Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اجتماعی مقام

  علی محمد الصلابی

اجتماعی پہلو سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان کو نہایت پاکیزہ مقام حاصل تھا۔ ابن دغنہ نے اجتماعی اعتبار سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نیک شہرت اور اعلیٰ مرتبہ کو اس طرح بیان کیا:

’’چنانچہ جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کے ارادے سے مکہ سے نکلنے لگے تو اس نے کہا: ’’بے شک آپ جیسا نہ تو اپنا وطن چھوڑتا ہے نہ اسے جلا وطن کیا جاتا ہے۔ کیونکہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ بے سہاروں کے سہارا ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔ ضعیفوں (الکلُّ: ہر اس بوجھ کو کہتے ہیں جو اٹھانا پڑے۔ نیز الکلُّ تنگدستوں اور کمزوروں پر بھی بولا جاتا ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث والأثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 198۔ فتح الباری لابن حجر: جلد 1 ۱، صفحہ 180۔ تاج العروس للزبیدی: مادہ: ک ۔ ل۔ل) اور محتاجوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں، سیدنا ابوبکرؓ مہمان نواز ہیں، مصیبت زدہ کی مدد کرتے ہیں اور سیدنا ابوبکرؓ میری پناہ میں ہیں۔ لہٰذا آپؓ واپس جائیں اور اپنے ہی شہر میں اپنے رب کی عبادت کریں۔‘‘ 

(صحیح بخاری: حدیث: 2297)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پرورش مبارک خاندان میں ہوئی۔ وہ اپنی ہم عمر بچیوں کی طرح ہی کھیلنے کی دلدادہ تھیں۔ جب وہ نو سال کی ہو گئیں تا حال ان کی سہییاں اور ہم جولیاں تھیں جن کے ساتھ وہ کھیلتی تھیں، ان کا ایک پنگھوڑا بھی تھا جس پر وہ جھولا جھولتیں۔ خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے بیان کیا کہ وہ کس طرح پنگھوڑے پر جھولے جھولتی سسرال جا پہنچیں۔ وہ کہتی ہیں:

’’میں پنگھوڑے پر جھول رہی تھی کہ میری ماں ام رومان رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں۔ میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں، انھو ں نے مجھے زور سے پکارا میں ان کے پاس چلی گئی۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ مجھے کیا کہنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھر کے دروازے پر لا کھڑا کیا۔ میں ہانپ رہی تھی (ہَہْ ہَہْ: اس کے دو معنی کیے گئے ہیں: (1)پھولے ہوئے سانس کے ساتھ ہانپنا۔

(2)زور زور سے روتے ہوئے ہَہْ ہَہْ کی آواز نکالنا۔ (مشارق الانوار للقاضی عیاض: جلد 2 صفحہ 272۔ غریب الحدیث لابن الجوزی: جلد 2 صفحہ 506۔ شرح مسلم للنووی: جلد 9 صفحہ 207)

یا زور زور سے روتے ہوئے ہائیں بھر رہی تھی۔

’’جب میرا سانس تھم گیا اور میں خاموش ہو گئی۔ تب میری والدہ مجھے گھر کے اندر لے گئی۔ وہاں میں نے کچھ انصاری عورتوں کو دیکھا، وہ کہنے لگیں :

’’خیر و برکت کے ساتھ، سعادت مند اور خوش نصیب رہو۔ ‘‘

(علی خیر طائر: یعنی سعادت مندی تیرا انتظار کر رہی ہے، یا تم بہت خوش قسمت ہو۔ عربوں کے ہاں یہ جملہ نیک فالی کے موقع پر بولا جاتا ہے۔(مشارق الانوار: جلد 2 صفحہ 272۔ فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 224۔ شرح مسلم للسیوطی: جلد 4 صفحہ 27۔ بخاری: 3894۔ مسلم: 1422)

اپنی شادی کے بعد بھی کچھ عرصے تک اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نوعمری اور کھیلنے کی ضرورت کا خاص خیال رکھتے۔ ان کی جو سہیلیاں ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے آتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے ساتھ کھیلنے کی فرصت مہیا کرتے تھے۔ ان کے پاس کھلونے تھے جن کے ساتھ وہ کھیلا کرتی تھیں۔ اس کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

’’میں شادی کے بعد بھی گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔‘‘ 

(السیّدہ عائشہ اُم المؤمنین و عالمۃ نساء العالمین: صفحہ 22، 25)

’’ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گڑیوں کے درمیان ایک گھوڑا دیکھا جس کے دائیں اور بائیں دو پر تھے۔

آپﷺ نے ان سے پوچھ لیا: اے عائشہ! یہ کیا ہے؟

تو کہا: یہ گھوڑا ہے۔

پھر آپﷺ نے پوچھا: کیا گھوڑے کے دو پَر بھی ہوتے ہیں؟

تو فوراً جواب دیا: کیا سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے کے بے شمار پَر نہیں تھے۔

یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ ‘‘

(اسے ابو داؤد نے روایت کیا: 4932۔ نسائی بحوالہ سنن کبریٰ: جلد 5 صفحہ 306، حدیث: 8950۔ بیہقی: سنن کبری: جلد 10 صفحہ 219 حدیث: 21510)

یہ جواب ان کی عمدہ ذہانت اور انتہائی فطانت کی دلیل ہے۔ انھیں اپنے بچپن کے بیشتر واقعات اَزبر تھے۔ جتنی احادیث انھیں میسر آتیں، بقدر استطاعت ان سے ضرور مسائل اخذ کرتیں۔ وہ کہتی ہیں:

’’محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں اس وقت کم عمر، کھیلنے والی ایک لڑکی تھی:

بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ ۞ (سورۃ القمر آیت 46)

ترجمہ: یہی نہیں، بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت اور زیادہ مصیبت اور کہیں زیادہ کڑوی ہوگی۔

(صحیح بخاری: 4993)

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر ابھی تک آٹھ سال کے لگ بھگ تھی۔ لیکن اپنی بے پناہ ذہانت کی بدولت وہ اس نوعمری میں بھی بات سمجھتی اور اَزبر کر لیتی تھیں۔ ہجرت نبویہ کے اسرار و حوادث انھیں خوب یاد تھے۔ 

(سیرۃ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا للندوی: صفحہ 43)