شیعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور قرآن کریم

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 13

عن ابراهيم بن عمر قال: قال ابو عبدالله عليه السلام ان فی القرآن ما مضى وما يحدث وما هو كائن، كانت فيه اسماء والرجال فالقيت وانما الاسم الواحد منه في وجوه لا تحصى يعرف ذلك الوصاة۔

(تفسير العياشی: جلد 1 صفحہ 12)۔

ابراہیم بن عمر کا بیان ہے کہ ابوعبداللہ نے فرمایا کہ: قرآن میں زمانہ ماضی حال اور آئندہ کے تمام واقعات موجود ہیں اس میں لوگوں کے نام بھی مذکور تھے جنہیں حذف کر دیا گیا حالانکہ ان میں سے اکیلے ایک ہی نام کے بے شمار پہلو تھے جنہیں ائمہ ہی جانتے ہیں۔

ایک روایت اس طرح ہے:

لولا انه زيد فی كتاب الله ونقص منه ما خفی حقنا على ذی حجى۔

اگر کتاب اللہ میں کمی اور زیادتی نہ ہو چکی ہوتی تو عقلمندوں سے ہمارے حقوق کبھی بھی اوجھل نہ ہوتے۔

اس روایت میں کتاب اللہ میں کمی اور زیادتی کے واقع ہونے کی کھلی صراحت موجود ہے ایک روایت یہ بھی ہے جسے اس نے اپنی سند کے ساتھ ابوبصیر سے نقل کیا ہے:

قال: قال ابو جعفر بن محمد خرج عبدالله بن عمر من عند عثمان فلقی امیر المؤمنين صلوات الله عليه فقال له: يا على بيتنا الليلة فی امر نرجوا ان يثبت الله هذه الامة فقال امير المؤمنين لن يخفى على ما بيتم فيه حرفتم وغيرتم وبدلتم تسعمائة حرف ثلاث مائة حرفتم وثلاثمائة حرف غيرتم وثلاثمائة بدلتم ثم قرأ: فويل للذين يكتبون الكتاب بأيديهم ثم يقولون هذا من عند الله۔ 

ابوبصیر کا بیان ہے کہ ابوجعفر بن محمد نے فرمایا کہ عبداللہ بن سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ کے ہاں سے اٹھے اور جا کر حضرت امیر المومنین علیؓ سے ملاقات کی اور ان سے کہا: اے علیؓ! ہم نے رات کو ایک تدبیر طے کی ہے ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے امت کو مضبوطی اور استحکام عطا فرمائے گا امیر المؤمنین نے فرمایا: مجھ سے تمہارا رات والا منصوبہ مخفی نہیں ہے تم نے تو نو سو کلمات میں تحریف تغیر اور تبدیلی کا ارتکاب کیا ہے تین سو کلمات میں تم نے تحریف کی ہے تین سو کلمات کو تم نے بدلا ہے اور تین سو کلمات میں تم نے تغیر کر دیا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ان لوگوں کے لیے ویل ہے جو اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتاب کو اللہ تعالیٰ کی طرف کی کہتے ہیں۔

ان روایات کے علاؤہ عیاشی نے بہت ساری دوسری روایات اپنی تفسیر میں درج کیں ہیں ان سب میں قرآن کریم میں تحریف واقع ہونے کی واضح صراحت موجود ہے ان کو پڑھنے سے اس بات کا پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ عیاشی بھی تحریف کا قائل اور معتقد تھا۔ اس لیے کہ اس قدر کثرت سے ان روایات کو بیان کر دینا بذات خود اس امر کی دلیل ہے کہ مؤلف ان کو تسلیم کرتا ہے اور ان کے مفہوم و مدلول سے پوری طرح متفق ہے اس نے کسی بھی مقام پر ان روایات کے متعلق رتی برابر بھی تنقید نہیں کی حالانکہ ان روایات کی صحت کو تسلیم کر لیا جائے تو اس سے سیدنا علیؓ بن ابی طالب کی ذات بھی عیب دار ہوتی نظر آتی ہے کہ انہوں نے جانتے بوجھتے اس خلاف شریعت فعل پر سکوت اختیار کر لیا اور اس کو بدلنے کی ذرہ برابر سعی نہ فرمائی۔

علی بن ابراہیم القمی: 

یہ کلینی کا استاد قرآن کریم میں تحریف کا مشہور ترین مدعی اور اس باب میں کثرت سے حصہ لینے والا فرد ہے اس کی تفسیر تحریف کو ثابت کرنے والی روایات سے لبریز ہے نہ صرف یہی بلکہ اس نے اپنی تفسیر کے متعدد مقامات پر تحریفِ قرآن کا خود بھی دعویٰ کیا ہے اس نے اپنی تفسیر کے مقدمے میں لکھا ہے:

فالقرآن منه ناسخ ومنسوخ ومنه حرف مكان حرف ومنه على خلاف ما انزل الله۔

قرآن میں ناسخ آیات بھی ہیں اور منسوخ بھی اس میں ایک کلمے کی بجائے دوسرا کلمہ بھی لایا گیا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی تنزیل کے خلاف بھی آیات ہیں۔

اس اجمال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:

واما ما كان على خلاف ما انزل الله فهو قوله (كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ) (سوره آل عمران: 110) فقال ابو عبدالله لقارئ هذه الآية خير امة يقتلون امير المؤمنين والحسن والحسين ابنا على عليه السلام فقيل له: وكيف نزلت يابنِ رسول الله؟ فقال: انما نزلت كنتم خير أئمة اخرجت للناس وقال ايضاً وأما ما كان محرفا منه فهو قوله تعالیٰ (لٰـكِنِ اللّٰهُ يَشۡهَدُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اِلَيۡكَ‌ اَنۡزَلَهٗ بِعِلۡمِهٖ‌ ۚ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ يَشۡهَدُوۡنَ‌)

(سورة النساء: 166 ، تفسير القمی: جلد 1 صفحہ 5)۔

اللہ تعالیٰ کے نازل شدہ فرمان کے خلاف کی مثال الله تعالیٰ کا یہ فرمان ہے تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کے لیے ہی پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو ایک شخص نے اس آیت کی تلاوت کی تو دیدنا ابو عبداللہؓ نے اس سے کہا یہ بہترین امت ہے جس نے امیر المومنین کو قتل کر ڈالا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو بھی شہید کر دیا عرض کیا گیا: اے نواسہ رسول تو یہ آیت کس طرح سے نازل ہوئی ہے؟ تو آپ نے فرمایا: یہ آیت اس طرح نازل کی گئی ہے تم بہترین ائمہ ہو جنہیں لوگوں کے لیے پیدا کیا گیا ہے کلینی کا استاد قمی قرآنِ کریم میں تحریف شدہ آیت کی مثال دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان اس طرح نازل کیا گیا تھا جو کچھ آپ کی طرف سیدنا علیؓ کے متعلق اتارا گیا ہے اس کی بابت خود اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ اسے اپنے علم سے اتارا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں (جسے معاذ الله صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بدل ڈالا ہے)۔

صفحہ 2 از 13