شیعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور قرآن کریم

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 13

شیعی امام قمی نے اپنی تفسیر میں اس طرح کی بےاصل اور من گھڑت روایات کو جمع کر دیا ہے، مذکورہ بالا روایت کے مطابق اس آیت میں فی علی کے کلمات شیعوں کی طرف سے زائد ہیں۔ قرآن کریم میں زیادتی و اضافات کی مثالیں ویسے تو تمام شیعی کتب میں موجود ہیں، مگر قمی کی تفسیر کو اس باب میں خاص امتیاز حاصل ہے جس سے اس بات کو تقویت حاصل ہوتی ہے کہ قمی کا شمار بھی انہی شیعی علماء میں ہوتا ہے جو قرآن کریم میں تحریف کے داعی ہیں ان کے کئی ایک علماء نے بھی ہمارے اس مؤقف کی تائید کی ہے مثلاً طیب موسیٰ الجزائری نے تفسیر قمی کی مدح سرائی کرتے ہوئے تحریف القرآن کے عنوان کے تحت لکھا ہے

بقى شیء يهمنا ذكره وهو ان التفسير كغيره من التفاسير القديمة يشتمل على روايات مفادها ان المصحف الذی بين ايدينا لم يسلم من التحريف والتفسير وجوابه انه لم ينفرد المصنف بذكرها بل وافقه فيه من المحدثين المتقدمين والمتاخرين عامة وخاصة۔

(مقدمة طيب موسىٰ الجزائری على تفسير القمی جلد 1 صفحہ 22)۔

ایک قابلِ ذکر بات رہ گئی ہے وہ یہ کہ تفسیر قمی یوں تو قدیم تفاسیر کی طرز پر ہے مگر یہ ایسی روایات پر زیادہ مشتمل ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو قرآن اس وقت ہمارے پاس موجود ہے یہ تحریف و تغیر سے محفوظ نہیں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ان روایات کے بیان کرنے میں مصنف منفرد نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ متقدمین اور متاخرین خاص اور عام سبھی محدثین کا اتفاق ہے۔

محمد بن یعقوب الکلینی:

اس کا شمار ان کبار شیعی علماء میں سے ہوتا ہے جنہوں نے تحریف کے قول اور دعویٰ کی بنیاد ڈالی اور اس میں سب سے بڑا کردار ادا کیا۔ اس نے اپنی کتاب الکافی جسے شیعہ بلا شرکت غیرے اصح الكتب قرار دیتے اور اپنے دینی امور میں اسے معتمد سمجھتے ہیں میں ایسی روایات کثیر تعداد میں جمع کر دی ہیں جن میں قرآنِ کریم کی تحریف کے متعلق صاف اور صریح دلالت موجود ہے اور اس میں کسی قسم کی تأویل یا تشریح کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے یہ روایات کتاب کے مختلف مقامات پر مذکور ہیں ان میں سے چند ایک کو ذیل میں بیان کیا جاتا ہے۔

کلینی نے ایک باب قائم کیا ہے کہ مکمل قرآن ائمہ نے جمع کیا ہے اور صرف ائمہ ہی قرآنِ کریم میں بیان شدہ علوم کو جانتے ہیں اس عنوان کے تحت اس نے اپنی سند کے ساتھ درج ذیل روایات نقل کی ہیں:

فعن جابر قال: سمعت ابا عبدالله عليه السلام يقول: ما ادعى احد من الناس انه جمع القرآن كله كما انزل الله الا كذاب وما جمعه وحفظه كما نزل الله تعالیٰ الا على بن ابى طالب علیه السلام والأئمه بعده۔

جابر (جعفی) کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا ابو عبداللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں میں سے اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے قرآن کو اس کے نزول کے مطابق جمع کیا ہے تو وہ کذاب ہے اس لیے کہ نزول کے مطابق قرآن کو صرف سیدنا علیؓ نے اور ان کے بعد آنے والے آئمہ نے ہی محفوظ اور جمع کیا ہے۔

