Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خادم اور خادمائیں

  علی محمد الصلابی

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعدد خدام اور خادمائیں تھیں اور سیدہ عائشہؓ ان سب کے ساتھ احسان مندانہ برتاؤ کرتی تھیں اور سب کی عزت و تکریم کرتیں۔

1۔بریرۃ: (سیدہ عائشہ بنت ابی بکر صدیق کی آزاد کردہ خادمہ تھیں رضی اللہ عنہا۔ ان کے معاملے میں مشہور حدیث: غلام یا لونڈی کا سامان اسے آزاد کرنے والے کی ملکیت ہے، مروی ہے۔ یہ اپنے خاوند سے پہلے آزاد ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا، پھر یہ سنت بن گئی۔ (الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 79، الاصابۃ: جلد 7 صفحہ 535)

صحیحین میں اس کے متعلق مشہور حدیث مروی ہے۔ صحیح بخاری (محمد بن اسماعیل بن ابراہیم ابو عبداللہ بخاری: امیر و امام الحدیث: حافظ اور اپنے زمانے کے(بلکہ رہتی دنیا تک) امام المحدثین ہیں ۔ 194ھ میں پیدا ہوئے۔ ان کی چند اہم تصنیفات: کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین کتاب ’’الجامع الصحیح، ’’التاریخ الکبیر‘‘ وغیرہ جن کا مثیل کوئی پہلے نہیں گزرا۔ وہ 256ھ میں فوت ہوئے۔ (جزء فیہ ترجمۃ البخاری للذہبی: تہذیب التہذیب: جلد 5 صفحہ 33)

کا متن کچھ اس طرح ہے:

أَنَّ عَائِشَۃَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِیَ بَرِیرَۃَ فَأَبَی مَوَالِیہَا إِلَّا أَنْ یَشْتَرِطُوا الْوَلَائَ فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم فَقَالَ: اشْتَرِیہَا وَأَعْتِقِیہَا ، فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔ وَأُتِیَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم بِلَحْمٍ ، فَقِیلَ إِنَّ ہَذَا مَا تُصُدِّقَ بِہِ عَلَی بَرِیرَۃَ، فَقَالَ: ہُوَ لَہَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ہَدِیَّۃٌ۔ 

(متفق علیہ: صحیح بخاری: 456۔ صحیح مسلم: 1504)

’’یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدنا چاہا تو اس کے مالکوں نے یہ شرط رکھی کہ اس کا سامان ہمیں ملے گا تو ہم فروخت کر دیں گے۔ بصورت دیگر ہم اسے فروخت نہیں کرتے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپﷺ نے فرمایا: تم اسے خرید لو اور آزاد کر دو کیونکہ آزاد شدہ کا سامان اور نسبت آزاد کنندہ کو ملتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھنا ہوا گوشت لایا گیا تو آپﷺ کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے تحفہ ہے۔‘‘

2۔سائبۃ: ابن عمر کے آزاد کردہ غلام نافع نے ان سے روایت کی:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ خادمہ سائبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے۔ البتہ دو نقطوں ( ذوالطفیتین: وہ سانپ جس کی پیٹھ پر دو دھاریاں ہوں۔ تنویر الحوالک: جلد 1 صفحہ 247) یا دو دھاری اور بالشتیہ (الابتر: نیلے رنگ کا دم کٹا سانپ۔ جب بھی حاملہ سے نظریں چار ہوں اس کا حمل گر جاتا ہے۔ تنویر الحوالک: جلد 1 صفحہ 247) کو مار ڈالنے کا حکم ہے کیونکہ وہ دونوں بصارت اچک لیتے ہیں اور حاملہ عورت کا حمل گرا دیتے ہیں۔"

(مسلم: 2233)

3۔مرجانہ: یہ علقمہ بن ابی علقمہ کی والدہ ہیں جو امام مالک (امام مالک بن انس بن مالک ابو عبداللہ اصبحی، مدنی، اپنے زمانے کے مجتہد تھے۔ امام دار الہجرۃ ان کا لقب ہے۔ ائمہ اربعہ میں سے ایک مشہور امام ہیں۔ 93ھ میں پیدا ہوئے۔ 179ھ میں فوت ہوئے۔ ان کی مشہور کتاب ’’مؤطا‘‘ ہے۔ (تزیین الممالک بمناقب الامام مالک للسیوطی و سیر أعلام النبلاء للذہبی: جلد 8 صفحہ 48) کے اساتذہ میں سے ایک ہیں۔ امام مالک کہتے ہیں: 

’’مجھے علقمہ بن ابی علقمہ نے اپنی والدہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ خادمہ تھیں، خبر دی کہ اس نے کہا: (مدینہ منورہ میں ) عورتیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف ڈبیہ ( الدرجہ: چھوٹا سا ڈبہ جیسے بیوٹی بکس ہوتا ہے۔ عورتیں اپنی وقتی اور فوری ضرورت کی اشیاء رکھتی ہیں۔ اسے مختلف طرح سے ضبط کیا گیا ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 2 صفحہ 111) میں رکھ کر روئی بھیجتی تھیں۔ جس میں حیض کا زرد رنگ ہوتا تھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتیں: تم جلدی مت کرو یہاں تک کہ سفید پھٹکی یا روئی کو بالکل سفید دیکھ لو۔

