سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی والدین
علی محمد الصلابیسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ابو القُعَیس (الاصابۃ: جلد 8 صفحہ 287، 425، 448۔ کی بیوی نے دودھ پلایا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
’’ابو القُعَیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، جب پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا، تو میں نے کہا: جب تک میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں تجھے اپنے گھر میں آنے کی اجازت نہ دوں گی، کیونکہ اس (افلح) کے بھائی ابو القعیس نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابو القعیس کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے۔ تبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بے شک ابوالقعیس کے بھائی افلح نے اجازت طلب کی تو میں نے آپ سے پوچھنے تک اسے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور تجھے کس چیز نے اپنے چچا کو اجازت دینے سے منع کیا۔ میں نے کہا: اے رسو ل اللہ! مجھے مرد نے تو دودھ نہیں پلایا مجھے تو ابوالقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے اجازت دے دے کیونکہ وہ تیرا چچا ہے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ۔‘‘
(تَرِبَتْ یَمِیْنُکَ: جب آدمی محتاج ہو جائے یعنی اس کے ہاتھوں میں مٹی آجائے۔ عربوں میں اس سے مراد بددعا نہیں ہوتی، یہ صرف ایک محاورہ ہے۔ (النہایۃ: جلد 1 صفحہ 184۔ متفق علیہ: بخاری: 4796۔ مسلم: 1445)