اسی طرح کلینی نے قرآن میں ولایت کے متعلق لطائف و نکات کے بیان کے تحت بھی بہت ساری روایات کو درج کیا ہے۔ انہی میں سے ایک روایت میں اس کی اپنی سند کے ساتھ ابو عبداللہؓ کا یہ قول مذکور ہے:

عن جابر الجعفى عن ابی عبدالله عليه السلام قال: نزل جبريل عليه السلام بهذه الآية على محمد صلى الله عليه وآله وسلم هكذا بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ اَنۡ يَّڪۡفُرُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فی علی بَغۡيًا۔

جابر بھی کا بیان ہے کہ ابو عبداللهؓ نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے اس آیت (بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ اَنۡ يَّڪۡفُرُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بَغۡيًا) کو در حقیقت محمدﷺ پر یوں نازل کیا تھا بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ اَنۡ يَّڪفُرُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فی علی بَغۡيًا یعنی بری ہے وہ چیز جس کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ہے کہ انکار کرتے ہیں اس (کلام) کا جو اللہ نے سیدنا علیؓ کے متعلق نازل کیا ہے۔ (سورة بقرہ: 90)۔

اس روایت میں فی علی کے الفاظ اس قرآن میں قطعاً نہیں ہیں جسے محمدﷺ پر نازل کیا گیا ہے یہ شیعہ کے اپنے زیادہ کردہ اور من گھڑت الفاظ ہیں۔

اسی طرح کلینی نے اپنی سند کے ساتھ ابو عبداللہؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: نزل جبريل بهذه الآية هكذا يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نزلت فی على نورا مبينا اصول الكافی۔

(كتاب الحجة: جلد 1 صفحہ 417)۔

جبریل علیہ السلام نے قرآن کی اس آیت کو ان الفاظ میں اتارا تھا اے وہ لوگو! جنہیں کتاب عطا کی گئی ہے تم علی کے متعلق اتارے گئے میرے نور مبین پر ایمان لاؤ۔

حقیقت یہ ہے کہ جس بھی انسان کو قرآنِ پاک کے ساتھ تھوڑا سا مس ہے وہ جانتا ہے کہ کلینی کے بیان کردہ الفاظ قطعی طور پر قرآن کے الفاظ نہیں ہیں اگر وہ اپنی ذکر کردہ آیت سے سورۃ نساء کی آیت مراد لینا چاہتا ہے تو یہ آیت بھی اس کی بیان کردہ روایت میں مذکور الفاظ سے یکسر مختلف ہے سورۃ نساء کی آیت اس طرح ہے يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّـطۡمِسَ وُجُوۡهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰٓى اَدۡبَارِهَاۤ (سوره نساء : 47) اے وہ لوگو! جنہیں کتاب مل چکی ہے اس (کتاب) پر ایمان لاؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے تصدیق کرنے والی اس (کتاب) کی جو تمہارے پاس ہے قبل اس کے کہ ہم چہروں کو مٹا ڈالیں اور چہروں کو ان کے پیچھے کی جانب الٹا دیں۔

ابو عبداللہ محمد بن النعمان، ملقب به شیخ مفید:

اس نے بھی قرآن کریم میں تحریف اور تغیر کے وقوع کی صراحت کی ہے۔ اس نے اپنی کتاب اوائل المقالات میں باب قائم کیا ہے القول فی تاليف القرآن وما ذكر قوم فيه من الزيادة والنقصان یعنی قرآن کے جمع اور قوم (شیعہ) کے اس میں زیادتی اور نقصان کے دعویٰ کا بیان اس کے بعد شیخ مفید لکھتا ہے:

ان الاخبار قد جاءت مستفيضة عن أئمة الهدى من آل محمد باختلاف القرآن وما احدثه بعض الظالمين من الحذف والنقصان۔ 

صفحہ 3 از 13