شیعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور قرآن کریم

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 10 از 13

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ۝(سورۃ الفاتحه آیت 6)۔

چلا ہم کو سیدھے راستے پر ۔

شیعہ کہتے ہیں کہ صراط مستقیم سے مراد سیدنا علیؓ بن ابی طالب ہیں اس تفسیر کو ان کے امام علی بن ابراہیم القمی نے اپنی تفسیر میں ابو عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ ان کا قول ہے کہ:

الصراط المستقيم هو امير المؤمنين ومعرفة الامام۔ سیدھی راہ سے مقصود امیر المومین (کی ذات) اور امام کی معرفت ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

الٓمّ۞ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيْهِ ۛ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۞ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ ۞ (سورۃ البقره: آیت 3-1) 

الف لام میم یہ کتاب (کہ) کوئی شبہ اس میں نہیں ہدایت ہے (اللّٰه سے) ڈر رکھنے والوں کے لیے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔ اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اس پر جو آپ پر اتارا گیا اور (اس پر) جو آپ سے قبل اتارا گیا ہے۔

ان آیات کی تغیر و شیعی علماء قمی اور عیاشی نے اپنی اپنی تفسیروں میں درج کی ہیں اس کے مطابق ذالک الکتاب سے سیدنا علیؓ بن ابی طالب و مراد لیے گئے ہیں ھدی للمتقین میں اللمتقین کے لفظ سے شیعانِ علی مقصود ہے اور الذین یؤمنون بالغیب کا معنیٰ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے قائم (منتظر مہدی بقول شیعہ) کے ظہور پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ 

(تفسیر القمی جلد 1 صفحہ 30 تغیر العیاشی جلد 1 صفحہ 25)۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسۡتَحۡـىٖۤ اَنۡ يَّضۡرِبَ مَثَلًا مَّا ‌بَعُوۡضَةً فَمَا فَوۡقَهَا الخ۔ ‌(سورۃ البقره آیت 26)۔ 

بے شک الله اس سے ذرا نہیں شرماتا کہ کوئی مثال بیان کرے، مچھر کی یا اس سے بڑھ کر (کسی اور چیز کی) ۔

شیعہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں مذکور بعوضہ مچھر سے سیدنا علیؓ بن ابی طالب اور فما فوقھا اس سے بڑھ کر سے رسول اللّٰہﷺ مراد ہیں ان کلمات کی یہی تفسیر شیعی امام قمی نے اپنی تفسیر میں بیان کی ہے: (تفسیر القمی: جلد 1 صفحہ 34)۔

اس تفسیر سے سیدنا علیؓ کی شان و منزلت میں کھلی تنقیص اور ان کا بدترین استہزاء کیا گیا ہے، اس لیے کہ یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ عمومی طور پر مچھر کے لفظ سے جب کسی شئے کو تشبیہ دی جاتی ہے تو اس سے اس شئے کی ذلت اور حقارت کو اجاگر کرنا مقصود ہوتا ہے۔ کوئی مسلمان یہ تصور ہی نہیں کر سکتا کہ سیدنا علیؓ بن ابی طالب کی طرف اس حقارت کو منسوب کیا جائے، لہٰذا یہ تفسیر ان کی مدح نہیں بلکہ کھلی گستاخی اور صریح بے ادبی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

وَاَوۡفُوۡا بِعَهۡدِىۡٓ اُوۡفِ بِعَهۡدِكُمۡۚ وَاِيَّاىَ فَارۡهَبُوۡنِ۝ (سورۃ البقره آیت 40)۔

اور مجھ سے وعدہ پورا کر وہ تو میں تم سے وعدہ پورا کروں گا اور تم صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہوں۔

عیاشی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے:

(و اوفوا بعهدی) اى اوفوا بولاية على (اوف بعهدكم) ای اوفی لكم الجنة۔(تفسير العياشی: جلد 1 صفحہ 42)۔

مجھ سے وعدہ پورا کرو یعنی سیدنا علیؓ کی ولایت کا عہد نباؤ میں تم سے وعدہ پورا کروں گا یعنی میں تم سے کیا گیا جنت کا وعدہ پورا کروں گا۔

یه تفسیر آیت مذکورہ کے مضمون وسیاق سے ذرہ بھر بھی مناسبت نہیں رکھتی آیت میں بنو اسرائیل سے خطاب ہو رہا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہد و مواثیق کو پورا کرنے کی دعوت دی جارہی ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا فرمودہ نعمتوں کی شکر گزاری کرنے کی ہدایت دی جارہی ہے۔ شیعوں کے دعاوی کو اس کی تفسیر کے ساتھ کوئی ربط ہے نہ ہی کوئی تعلق۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

مَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنۡۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِىۡ كُلِّ سُنۡۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ‌ؕ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ۝(سورۃ البقره آیت 261)

جو لوگ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں ان کے مال کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ نہ ہے کہ اس سے سات بالیاں اگیں، ہر ہر بالی کے اندر سو دانے ہیں اور اللہ جسے چاہے زیادہ دیتا ہے، اللہ بڑا وسعت والا، بڑا علم والا ہے۔

شیعوں نے اس آیت کی جو تفسیر کی ہے وہ بڑی مضحکہ خیز اور حیرت انگیز ہے۔ فضل بن محمد الجعفی کا بیان ہے کہ میں نے ابو عبداللہ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا:

الحبة فاطمة والسبع السنابل سبعة من ولدها سابعهم قائمهم قلت الحسن قال الحسن: امام من الله مفترض طاعته ولكنه ليس من السنابل السبعة اولهم الحسين وآخرهم القائم فقلت: قوله فی كل سنبلة مائة حبة قال: يولد كل رجل منهم فی الكوفة مائة من صلبه وليس الا هؤلا والسبعة۔(تفسير العياشی: جلد 1 صفحہ 147)۔

دانہ سے مراد سیدہ فاطمہؓ ہے سات بالیوں سے اس کے سات بیٹے مقصود ہیں بایں طور پر کہ قائم ان میں سے ساتواں ہے میں نے کہا: حسن؟ فرمایا: حسن اللہ کی طرف سے متعین امام ہے اور اس کی اطاعت بھی لازم ہے۔ مگر ان کا شمار سات بالیوں میں نہیں ہوتا (یوں سمجھو کہ) ان کا پہلا حسین ہے اور آخری قائم ہے۔ میں نے پوچھا کہ فرمانِ الٰہی ہر ہر بالی کے اندر سو دانے ہیں کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا: کوفہ میں اولاد فاطمہ میں سے ہر ایک کی صلب سے سو بیٹے پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ کوفہ میں انہیں سات ہی کی نسل آباد ہوگی۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ الخ۔ (سورة النساء آیت 116)۔

یقیناً اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا اور گناہوں کو بخش دے گا۔

اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں عیاشی نے اپنی سند کے ساتھ ابو جعفر کی درج ذیل تشریح نقل کی ہے:

قال: أما قوله ان الله لا يغفر ان يشرك به يعنى انه لا يغفر لمن يكفر بولاية على، واما قوله ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء يعنى لمن والى عليا عليه السلام۔

(تفسير العياشی جلد 1 صفحہ 245)

صفحہ 10 از 13