شیعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور قرآن کریم

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 4 از 13

آلِ محمدﷺ سے وابستہ آئمہ ہدیٰ سے وارد ہونے والی ایسی روایات زبان زد خلق ہیں کہ قرآن میں اختلاف موجود ہے اور اس میں کچھ ظالموں (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی طرف سے کانٹ چھانٹ اور نقصان کا صدور ہوا ہے۔(اوائل المقالات: صفحہ 93)۔

ایک دوسرے مقام پر لکھا ہے:

واتفقوا على ان آئمة الضلال خالفوا فی كثير من تأليف القرآن وعدلوا منه عن موجب التنزيل وسنة النبیﷺ۔

(اوائل المقالات صفحہ 52)۔ 

شیعی ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ گمراہی کے مقتداؤں نے قرآن کی جمع و تالیف کے موقع پر اکثر مقامات میں تنزیلِ الٰہی اور سنتِ نبویﷺ سے انحراف کیا ہے۔ 

دوسرا مقصد:

متاخرین شیعی علماء اور قرآنِ کریم کی تحریف کی بابت ان کے اقوال:

قرآنِ کریم کے متعلق متاخرین شیعہ کا مؤقف بالکل وہی ہے جو متقدمین شیعہ کے ہاں معروف ہے اس میں ان کے مابین ذرہ بھر بھی اختلاف نہیں ہے سب کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جو قرآن اس وقت لوگوں کے پاس موجود ہے یہ نامکمل ہے اس میں ان کے خیال کے مطابق قطع و برید اور تحریف ہو چکی ہے اگر ان میں کوئی فرق ہے بھی سہی تو وہ صرف اس قدر کہ ان میں سے ہر ایک کا اس متفقہ مؤقف کو ثابت کرنے کا اسلوب جداگانہ ہے۔ پرانے شیعی علماء قرآنِ کریم میں مزعومہ تحریف کو پوری بے باکی اور صراحت کے ساتھ ثابت کرتے ہیں اس کا ثبوت ان کے وہ اقوال ہیں جن کا ذکر سابقہ بحث میں گزر چکا ہے۔

متاخرین شیعہ میں سے کچھ نے تو بطور تقیہ اہلِ سنت کے اس عقیدہ کی تائید اور موافقت کی ہے کہ قرآنِ کریم تحریف سے پاک اور بالکل محفوظ ہے لیکن کچھ دوسرے اصحاب جن کی تعداد پہلے گروہ سے زائد ہے نے قرآنِ کریم کے متعلق اپنے متقدمین علماء کے مؤقف پر بدستور قائم ہیں، یہ کھلے لفظوں میں کہتے ہیں کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے اس سلسلے میں وہ اپنے پیشرو علماء کے اقوال کو اور اپنے ائمہ کی طرف منسوب روایات کو بھی نقل کرتے ہیں انہوں نے اپنی کتابوں کو اس طرح کی روایات اور اقوال سے بھر دیا ہے۔

متاخرین شیعی علماء:

فیض الكاشانی:

اس نے قرآنِ کریم میں تحریف کی صراحت کی ہے اور اس حوالہ سے اس نے اپنے سے پہلے شیعی علماء کی کتب سے تحریف قرآن پر دلالت کرنے والی بہت ساری روایات کو بھی نقل کیا ہے یہاں تک کہ اس نے اپنی تفسیر کے چھٹے مقدمہ میں ایک عنوان قائم کیا ہے:

فی نبذ مما جاء فی القرآن وتحريفه وزياداته ونقصانه وتاويل ذالك۔

قرآن میں تحریف اضافات نقص اور اس کی تاویل کا بیان اس عنوان کے تحت بہت ساری روایات کو اس نے اپنی کتاب میں وارد کیا ہے ان روایات میں ایک یہ روایت بھی ہے جسے علی بن ابراہیم القمی نے اپنی تفسیر میں درج کیا ہے:

عن ابی عبدالله ان رسول اللهﷺ قال لعلىؓ ان القرآن خلف فراشی ف الصحف والحرير والقراطيس فخذوه واجمعوه ولا تضيعوه

ابو عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا علیؓ سے فرمایا: قرآن میرے بستر کے پیچھے صحیفوں ریشم اور کاغذوں میں موجود ہے اسے اٹھالو اور اسے جمع کرلو اور اسے ضائع نہ ہونے دو۔

اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے فیض الکاشانی نے لکھا ہے:

اقول المستفاد من جميع هذه الأخبار وغيرها من الروايات من طريق اهل البيت ان القرآن الذی بين اظهرنا ليس بتمامه كما انزل على محمدﷺ بل منه خلاف ما انزله الله و منه ما هو مغير محرف وانه قد حذف منه اشياء كثيرة منها اسم على وفی كثير من المواضع ومنها لفظة آل محمدﷺ عليهم غير مرة ومنها اسماء المنافقين فی مواضعها ومنها غير ذلك وانه ليس ايضا على الترتيب المرضى عند الله وعند رسولهﷺ انتهى۔ 

(كتاب الصافی فی تفسير القرآن: جلد 1 صفحہ 24)۔

میں کہتا ہوں کہ ان اخبار اور ان کے علاؤہ اہلِ بیت سے مروی دوسری روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قرآن جو ہمارے درمیان موجود ہے یہ پورے کا پورا وہ قرآن نہیں جسے محمدﷺ پر نازل کیا گیا بلکہ اس میں اللہ کے اتارے گئے کلام کے خلاف بھی موجود ہے تبدیل شدہ اور تحریف شدہ آیات بھی ہیں اس میں سے بہت سی اشیاء کو خارج کر دیا گیا ہے سیدنا علیؓ کے نام کو بیشتر مقامات سے ہٹا دیا گیا ہے آلِ محمد کے الفاظ کو کئی مقامات سے حذف کیا گیا ہے منافقین کے ناموں کو تمام جگہوں سے ہٹا دیا گیا ہے اس کے علاؤہ دوسرے ردو بدل بھی کیے گئے ہیں پھر یہ قرآن اللّٰه اور اس کے رسولﷺ کی پسندیدہ ترتیب پر بھی قائم نہیں ہے یہ شیعہ کے ممتاز مذہبی عالم فیض الکاشانی کی طرف سے قرآنِ کریم میں تحریف کے دعویٰ کی کھلی صراحت ہے۔

الحر العالمى محمد بن الحسین:

یہ وہ شخص ہے جس نے اپنی کتاب وسائل الشیعہ میں قرآنِ کریم میں تحریف کے صریح بہتان پر مشتمل روایات کو جمع کیا اور اپنی طرف سے ان روایات پر کسی قسم کے تبصرہ یا نقد کا اظہار تک نہیں کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایات اپنے تمام تر مدلولات سمیت اس کے نزدیک درست ہیں انہی روایات میں سے ایک روایت ہے جسے اس نے ابراہیم بن عمر کے واسطے سے ابو عبد اللہؓ نقل کیا ہے:

قال: ان فی القرآن ما مضى وما هو كائن وكانت فيه اسماء الرجال فالقيت وانما الاسم الواحد على وجوه لا تحضى يعرف ذلك الوصاة۔

(وسائل الشيعه: جلد 18 صفحہ 145)۔

(ابو عبداللہ) کہتے ہیں کہ قرآن میں زمانہ گذشتہ اور آئندہ کے اخبار و احوال موجود تھے (اس کے علاؤہ) اس میں لوگوں کے نام بھی مذکور تھے جنہیں حذف کر دیا گیا ہے، حالانکہ اکیلا ایک نام بھی بے شمار مطالب کا حامل تھا جن کی معرف صرف آئمہ کو حاصل ہوتی ہے۔

ابو الحسن العالمء النباطی:

اس نے اپنی کتاب "مرآۃ الانوارد مشکوۃ الاسرار" کے مقدمے میں متعدد مقامات پر قرآن میں تحریف کی صراحت کی ہے مثلاً وہ کہتا ہے:

اعلم ان الحق الذی لا محيص عنه بحسب الاخبار المتواتر الآتية وغيرها ان هذا القرآن الذى فى ايدينا قد وقع فيه بعد رسول اللهﷺ شیء من التغير واسقط الذين جمعوه بعده كثيرا من الكلمات والآيات وان القرآن المحفوظ عما ذكر الموافق لما انزله الله تعالىٰ ما جمعه على وحفظه الى ان وصل الى ابنه الحسن وهكذا انتهى الى القائم وهو اليوم عنده انتهى۔  

(مقدمه مرآة الانوار ومشكوة الاسرار للبناطی

صفحہ 4 از 13