ان کا مطلب اس سے حیض سے مکمل طہارت ہوتا۔ ‘‘

(اسے امام مالک رحمہ اللہ نے مؤطا میں روایت کیا۔ جلد 2 صفحہ 80، حدیث: 189۔ بیہقی: جلد 1 صفحہ 335 حدیث: 1650 امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے معلق ذکر کیا، لیکن انداز بالجزم ہے۔ حدیث: 320 سے پہلے اسے امام نووی رحمہ اللہ نے ’’الخلاصہ‘‘ میں صحیح کہا ہے، جلد 1 صفحہ 233 اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے ’’ارواء الغلیل نمبر 198‘‘ میں صحیح کہا ہے۔

4۔ابو یونس ( یہ ابو یونس مدنی ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ اور ثقہ راوی ہیں۔ (تہذیب التہذیب لابن: حجر: جلد 6 صفحہ 495) قعقاع بن حکیم ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ ابو یونس سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے اس کے لیے ایک مصحف (قرآن کریم) لکھنے کا حکم دیا اور کہا کہ جب تم اس آیت پر پہنچو تو مجھے اطلاع دینا:

حَافِظُوۡا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الۡوُسۡطٰى وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ ۞ (سورۃ البقرة آیت 238)

ترجمہ: تمام نمازوں کا پورا خیال رکھو، اور (خاص طور پر) بیچ کی نماز کا اور اللہ کے سامنے باادب فرمانبردار بن کر کھڑے ہوا کرو۔

جب میں نے انھیں بتایا توانھوں نے کہا: وَصَلَاۃُ الْعَصْرِ ’’اور عصر کی نماز۔‘‘ میں نے یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہیں ۔ 

(صحیح مسلم: 629)

5۔ ذکوان ( ذکوان ابو عمرو مدنی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزادہ کردہ ہیں، وہ اپنے عہد میں فصیح ترین قاری قرآن تھے۔ واقعہ الحرۃ 63ھ میں شہید ہوئے ان کی کنیت ابوعمرو ہے۔ ماہ رمضان میں یہی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مصحف سے امامت کرواتے۔ 

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس عنوان سے باب قائم کیا ہے:

’’غلام اور آزاد کردہ کی امامت کا بیان اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا غلام ذکوان مصحف سے ان کی امامت کرتا تھا۔‘‘ 

(اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے معلق روایت کیا اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’تغلیق التعلیق‘‘ کی جلد 2 صفحہ 290 پر یہ روایت موصول تحریر کی ہے اور اس کے آخر میں کہا: ’’یہ اثر صحیح ہے۔

اس کے حوالے سے عبداللہ بن ابی ملیکہ (یہ عبداللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ ابوبکر مکی ہیں۔ الامام، الحجہ، الحافظ اور شیخ الحرم تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں یا اس سے پہلے پیدا ہوئے۔ یہ عالم، مفتی، حدیث کے راوی اور متقن تھے۔ ابن زبیر کی طرف سے منصب قضا اور اذان کے لیے مقرر ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 5 صفحہ 88۔ تہذیب التہذیب: جلد 3 صفحہ 199)کی مشہور روایت ہے کہ ’’وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بالائی وادی (آج کل اسے باب العوالی کہتے ہیں) میں آتا، اس کے ساتھ عبید بن عمیر (یہ عبید بن عمیر بن قتادہ ابو عاصم مکی تھے۔ اہل مکہ کے قصہ گو تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں پیدا ہوئے۔ یہ عالم، واعظ اور کبار تابعین میں سے تھے اور ثقہ تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے۔ یہ 68ھ میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 156۔ تہذیب التہذیب: جلد 4 صفحہ 48) اور مسور بن مخرمہ اور متعدد لوگ ہوتے۔ (یہ لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس مختلف مسائل پوچھنے اور فتویٰ لینے جاتے تھے) تو انھیں عائشہ رضی اللہ عنہا کا آزادہ کردہ غلام ابو عمرو امامت کراتا۔ ابو عمرو اس وقت تک غلام تھا، ابھی آزاد نہیں ہوا تھا۔‘‘ (اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے ’’المسند‘‘ میں نمبر 224 پر روایت کیا۔ عبدالرزاق نے’’مصنف‘‘ میں جلد 2 صفحہ 393 اور ابن ابی شیبہ نے جلد 2 صفحہ 218 پر، بیہقی نے جلد 3 صفحہ 88 پر حدیث نمبر 5325۔ امام نووی نے ’’الخلاصہ‘‘ جلد 2 صفحہ 693 پر لکھا اس کی سند صحیح یا حسن ہے

6۔لیلیٰ: ایک روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک آزاد کردہ خادمہ لیلیٰ نامی تھی۔ 

امام حاکم رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ بواسطہ منہال بن عبید اللہ بواسطہ ایک آدمی لیلیٰ سے روایت کی جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ تھیں۔ انھوں نے کہا:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا میں گئے، پھر میں گئی تو وہاں کچھ نہ دیکھا اور میں نے کستوری کی خوشبو پائی۔ چونکہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ دکھائی نہیں دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنّ الْاَرْضَ أُمِرَتْ أَنْ تَکْفِیَہٗ مِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِیَائِ۔

(المستدرک: جلد 4 صفحہ 81۔ امام وادعی نے کہا: یہ روایت منقطع ہے۔ ہمیں منہال بن عبید اللہ کا حال معلوم نہیں۔ المستدرک: جلد 4 صفحہ 166)

’’بے شک زمین کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم انبیا کے گروہ کی طرف سے اس کے لیے وہ کافی ہو جائے۔‘‘