شیعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور قرآن کریم

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 12 از 13

جمہور علماء کرام کہتے ہیں کہ یہ سورۃ مبارکہ مکیہ ہے علماء اہل السنۃ میں سے امام قرطبی وغیرہ نے اسی مؤقف کو راجح قرار دیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ مکمل سورت سیدنا علیؓ کی سیدہ فاطمہؓ ہی سے شادی وزواج سے قبل نازل ہوئی سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کی ولادت تو بہت بعد کی بات ہے۔ اس سے صاف اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان آیات سے اور ان کی طرح دوسری آیات سے شیعہ حضرات کا اپنے ائمہ کی ولایت کو ثابت کرنا کس قدر لغو اور بے کار کوشش ہے۔

اسی طرح انہوں نے فرمانِ الٰہی:

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِى السِّلۡمِ کَآفَّةً ۖ وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ‌ؕ اِنَّهٗ لَـکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ۝ (سورة البقره آیت 208)۔

اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

کی یہ باطل اور نامعقول تفسیر کی ہے کہ خطوات الشیطان و شیطان کے نقش قدم سے رسول اللہﷺ کے وزیروں سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی ولایت مقصود ہے شیعی امام عیاشی نے اپنی تفسیر میں یہ روایت نقل کی ہے:

عن ابی بصير قال: سمعت ابا عبدالله يقول فی هذه الآية: ا تدرى ما السلم؟ قلت انت اعلم قال: ولاية على الأئمة والأوصياء من بعدم وخطوات الشيطان والله ولاية فلان و فلان وقد جاء تفسير وقوله فلان و فلان فی رواية عنه قال: هی ولاية الأول والثانی۔(تفسير العياشی- جلد 1 صفحہ 106)۔

ابو بصیر کا بیان ہے کہتا ہے کہ میں نے ابو عبداللہ سے اس آیت کے متعلق یہ کہتے ہوئے نا کیا تو جانتا ہے کہ سلم کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے کہا: اس سے سیدنا علیؓ کی اور ان کے بعد کے آئمہ و اوصیاء کی ولایت مراد ہے اور خطوات الشیطان سے مراد قسم بخدا فلان اور فلان کی ولایت لی گئی ہے۔ ان کے قول فلان اور فلان کی وضاحت خود ان سے مروی دوسری روایت میں موجود ہے کہ یہ پہلے اور دوسرے کی ولایت ہے۔

پہلے سے شیعہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ خلیفہ اول اور دوسرے سے خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطابؓ کو مراد لیتے ہیں۔ نیز کہتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِكُمۡ بِالۡمَنِّ وَالۡاَذٰىۙ الخ۔(البقره آیت 264)۔

اے ایمان والو! اپنے صدقوں کو احسان (جتلا کر) اور اذیت (پہنچا کر) ضائع نہ کرو۔“ سیدنا عثمانؓ اور سیدنا معاویہؓ کے متعلق نازل ہوا ہے۔ ان کے امام عیاشی نے اپنی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے:

عن أبی جعفر قال فی هذه الآية نزلت فی عثمان وجرت فی معاوية واتباعها 

(تفسير العياشی جلد 1 صفحہ 147)

ابو جعفر کا قول یہ ہے کہ یہ آیت عثمان کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ سیدنا معاویہؓ اور ان دونوں کے متبعین بھی اس آیت کا مصداق ہیں

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا ثُمَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا ثُمَّ ازۡدَادُوۡا كُفۡرًا لَّمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَـغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَـهۡدِيَهُمۡ سَبِيۡلًا۝ (سورۃ النساء آیت 137)۔

بے شک جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہو گئے پھر ایمان لائے، پھر کافر ہو گئے پھر کفر میں ترقی کرتے گئے، اللہ تعالیٰ ہرگز ان کی مغفرت کرے گا اور نہ انہیں سیدھی راہ دکھائے گا۔

اس فرمانِ الٰہی کے متعلق شیعہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں نبی کریمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے خصوصاً تین خلفاء سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور عبد الرحمٰن بن عوف رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر لوگ مراد لیے گئے ہیں۔ ان کے بقول ان اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کفر کو اختیار کیا۔ شیعوں کے امام اور حجۃ محمد بن یعقوب الکلینی نے ابو عبداللہ سے اس آیت کے بارہ میں یہ قول نقل کیا ہے:

قال: انها نزلت فی فلان وفلان وفلان امنوا بالنبی فی اول الامر وكفروا حين عرجت عليهم الولاية حين قال النبیﷺ من كنت مولاه فعلی مولاه ثم امنوا بالبيعة لأمير المؤمنين عليه السلام ثم كفروا حيث مضى رسول الله، فلم يقروا بالبيعة ثم ازدادو كفرا باخذهم من بايعهم بالبيعة لهم، فهؤلاء لم يبقى فيهم من الايمان شیء۔

(اصول الكافی فی كتاب الحجة باب فيه نكت ونتف من التنزيل فی الولاية جلد 1 صفحہ420)۔

یہ آیت فلان اور فلان اور فلان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ شروع اسلام میں نبی اکرمﷺ پر ایمان لائے پھر جب نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولا علی اس کا مولا ، اس طرح ان پر ولایت کو پیش کیا گیا تو یہ کافر ہوگئے، پھر امیر المؤمنین سیدنا علیؓ کی بیعت کر کے ایمان لائے، مگر رسول اللہﷺ کے رخصت ہو جانے کے بعد یہ لوگ اپنی بیعت پر برقرار نہ رہے اور کافر ہو گئے اور کفر میں ترقی کرتے گئے حتٰی کہ انہوں نے بیعت کرنے والوں سے اپنے حق میں بیعت حاصل کر لی لہٰذا یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے پاس ایمان نام کی کوئی شئے باقی نہیں رہی۔

یہ لوگ فلاں فلاں اور فلاں سے تین خلفاء راشدین کو مراد لیتے ہیں جیسا کہ ان کے امام عیاشی کی نقل کردہ اس روایت سے وضاحت ہوتی ہے۔

عن جابر قال: قلت لمحمد بن على عليه السلام فی قول الله فی كتابه ان الذين امنوا ثم كفروا قال: هما ابوبكر وعمر والثالث عثمان والرابع معاوية و عبد الرحمن وطلحة وكانوا سبعة عشر رجلا (تفسير العياشی جلد 1 صفحہ 279)۔

جابر کا بیان ہے کہ میں نے محمد بن علی سے قرآن میں اللہ کے فرمان ان الذین امنوا تم کفروا کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا وہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہیں تیسرا سیدنا عثمانؓ اور چوتھا سیدنا معاویہؓ (ان کے علاؤہ) عبد الرحمٰن بن عوفؓ اور طلحٰہ سمیت کل سترہ افراد ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

وَمَا جَعَلۡنَا الرُّءۡيَا الَّتِىۡۤ اَرَيۡنٰكَ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الۡمَلۡعُوۡنَةَ الخ۔(سورة الاسراء آیت 60)۔

اور ہم نے جو منظر آپ کو دکھلایا تھا اسے ہم نے لوگوں کی آزمائش کا سبب بنا دیا اور اس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت آئی ہے۔

شیعہ کہتے ہیں کہ قرآن میں مذکور الشجرة الملعونہ سے مراد بنو امیہ کے لوگ ہیں۔(تفسير العياشی جلد 2 صفحہ 297)

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

صفحہ 12 از 13