ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حیات مبارکہ
علی محمد الصلابیپہلا مبحث: ولادت اور والدین کے گھر میں پرورش
پیدائش و ابتدائی حالات
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مکہ مکرمہ میں بعثت نبوی کے تقریباً چار یا پانچ سال بعد پیدا ہوئیں۔
(حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا: ’’وہ بعثت کے چار یا پانچ سال بعد پیدا ہوئیں، چونکہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان کی عمر چھ سال تھی اور یہ بھی کہا گیا کہ سات سال عمر تھی اور ان دونوں اقوال کو اس طرح جمع کیا جا سکتا ہے کہ چھٹا سال مکمل کر کے ساتویں میں داخل ہو چکی تھیں۔ ‘‘(الاصابہ: جلد 8 صفحہ 231) اور سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ نے اس رائے کو ترجیح دی کہ ان کی ولادت ہجرت سے پہلے 9 نبوی میں ہوئی۔ ان کے یہ الفاظ ہیں : ’’امی جان کی ولادت کی صحیح ترین تاریخ ہجرت سے پہلے ماہ شوال میں ہے جوکہ جولائی (تموز) 614ء کے مطابق تھا اور وہ 5 نبوی کا آخر تھا۔ ‘‘ (سیرہ السیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا للندوی: صفحہ 40)
انھوں نے زمانہ جاہلیت نہیں پایا، وہ مسلمان ماں باپ کے گھر میں پیدا ہوئیں ۔ وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے۔ ان کے والد محترم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مردوں میں سب سے پہلے مسلمان ہوئے اور ان کے اسلام کی وجہ سے ان کی بیوی ام رومان بھی اسلام لے آئیں ۔ ان کے ساتھ ہی ان کی دونوں بیٹیوں سیدہ اسماء اور سیدہ عائشہ رضی ا للہ عنہما نے اسلامی گھرانے میں ہی آنکھ کھولی۔ اس لیے جس گھر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ابتدائی پرورش ہوئی وہ مسلمان گھرانوں میں پہلا گھر شمار ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنا شمار بھی مسلمات اوائل میں ہوتا ہے۔
ان کے والدین دین دار تو تھے ہی تاہم ان دونوں کا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احترام و تکریم کا مخصوص رشتہ اور گہرا ربط بھی قائم تھا۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے یہ حقیقت مروی ہے۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے رو ایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے و الدین کو جہاں ایک دین پر محکم پایا، وہیں یہ بھی یاد ہے
کہ ہم پر کوئی ایسا دن نہ گزرا ہو گا کہ جس میں دو بار صبح اور شام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف نہ لائے ہوں ۔ ‘‘
(صحیح بخاری: حدیث: 476)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پرو رش ایک خوش حال اور نعمتوں میں پروردہ گھر میں ہوئی۔ چونکہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے امیر کبیر تاجر تھے۔ سیدنا ابوبکرؓ کے ہم قوم لوگ آپؓ کے علم اور قابل قدر تجارت کی وجہ سے آپؓ کے ساتھ الفت و اکرام کا معاملہ کرتے اور آپؓ کو ان کی مجلسوں میں خصوصی مقام حاصل ہوتا ۔
اللہ تعالیٰ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے۔ دعوت اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے انھوں نے کس قدر مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا۔ روایات میں وارد ہے کہ انھوں نے ہجرت مدینہ کے وقت سفر کے لیے دو اونٹ تیار کیے۔ اپنے ساتھ پانچ ہزار درہم اور متعدد مسلمان، غلام خرید لیے تاکہ انھیں آزاد کر دیں، ان میں مشہور ترین حبشی غلام سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہی کافی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا لِأَحَدٍ عِنْدَنَا یَدٌ إِلَّا وَقَدْ کَافَیْنَاہُ مَا خَلَا أَبَا بَکْرٍ فَإِنَّ لَہُ عِنْدَنَا یَدًا یُکَافِیہِ اللّٰہُ بِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَا نَفَعَنِی مَالُ أَحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِی مَالُ أَبِی بَکْرٍ وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ خَلِیلًا أَ لَا وَ إِنَّ صَاحِبَکُمْ خَلِیلُ اللّٰہِ۔
(الترمذی: 3661۔ ابن ماجہ: 94۔ مسند احمد: 7439۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
’’ہم پر جس جس نے بھی احسان کیا ہم نے اس کا بدلہ اسے دے دیا، سوائے ابوبکر کے۔ کیونکہ ان کے ہمارے اوپر اتنے احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے دن دے گا اور مجھے کسی کے مال سے اتنا نفع نہیں ہوا جتنا نفع مجھے ابوبکر کے مال سے ہوا۔ اگر میں کسی کو خلیل بنانا چاہتا تو یقیناً ابوبکر کو خلیل بناتا۔ خبردار! تمہارا نبی اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔‘‘