شیعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور قرآن کریم

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 13

شیعہ اور قرآنِ کریم

ہم اس بحث میں شیعہ اور قرآنِ کریم کا درج ذیل بنیادوں پر تذکرہ کریں گے۔

 پہلا مقصد:

متقدمین شیعی علماء اور قرآنِ کریم کے محرف ہونے پر ان کا اتفاق۔

دوسرا مقصد: 

متاخرین شیعی علماء اور قرآنِ کریم کی تحریف کی بابت ان کے اقوال۔

 تیسرا مقصد: 

قرآنِ کریم کی تحریف کے مدعی متقدمین و متاخرین شیعی علماء کے نام۔

 چوتھا مقصد: 

اکابر شیعی علماء کی شیعوں کے محدث اول محمد بن یعقوب الکلینی کے متعلق معتبر گواہی کہ وہ قرآنِ کریم کے محرف ہونے کا مدعی اور معتقد تھا۔

پانچواں مقصد: 

اکابر شیعی علماء کے بیانات کہ قرآنِ کریم پر حرف گری کرنے والی روایات تواتر اور شہرت کے درجے پر فائز ہیں۔

چھٹا مقصد: 

شیعہ امامیہ کے زعم کے مطابق قرآنِ کریم کی تعریف کے انواع و اقسام۔

 ساتواں مقصد: 

اس سوال کا جواب کہ شیعہ حضرات اس قرآن کی تلاوت کیوں کرتے ہیں جو اہلِ سنت کے پاس موجود ہے حالانکہ وہ اسے ناقص اور محرف تسلیم کرتے ہیں؟۔

آٹھواں مقصد: 

شیعہ حضرات کی اللہ تعالیٰ کی کتاب کی مغالطہ اور دھوکے پر مبنی تفسیروں کی مثالیں۔

پہلا مقصد:

متقدمین شیعی علماء اور قرآنِ کریم کے محرف ہونے پر ان کا اتفاق:

شیعہ امامیہ کا عقیدہ ہے کہ جو قرآنِ کریم اس وقت اہلِ اسلام کے پاس موجود ہے یہ وہ قرآن قطعاً نہیں ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے محمدﷺ پر نازل فرمایا تھا بلکہ اس میں تغیر و تبدل اور تحریف واقع ہو چکی ہے اور یہ رد و بدل اور تغیر خود رسول اللہﷺ کے ان اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین سے سرزرد ہوا جنہوں نے شیعوں کے عقیدے کے متعلق آلِ محمد کے حقوق کو غصب کیا۔ شیعوں کا یہ دعویٰ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان آیات کو حذف کر دیا جو اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب و فضائل اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عیوب و نقائص پر مشتمل تھیں اس کے علاوہ انہوں نے بہت سی دوسری آیات کو شیعوں کے بقول قرآن کریم سے حذف کر دیا یہاں تک کہ منزل من الله قرآن کریم کا صرف ایک تہائی حصہ باقی بچ گیا ہے اس کے مد مقابل ان کا یہ دعویٰ ہے کہ کامل قرآن جسے اللہ تعالیٰ نے اتارا تھا جو ہر قسم کی تحریف سے محفوظ و مامون ہے وہ ان کے بارہویں امام غائب محمد بن حسن عسکری کے پاس موجود ہے۔ اور اسے ان کے عقیدے کے متعلق سیدنا علیؓ بن ابی طالب نے جمع کیا تھا یہ عقیدہ تمام متقدمین و متاخرین شیعی علماء کا متفقہ عقیدہ ہے چند گنے چنے شیعی امامیہ علماء نے اس عقیدے کی مخالفت کی اور برملا کہا ہے کہ قرآنِ کریم میں تحریف کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ہے تاہم یہ بات طے ہے کہ قرآنِ کریم میں تغیر و تبدل تحریف اور اس کے ناقص ہونے کا نظریہ قدیم شیعی علماء کا متفقہ نظریہ ہے ان سب نے اپنی مؤلفات میں اس عقیدے کی صراحت کی ہے اور اپنے ائمہ کی طرف منسوب ایسی روایات سے اپنی کتابوں کو بھر دیا ہے جن سے قرآنِ کریم میں تحریف کا ثبوت ملتا ہے اس اجماع سے صرف چند افراد نے اختلاف کیا ہے مشہور شیعی امام نوری طبرسی اپنی کتاب فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب میں ان افراد کی تعداد بیان کرتا ہے کہ وہ صرف چار اشخاص ہیں میں یہاں متقدمین شیعی علماء کے اقوال اور ان کے ائمہ کی بعض روایات کو ان کی مشہور و معتمد کتابوں میں سے نقل کرنا چاہتا ہوں جن میں قرآنِ کریم میں تحریف رد و بدل اور نقص کے دعوے کی صراحت ملتی ہے۔ تاکہ یہ شیعوں کے اس فاسد اس اجماعی عقیدے کے متعلق آگاہ کرنے والے اہلِ سنت کے اعتراض کے لیے قوی دلیل بن جائے کہ یہ ان کے اپنے اقوال ہیں اور خود ان کی اپنی تصریحات ہیں انہیں دوسروں سے نقل نہیں کیا گیا لہٰذا یہ مسلمہ کلیہ ہے کہ کسی بھی انسان کے دعویٰ اور عقیدے کو پہنچاننے کے لیے دوسروں کے قول کی بجائے خود مدعی کا اپنا قول قوی ترین دلیل ہوتا ہے۔

