شیعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور قرآن کریم

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 11 از 13

ابو جعفر نے کہا کہ فرمانِ الٰہی یقیناً الله اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اس کو نہیں معاف کرے گا جو سیدنا علیؓ کی ولایت کا منکر ہے اور فرمانِ الٰہی اور اس کے سوا اور گناہوں کو بخش دے گا کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو معاف کرے گا جو سیدنا علیؓ سے محبت کرتے ہیں۔

مذکورہ بالا روایت سے ہمارے اس مؤقف کو تقویت ملتی ہے کہ شیعہ اپنے ائمہ کی امامت کو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت اور اس کی وحدانیت پر برتری اور فوقیت دیتے ہیں، بلکہ ان کی امامت کو جملہ عبادات کی کلید باور کرتے ہیں۔ اس روایت میں بیان شدہ تفسیر سے بھی اسی عقیدہ کی جھلک نمایاں ہو رہی ہے کہ مغفرت صرف انہی لوگوں کی ہوگی جو ان کے آئمہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔ رہے وہ لوگ جو ان کی امامت میں دوسروں کو بھی شریک گردانتے ہیں ان کے لیے نہ بخشش ہے اور نہ ہی کوئی پروانہ نجات۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا‌ الخ (سورة الاعراف آیت 180)

اور اللہ ہی کے لیے اچھے اچھے (مخصوص) نام ہیں، سو انہی سے اسے پکارو۔

شیعوں نے اس فرمانِ الٰہی کی بھی ایسی تفسیر کی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں کو اللہ جل شانہ کے مقابل کھڑا ہونے اور اس کی عظمت و جلالت اور اس کی بے مثال شان کو چیلنج کرنے کی ہمت حاصل ہے۔ کہتے ہیں کہ اسماء اللہ الحسنی سے ان کے ائمہ مقصود ہیں ان کے امام کلینی نے اپنی سند کے ساتھ ابو عبداللہ سے اس آیت کے متعلق یہ قول نقل کیا ہے:

نحن والله الأسماء الحسنى التی لا يقبل الله من العباد عملا الا بمعرفتنا۔

(اصول الكافی كتاب الحجة باب النوادر جلد 1 صفحہ 143)۔

اللہ کی قسم! ہم وہ اسماء الحسنی ہیں کہ ہماری معرفت کے بغیر اللہ تعالیٰ کسی بھی بندہ کے عمل کو قبول نہیں کرتا ۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

وَقَالَ اللّٰهُ لَا تَـتَّخِذُوۡۤا اِلٰهَيۡنِ اثۡنَيۡنِ‌ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌ ۚ فَاِيَّاىَ فَارۡهَبُوۡنِ‏۝( سورة النحل آیت 51)

اور اللہ نے کہہ رکھا ہے کہ دو معبود نہ قرار دینا، معبود تو بس وہی ایک ہے سو تم لوگ صرف مجھی سے ڈرتے رہو۔“

شیعہ کہتے ہیں کہ فرمانِ الٰہی دو معبود نہ قرار دینا “ کا مطلب یہ ہے کہ تم دو امام نہ مان لینا اور فرمانِ الٰہی معبود تو بس وہی ایک ہے سے مراد یہ ہے کہ امام تو صرف ایک ہی ہے اس تفسیر کو عیاشی نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

وَاِنَّ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ لَاِبۡرٰهِيۡمَ‌ۘ۝(سورۃ الصافات آیت 83)۔

اور ان کے طریقہ والوں میں ابراہیم بھی تھے۔

اس آیت کی تفسیر میں شیعہ کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کا شمار بھی شیعانِ علی بن طالبؓ میں ہوتا ہے۔ اس تفسیر کو شیعی عالم ہاشم البحرانی نے اپنی کتاب البرہان فی تفسیر القرآن۔

(کتاب البرہان فی تفسیر القرآن جلد 24 صفحہ 21) میں بیان کیا ہے۔

میں کہتا ہوں کہ اس کھوٹی تفسیر کا بطلان روز روشن سے بھی زیادہ واضح ہے، اس لیے کہ جس بھی انسان کا عربی زبان کے ساتھ تھوڑا سا بھی تعلق ہے وہ جانتا ہے کہ فرمانِ الٰہی وان من شیعتہ میں ھاء ضمیر کا مرجع پہلے ذکر شدہ نوحؑ ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ نوحؑ کے طریقہ والوں میں ابراہیم بھی تھے، آیت کا یہ مفہوم ہر شخص کے لیے واضح ہے ماسوا اس شخص کے کہ جس کی بصیرت کو سلب کر لیا گیا ہو، آپ سورۃ الصافات پوری پڑھ جائے کہیں بھی سیدنا علیؓ کا نام مذکور نہیں ہوا، چہ جائیکہ اس آیت میں ان کے نام کو داخل سمجھا جائے اور اسے ضمیر کا مرجع تسلیم کیا جائے ۔“

اسی طرح شیعوں نے سیدنا علی بن ابی طالبؓ کے بارے میں غلو کرتے ہوئے فرمان الٰہی وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفۡسَهٗ‌ الخ (سورۃ آل عمران آیت 30) اور الل تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے میں بیان شدہ لفظ نفس سے بھی سیدنا علیؓ بن ابی طالب کو مراد لیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

وَلَـقَدۡ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ وَاِلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكَ‌ۚ لَئِنۡ اَشۡرَكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏۝ (سورة الزمر آیت 65)۔ 

اور واقعہ یہ ہے کہ آپ کی طرف بھی اور جو آپ سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی طرف بھی یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ (اے مخاطب !) اگر تو نے شرک کیا تو تیرا عمل (سب) غارت ہو جائے گا اور تو خسارہ میں پڑ کر رہے گا۔

 قوله لئن اشرکت اى لئن امرت بولاية احد مع ولاية على من بعدك۔ (البرهان فی تفسير القرآن جلد 24 صفحہ 83)۔

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے شیعی عالم ہاشم البحرانی لکھتا ہے:

فرمانِ الٰہی اگر تو نے شرک کیا کا معنی یہ ہے کہ اگر تو نے اپنے بعد سیدنا علیؓ کی ولایت کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کیا۔

یعنی اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو مخاطب کر کے یہ فرمایا ہے کہ اگر آپ نے اپنے بعد ولایت و خلافت کے لیے سیدنا علیؓ کی ولایت کے ساتھ دوسرے کسی شخص کی ولایت کا بھی حکم دیا تو آپ کے تمام اعمال غارت ہو جائیں گے اور آپ خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ اس کفر و الحاد سے اللہ کی پناہ!۔

اسی طرح شیعہ حضرات نے اللہ تعالیٰ کے فرمان:

وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ الخ۔ (سورة التوبه آیت 3)۔

اور اعلان (کیا جاتا ہے) اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے لوگوں کے سامنے میں مذکور لفظ اذان کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ اس سے سیدنا علیؓ بن ابی طالب مراد لیے گئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

وَالتِّيۡنِ۝ وَالزَّيۡتُوۡنِۙ‏۝ وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَۙ۝(سورۃ التین آیت 1۔2۔3) 

قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور طور سیناء کی۔

شیعہ اس آیت کی تفسیر یوں کرتے ہیں کہ التین اور زیتون سے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ اور طور سینین سے سیدنا علی بن ابی طالبؓ کو مراد لیا گیا ہے۔ (البرہان فی تفسیر القرآن : جلد 30 صفحہ 77)

صفحہ 11 از 13