  1.  سیدنا علیؓ مدینہ سے دور باہر شہید ہوئے۔
  2.  سیدنا حسینؓ بھی مدینہ سے باہر دیار غیر میں شہید ہوئے۔

تو اس وثوق سے اللہ تعالیٰ کی پیش گوئی اور اس کی غیر متبدل سنت کا عقدہ حل فرمائیے مولوی فیض احمد صاحب کوئی دلیل تو نہ دے سکے البتہ خفت مٹانے کے لئے فرمانے لگے دیکھو اور یہ سیدنا علیؓ اور سیدنا حسینؓ کو منافق کہتا ہے میں نے کہا میرا عقیدہ یہ ہے کہ ان مقدس ہستیوں کو جو شخص منافق کہے یا مجھے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے میں نے آپ سے آپ کے عقیدہ اور مذہب کی وضاحت طلب کی ہے اس کا جواب دیجئے۔ مگر جواب کہاں؟۔ 

مرزا احمد علی صاحب نے جواب بتایا کہ خلفائے ثلاثہؓ ان منافقین میں سے تھے جو ایذا نہ دیتے تھے اور یہ حکم ایذا دینے والے منافقوں کے لئے ہے۔ 

اس پر میں نے سوال کیا کہ آیت میں سے وہ الفاظ پیش کریں جن سے آپ کی بیان کردہ تخصیص ثابت ہوتی ہے۔ آیت میں تو عموم ہے یہ حکم تو سب منافقین کے لئے ہے کہ قتل ہوں یا مدینہ سے اخراج ہو۔

اس پر مرزا صاحب کہنے لگے کہ دیکھ لو سیدنا عمرؓ مارے گئے سیدنا عثمانؓ مارے گئے میں نے کہا مرزا صاحب! آپ علم کے زور سے کیا کہہ رہے ہیں ذرا الفاظِ قرآن پر غور کریں ارشاد ہے لنفرینك ثم لا يجاورونک مخاطب نبی کریمﷺ کے ہیں کہ ہم آپ کو ان کے قتل کا حکم دیں گے پھر یہ آپ کے پڑوس میں نہیں رہیں گے تو کیا سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ کو نبی کریمﷺ نے قتل کیا تھا اللہ نے ان کو حکم دیا تھا کہ ان کو قتل کریں قتل کے بارے میں تو آپ نے اپنی قرآن فہمی کا ثبوت دے ہی دیا اس مجاورت کے عقدے کا حل بھی بتا دیں سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ کو مدینہ سے نبی کریمﷺ نے کب خارج کیا تھا کیا سیدنا عمرؓ کی قبر مدینہ سے کہیں باہر ہے؟ کیا جنت البقیع مدینہ کی حدود سے خارج ہے ان کو تو ایسی مجاورت حاصل ہوئی اور اس مجاورت کا سلسلہ یہاں تک دراز ہوا کہ برزخ میں بھی مجاورت ختم نہیں ہوتی موت سے تو کسی کو مفر نہیں اس موت کے ساتھ جو قعود بیان ہوئی ہیں ان پر آپ کی نگاہ کیوں نہیں لگتی پھر منافقین کی جو علامات بیان ہوئی ہیں کہ جس چیز کا قصد کریں گے انہیں نہیں ملے گی ان کا کوئی یارو مددگار نہیں ہوگا کیا سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ کے ساتھ یہی حالات پیش آئے۔

اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ شیخینؓ کے ساتھ اللہ نے جو وعدہ کیا تھا پورا کر دکھایا۔

وَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا فِى اللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا لَـنُبَوِّئَنَّهُمۡ فِى الدُّنۡيَا حَسَنَةً‌ ؕ وَلَاَجۡرُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ‌ۘ الخ۔(سورۃ النحل آیت:41)۔

ترجمہ: يعنى مظلوم مہاجرین جنہوں نے راہ اللہ میں ہجرت کی ان کو ہم دنیا میں نہایت عمدہ جگہ دیں گے آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔

زندگی میں امتِ مسلمہ کی قیادت اور حضورﷺ کا قرب اور بعد موت روضہ رسولﷺ جس کی شان عرشِ معلٰی سے بھی بلند ہے اور جوار رسولﷺ نصیب ہوا دوسری طرف بقول آپ کے خلافت بلا فصل کا قصد کیا مگر نہ ملی اںٔمہ نے امامت کا قصد کیا نہ ملی اور جوار رسولﷺ سے بھی محروم رہے اس پر مرزا محمد علی صاحب نے میزان الاعتدال کی ایک عبارت پڑھی کہ سیدنا عمرؓ نے کہا: 

يا حذيفة بالله انا من المنافقين۔

 میں نے کہا کتاب دکھائیے کیونکہ اس وقت میرے پاس یہ کتاب نہ تھی مگر انہوں نے انکار کر دیا آخر ثالث کے ذریعے کتاب حاصل کی گئی تو دیکھا کہ مرزا صاحب کی پیش کردہ عبارت کے بعد یہ الفاظ لکھے ہیں۔

وهذا محال اخاف ان يكون كذبا یعنی سیدنا فاروقؓ کی زبان سے ایسی بات نکلنا محال ہے مجھے اندیشہ ہے کہ یہ حدیث جھوٹی ہے یہ قول سیدنا عمرؓ کا نہیں تو معلوم ہوا لا تقرب و الصلوٰۃ پر رک جانے کی تکنیک سے فائدہ اٹھانے میں اہلِ علم کا کچھ نہیں بگڑتا۔

پھر مرزا صاحب نے ابنِ کثیر کے حوالہ سے فرمایا:

قال عمرؓ لحذيفةؓ انشدك الله منهم انا۔

سیدنا عمرؓ نے سیدنا حذیفہؓ سے پوچھا کیا میں ان میں سے ہوں؟۔

یہاں پھر وہی تکنیک اختیار کی واقعی "اوڑھ لی لوئی تو کیا کرے گا کوئی"

ابنِ کثیر 385:2 پر پوری عبارت یہ ہے:

وذكر لنا ان عمر بن الخطاب رضی الله عنه كان اذا مات رجل فمن يرى انه منهم نظر الى حذيفةؓ فان صلى عليه والا تركه وذكر لنا ان عمرؓ قال لحذيفةؓ انشدك الله منهم انا قال لا۔

یعنی ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ سیدنا عمرؓ کی عادت یہ تھی کہ جب کوئی آدمی مر جاتا اور اس کے متعلق خیال ہوتا کہ منافق ہے تو آپؓ سیدنا حذیفہؓ کی طرف دیکھتے اگر سیدنا حذیفہؓ اس کی نماز جنازہ پڑھتے تو سیدنا عمرؓ بھی پڑھ لیتے ورنہ نہ پڑھتے اور یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سیدنا عمرؓ نے سیدنا حذیفہؓ سے پوچھا کیا مجھ میں کوئی علامت نفاق کی ہے تو آپں نے جواب دیا کہ کوئی نہیں یعنی آپؓ علامت نفاق سے پاک ہیں۔

معلوم ہوا کہ سیدنا حذیفہؓ کا جواب قال لا مرزا صاحب کو نظر آیا یا مرزا صاحب نے اپنی کتاب میں سے پہلے ہی یہ الفاظ کھرچ دیئے تھے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔

بہرحال مرزا صاحب کی دیانتداری کا خوب شہرہ ہوا پھر اس روایت میں اٰمنهم انا کے الفاظ کے مفہوم میں ہمزہ استفہام کو آپ گول کر گئے اور سیدنا عمرؓ کے استفسار کو اقرار بنا دیا اور استفسار کی بنیاد کمال احتیاط اور کمالِ تزکیہ کے بغیر اور کوئی ہو نہیں سکتا مگر مرزا صاحب نے کوئی بڑی بددیانتی نہ کی صرف ایک چھوٹا سا ہمزہ ہضم کر گئے اور یہ سمجھا کہ سننے والے بھلا اتنی باریکیوں میں کہاں جاتے ہیں۔ 

بات اتنی ہے کہ صالح انسان خوفِ الٰہی ورع تقویٰ کی وجہ سے اپنے عیب بھی دوسروں سے پوچھتے رہتے ہیں مگر جہاں سارا کاروبار ہی تقیہ پر مبنی وہاں تقویٰ کو کون پہچانے۔ 

پھر مرزا صاحب نے امام غزالیؒ کی احیاء العلوم سے ایک اقتباس پیش کیا۔ 

صفحہ 9 از 17