شیعی علماء جو تحریف قرآن کے مدعی ہیں:

محمد بن حسن صفار:

اس نے اپنی مشہور کتاب بصائر الدرجات میں ایک عنوان اس طرح قائم کیا ہے:

باب فی الأئمة أن عندهم جميع القرآن انزل على رسول الله۔

یعنی اس عقیدے کے بیان میں کہ ائمہ کے پاس وہ قرآن مکمل طور پر موجود ہے جسے رسول اللہﷺ پر نازل کیا گیا تھا۔

پھر اس باب کے تحت وہ ایسی روایات و اخبار کو نقل کرتا ہے جن میں قرآنِ کریم میں تحریف کے واقع ہونے کی تصریح موجود ہے جیسا کہ اس نے ابوجعفر کا یہ قول نقل کیا ہے:

ما يستطيع احد ان يدعى انه جمع القرآن غير الاوصياء ای غير الأئمة۔

ائمہ کے علاؤہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب نہیں کہ اس نے قرآن کو جمع کیا ہے۔

اس کے علاؤہ اس نے اپنی سند کے ساتھ سالم بن ابی سلمہ سے بیان کیا ہے:

قال قراء رجل على ابی عبدالله عليه السلام وانا اسمع حروفا من القرآن ليس على ما يقرأها الناس فقال ابو عبدالله مه مه كف عن هذه القراة اقرأ كما يقرأ الناس حتى يقوم القائم فاذا قام فقرأ كتاب الله على حده واخرج المصحف الذی كتبه على عليه السلام۔ 

(بصائر الدرجات الكبرى فضائل آلِ محمد: جلد 4 صفحہ 413)۔

سالم بن ابی سلمہ کہتا ہے کہ ایک شخص نے میری موجودگی میں ابو عبداللہ کے سامنے قرآن کی چند آیات تلاوت کیں میں اس کی قراءت کو سن رہا تھا مگر یہ قراءت اس طرح کی نہیں تھی جو عام لوگ کیا کرتے ہیں چنانچہ ابوعبداللہ نے فرمایا: رکو رکو اس طرح نہ پڑھو! بلکہ عام لوگوں کی طرح قراءت کرو یہاں تک کہ امام منتظر کا ظہور ہوجائے پس جب ابوعبداللہ تنہا ہوتے قیام کرتے اور قراءت کرنے لگتے تو اس مصحف کو نکال لیتے جسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لکھا تھا پھر اس کے مطابق قراءت کیا کرتے۔

ابونصر محمد بن مسعود المعروف عیاشی:

اس کا شمار بھی ان شیعی علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی مؤلفات کو ایسی روایات سے بھر دیا ہے جن سے قرآن کریم میں تحریف کا ثبوت ملتا ہے۔ اس نے اپنی تفسیر کی کتاب میں اپنے ائمہ کی طرف منسوب روایات کی بہتات کر دی ہے جن سے معاذ الله یہ پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم کا بہت سارا حصہ ضائع ہو گیا ہے یا اس میں زیادتی کا ارتکاب ہوا ہے۔ انہی روایات میں سے ایک روایت یہ ہے:

صفحہ 1 از 13