شیعہ امامیہ اثناء عشریہ کی ابتداء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ امامیہ اثناء عشریہ کی ابتداء

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 3

صدوق کے لقب سے معروف اور من لا یحضرہ الفقیہ نامی کتاب کا مؤلف ہے۔

محمد بن الحسن الطوسى، ہلاکت 460ھ:

یہ تہذیب الاحکام، الاستبصار، التبیان، الغبية، الامالی الطوسی، الفہرست اور رجال الطوسی ایسی معروف کتب کا مؤلف ہے۔

الحاج مرزا حسین محمد النوری الطبرسی:

یہ کتاب فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب کا مؤلف ہے۔ اس زندیق نے اپنی اس کتاب کے اندر یہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآن کریم میں کمی، زیادتی اور تحریف وقوع پذیر ہوئی ہے۔ یہ کتاب ایران میں 1289ھ کو طبع ہوئی ہے۔ صاحبِ کتاب نے 1320ھ میں نجف میں ہلاکت پائی۔

آیت الله المامقانی:

یہ کتاب تنقیح المقال فی اصول الرجال کا مؤلف ہے اور شیعہ امامیہ اثناء عشریہ کا امام الجرح والتعدیل، اس نے اپنی مذکورہ کتاب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے الحبت والطاغوت کے القاب استعمال کیے ہیں۔ یہ کتاب مطبعۃ المرتضویہ نجف کے زیر اہتمام 1352ھ میں شائع ہوئی ہے۔

محمد باقر مجلسی:

صفوی حکومت کا مذہبی قائد اور مؤلف کتاب بحار الانوار ہلاکت 1111ھ۔

نعمۃ اللہ الجزائری:

مؤلف كتاب الانوار النعمانية ہلاکت 1112ھ۔

ابو منصور الطبرسی

مؤلف کتاب الاحتجاج ہلاکت 620ھ۔

ابو عبدالله المفید:

مؤلف کتاب الارشاد اور کتاب الامالی المفید متوفی 413ھ۔

محمد بن الحسن العاملی:

مؤلف کتاب الایقاظ من الھجعة فی اثبات الرجعة ہلاکت 1104ھ۔

آیت الله الخمینی:

مکمل نام: روح الله المصطفٰی احمد الموسوی الخمینی اس کے والد احمد نے 1885ء میں ہندوستان کی سکونت ترک کر کے مستقل طور پر ایران میں رہائش اختیار کرلی، خمینی کی پیدائش قم شہر کے نواحی قصبه خمین میں 1320ھ میں ہوئی، ولادت کے ایک سال بعد اس کے باپ کو قتل کر دیا گیا، سن بلوغ تک عمر پہنچی تو اس کی ماں بھی وفات پاگئی، چنانچہ اس کے بڑے بھائی نے اس کی مکمل پرورش و کفالت کی ذمہ داری کو نبھایا۔ یہ شیعہ کے ممتاز ترین مذہبی راہنماؤں میں شمار ہوتا ہے۔ خمینی کی متعدد تالیفات میں سے ایک کتاب کشف الاسرار بھی ہے۔ اپنی اسی کتاب میں خمینی نے سیدنا فاروقِ اعظم عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ لکھا ہے:

ان أعمال عمر تابعة من اعمال الكفر والزندقة والمخالفات لآيات ورد ذكرها فی القرآن (کشف الاسرار صفحہ:116)

عمر کے جملہ اعمال کفر، زندیقیت اور (کتاب اللہ) قرآن میں وارد شدہ آیات کی مخالفت پر مبنی ہیں۔

اس کے علاوہ خمینی نے ہی تحریر الوسیلہ اور الحکومۃ الاسلامیہ نامی کتب بھی تحریر کی ہیں۔ مؤخر الذکر کتاب میں خمینی نے لکھا ہے: ان تعاليم الائمة كتعاليم القرآن، يجب تنفيذها واتباعها (الحكومة الإسلامية: صفحہ13)

یقیناً ائمہ کی تعلیمات کا درجہ قرآن کی تعلیمات کے مساوی ہے۔ ان کا نفاذ اور ان کی پیروی دونوں لازم ہیں۔

خمینی تقریبا 89 سال کی عمر میں فوت ہوا، خمینی کے حاشیہ نشینوں نے اس کے برہنہ چہرہ میت کو شیشہ کے تابوت میں بند کر کے تہران کے سب سے بڑے اور کشادہ میدان میں رکھ دیا۔ اس خمینی کے مریدوں اور عقیدت مندوں نے اس تابوت کے گرد طواف کیا، جنازہ چلا تو اس کے پیچھے 10 ملین رافضیوں( شیعوں)کا جمع غفیر بھی رواں دواں تھا۔ سخت ازدہام کی وجہ سے کندھوں سے کندھے ٹکرا رہے تھے، یہ لوگ اپنے رخسار پیٹ رہے اور سینہ کوبی کر رہے تھے۔ 

اس موقع پر خمینی کی میت پر تجارت کرنے والوں نے اس کی قبر پر بہت بڑی عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا جسے ایران کے بلند ترین گولڈن گنبد کی حیثیت حاصل ہو جائے گی، چنانچہ جس علاقے میں یہ گنبد تعمیر کیا گیا اس کے نام کے چناؤ کا شرف خمینی کے بیٹے احمد کو نصیب ہوا، جس نے اس مرکز کو روح الاسلام کا نام دیا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اس گنبد کے تعمیراتی اخراجات کی مد میں 7 ارب ڈالر خرچ کر دئیے گئے۔ یہ ایک ایسے ملک میں ہوا جہاں 5 ملین انسان بے روزگاری کی اذیت میں مبتلا ہیں۔



صفحہ 3 از 3