Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فصل خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم و دیگر صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین پر تنقید کی مذمّت

  امام ابنِ تیمیہؒ


فصل: خلفاءِ راشدینؓ اور دیگر صحابہؓ پر تنقید کی مذمت 

خلفاء راشدینؓ اور دیگر صحابہؓ پر تنقید کی مذمت ؛ ان کی عفت و آبرو پر سخت کلامی کی ممانعت۔

ہم قبل ازیں لوگوں کے لیے وعد و عید اور ثواب و عقاب کے بارے میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ گناہ گار سے جہنم کی سزا دس اسباب کی بنا پر معاف کی جا سکتی ہے۔ جب سزا کی معافی کا یہ حکم امت کے سب گناہ گاروں کے لیے ہے خواہ وہ مجتہد ہوں یا کوئی اور گناہ گار۔ تو اصحاب رسولﷺ کی سزا کیوں کر معاف نہیں کی جائے گی ؟

اس پر طرہ یہ کہ جب بعد میں آنے والے مجتہدین سے ذم و عقاب کا ازالہ ممکن ہے تو سابقین اوّلین، مہاجرینؓ و انصارؓ بالاولیٰ اس رعایت کا استحقاق رکھتے ہیں ۔

ہم اس موضوع پر کھل کر گفتگو کرنا چاہتے ہیں ۔اور ادنیٰ و اعلیٰ ہر ایک کے متعلق آگاہ کرنا چاہتے ہیں ۔پس ہم کہتے ہیں : یہ امر قابل غور ہے کہ روافض وغیرہ جوکہ خلفائے راشدین و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی گستاخی کا ارتکاب کرتے ہیں یہ ان کی ناموس و آبرو پر حملہ ہے۔ لہٰذا اس کا تعلق حقوق اللہ و حقوق العباد دونوں سے ہے۔ کیونکہ اس پر اللہ تعالیٰ کے لیے دوستی اور دشمنی؛اور محبت اور بغض کے احکام مرتب ہوتے ہیں۔

یہ ایک بدیہی بات ہے کہ جب ہم صحابہؓ کے سوا سلاطین و ملوک اور علمائے دین و مشائخ؛ جیسے مختلف علاقوں کے مختلف بادشاہوں کو موضوع سخن بناتے ہیں تو اس وقت واجب ہوتا ہے کہ جہل و ظلم کے باوجود علم و عدل کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے، اس لیے کہ عدل ہر شخص کے لیے ہر حال میں ضروری ہے؛ اور ظلم مطلقاً حرام ہے، کسی بھی صورت میں مباح نہیں ۔ جیسے فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿َو لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی﴾ (المائدہ:8)

ترجمہ:’’کسی قوم کی عداوت تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم عدل نہ کر سکو عدل کیجئے کیونکہ وہ تقویٰ سے قریب تر ہے۔‘‘

یہ آیت کفار کے بغض کی وجہ سے نازل ہوئی۔ یہ مامور بہ بغض ہے۔ پس جو بغض حکم الہٰی کے مطابق ضروری ہے، جب اس میں بھی مبغوض پر ظلم کرنے کی ممانعت ہے؛ تو تاویل یا شبہ کی آڑ لینے والا مسلمان اس بات کا زیادہ حق دار ہےکہ اس سے انصاف کیا جائے اور اسے تختہ مشق ستم نہ بنایا جائے ۔

اصحابِ رسولﷺ سب لوگوں کی نسبت اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ قول و عمل میں ان کے ساتھ انصاف برتاؤ کیا جائے۔ عدل اور اصحابِ عدل بالاتفاق مدح و ستائش کے لائق ہیں اور ظلم و اہلِ ظلم بالاتفاق قابلِ مذمت ہیں ۔یہاں پر تحسین و تقبیح عقلی میں کلام مقصود نہیں ۔ ہم نے اس موضوع پر کئی دیگر مواقع پر بات کی ہے؛ اور اس سلسلہ میں ہماری مستقل تصنیف بھی ہے۔ لیکن یہاں پر مقصود یہ ہے کہ:عدل و انصاف تمام اہلِ زمین کے نزدیک محبوب اورمحمود ہے؛ اور انسانی نفوس میں بھی اس کی محبت پائی جاتی ہے۔ اس کی محبت دلوں میں گھری ہوئی ہے۔ دل اس سے محبت کرتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں ۔ اور یہ وہ نیکی کاکا ہے کہ دل اس کی بھلائی کی گواہی دیتے ہیں ۔ اور ظلم وہ برائی ہے جس سے دل نفرت کرتے ہیں ؛ اسے برا سمجھتے اور بغض رکھتے ہیں ۔