شیعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور قرآن کریم

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 13 از 13

او كظلمت فی بحر لجی يغشه موج من فوقه موج من فوقه سحاب ظلمات بعضها فوق بعض اذا اخرج يده لم يكد يرها ومن لم يجعل الله له نورا فما له من نور۔ (البرهان فی تفسير القرآن جلد 18 صفحہ 133)۔ 

یا (وہ اعمال) ایسے ہیں جیسے بڑے گہرے سمندر کے اندرونی اندھیرے کو اس ایک (بڑی) موج نے ڈھانپ لیا ہو، پھر اس (موج) کے اوپر (ایک اور) موج ہو (پھر) اس کے اوپر بادل ہو (غرض) اوپر تلے اندھیرے ہیں، اگر کوئ دیکھنے کا احتمال تک نہیں اور جس کو اللہ ہی نور نہ دے اس کے لیے (کہیں سے) نور نہیں۔ اس آیت میں ظلمات سے بقول شیعہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ مقصود ہیں۔ یغشٰہ موج سے سیدنا عثمانؓ بعضها فوق بعض سے سیدنا معاویہؓ اور بنو امیہ کے فتنے مراد لیے گئے ہیں۔ اس تفسیر کو شیعی امام البحرانی نے اپنی کتاب البرہان فی تفسیر القرآن میں بیان کیا ہے۔ (البرہان فی تفسیر القرآن: جلد 18 صفحہ 133)

اسی طرح کی خرافات کے ساتھ شیعوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان:

 وَنُرِىَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ۝(سورة القصص آیت 6)۔

فرعون و ہامان اور ان کے تابعین کو امان میں سے وہ کچھ دکھلائیں گئے جن سے وہ بچنا چاہتے تھے۔“

کی تفسیر کی ہے، کہتے ہیں: کہ اس آیت میں مذکور فرعون اور ہامان سے ابوبکر اور عمر مراد ہیں۔ اس بےہودہ تفسیر کو مشہور شیعی عالم نعمۃ الله الجزائری نے اپنی کتاب الانوار النعمانیہ میں درج کیا ہے۔

(الانوار العمانية: جلد 2 صفحہ 89)

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ‌ۘ اِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ابۡنِ لِىۡ عِنۡدَكَ بَيۡتًا فِى الۡجَـنَّةِ وَنَجِّنِىۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّنِىۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَۙ۝ (سورة التحريم آیت 11)۔

اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے جو مؤمن ہیں مثال بیان کرتا ہے فرعون کی بیوی کی جبکہ اس نے دعا کی: اے پروردگار ! میرے واسطے جنت میں اپنے قریب مکان بنا دے اور مجھ کو فرعون اور اس کے عمل (کے اثر) سے بچا اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی بچا دے۔

اس آیت میں بیان شدہ مثال کی تفسیر کرتے ہوئے شیعی امام بحرانی نے لکھا ہے کہ اس سے رسول اللهﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہؓ اور ان کے شوہر سیدنا عثمان بن عفانؓ کو مراد لیا گیا ہے۔ فرمانِ الٰہی ونجنی من فرعون و عملہ میں فرعون اور اس کے عمل سے سیدنا عثمانؓ اور اس کے عمل مراد ہیں اور فرمانِ الٰہی ونجنی من القوم الظالمین میں مذکور ظالموں کی قوم سے بنو امیہ مقصود ہیں۔

(البرہان فی تفسیر القرآن: جلد 29 صفحہ 358)

اسی طرح ان لوگوں نے اللہ تعالی کے فرمان:

وَجَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَمَنۡ قَبۡلَهٗ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ بِالۡخَـاطِئَةِ‌ۚ‏ ۝(سورة الحاقة سورۃ 9)۔

اور فرعون اور اس کے قبل والوں نے اور الٹی ہوئی بستیوں والوں نے (بڑے بڑے) قصور کیے۔“

کی تفسیر میں بھی سنگدلی وقساوت اور جبر و خشونت سے لبریز افتراءات کے ذریعہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مطعون کیا ہے۔ شیعی عالم شرف الدین النجفی اپنی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کرتا ہے:

عن حمران انه سمع جعفر يقول فی هذه الآية: وجا فرعون يعنى الثالث ومن قبله يعنى الأولين، وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ، بِالۡخَـاطِئَةِ‌ يعنى عائشة۔ 

حمران کا بیان ہے کہ اس نے ابو جعفر کو اس آیت (کی تفسیر میں) یہ کہتے ہوئے سنا کہ وجاء فرعون میں فرعون سے تیسرا (یعنی سیدنا عثمانؓ مراد ہیں) ومن قبلہ سے دو پہلے (سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ) مراد ہیں، جبکہ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ بِالۡخَـاطِئَةِ‌ سے سیدہ عائشہؓ کو مراد لیا گیا ہے۔

اس کے علاؤہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فرمان:

وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالبَغى۔

اور اللہ تعالی تمہیں کھلی برائی سے اور مطلق برائی سے اور ظلم و سرکشی سے روکتا ہے۔“

میں بیان شدہ فحشاء، منکر اور بغی سے سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ ان کی خلافت مراد لیتے ہیں

 اس تفسیر کے لیے درج ذیل روایت نقل کرتے ہیں

عن أبی جعفر عليه السلام انه قال: ينهى عن الفحشاء الأول والمنكر الثانی البغى الثالث (تفسير العياشی: جلد 2 صفحہ 289)

ابو جعفر نے کہا ہے کہ (اللہ تعالیٰ) منع کرتا ہے فحشاء سے، یعنی پہلے منکر سے، یعنی دوسرے سے اور بغی سے یعنی تیسرے سے اول کے لفظ سے یہ سیدنا ابوبکر الصدیقؓ کو منکر کے لفظ سے خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروقؓ کو اور بغی کے لفظ سے خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفانؓ کو مراد لیتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں حرمتِ رسول اللہﷺ اصحابِ رسول اللہﷺ اور امہاتُ المؤمنینؓ کی پاکیزہ سیرتوں کی پاسبانی کرنے والے گروہ میں شامل فرمائے۔


صفحہ 13 از 13