Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چوتھا مبحث خاندان قرابت دار غلام اور لونڈیوں کا تذکرہ

  علی محمد الصلابی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خاندان اور قرابت دار

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے والد

سیدنا ابوبکر صدیق عبداللہ بن ابو قحافہ عثمان بن عامر قریشی اور بنو تیم قبیلہ سے ہیں۔ مردوں میں سب سے پہلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور پہلے خلیفہ راشد تھے۔ علی الاطلاق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ سے افضل تھے، بلکہ انبیاء و مرسلین کے بعد سب لوگوں سے بہترین تھے۔ مکہ میں پیدا ہوئے، وہیں پرورش پائی۔ ان کا شمار عرب کے عظیم لوگو ں میں ہوتا ہے۔ قریش کے سرداروں میں سے ایک تھے اور ان کا بڑے بڑے مالداروں اور سخاوت کرنے والوں میں شمار ہوتا تھا۔ وہ قبائل کے نسب ناموں، واقعات و حوادث اور ان کی ثقافت و آداب سے بخوبی واقف تھے۔ حلم، نرمی اور رحم دلی جیسے اعلیٰ اوصاف سے متصف تھے۔ عمدہ خطیب اور بہادری میں معروف تھے۔

انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی صحبت اختیار کی اور آپﷺ کے ساتھ ہی ہجرت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غارِ ثور میں داخل ہوئے۔ اس اعزاز کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ اِذۡ يَقُوۡلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا‌۞ (سورۃ التوبة آیت 40)

ترجمہ: جب وہ دو آدمیوں میں سے دوسرے تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ: غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھی ہے۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں بکثرت صحیح احادیث موجود ہیں۔ جن میں سے صرف ایک حدیث یہاں درج کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیْلًا غَیْرَ رَبِّیْ لَا تَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ، وَلٰکِنْ اَخُوَّۃُ الْإِسْلَامِ وَمَوْدَّتْہُ۔

(متفق علیہ: صحیح بخاری: 3654۔ صحیح مسلم: 2382۔ اس حدیث کے راوی سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں)

اگر میں اپنے رب کے علاوہ کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر ہی کو بناتا، لیکن اسلامی اخوت و مودت (ہمارے درمیان) موجود ہے۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کے لیے ان کی بیعت کی گئی۔ ان کی خلافت کی مدت دو سال تین ماہ اور پندرہ دن ہے۔ 13ھ میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے اور ان کی عمر 63 سال تھی۔ 

(ان کے حالاتِ زندگی کے لیے دیکھیں: الطبقات الکبریٰ: جلد 3 صفحہ 169۔ التاریخ الکبیر للبخاری: جلد 5 صفحہ 1۔ الاستیعاب: جلد 4، صفحہ 1614)