شیعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور قرآن کریم

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 5 از 13

معلوم رہے کہ درج ذیل متواتر روایات کے علاؤہ دوسری اخبار کی رو سے یہ نا قابلِ تردید سچ ہے کہ یہ قرآن جو اس وقت ہمارے پاس موجود ہے اس میں رسول اللہﷺ کے بعد ردو بدل واقع ہوا ہے رسول اللہﷺ کے بعد جن لوگوں نے اسے جمع کیا (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین)انہوں نے ہی اس کی بہت ساری آیات اور کلمات کو حذف کر دیا تاہم جو قرآن ان عیوب سے پاک اور تنزیلِ الٰہی سے موافق ہے وہ علی کا جمع کردہ ہے جو ان کے پاس محفوظ شکل میں تھا، ان کے بیٹے حسن تک پھر درجہ بدرجہ قائم (منتظر) تک پہنچا اور اس وقت یہ قرآن ان کے پاس محفوظ ہے۔

نوری طبرسی (حسین بن محمد تقی النوری الطبرسی)

ان کا شمار متاخرین شیعی علماء کے اس مشہور و معروف گروہ سے ہے جو قرآن میں تحریف کا قائل اور مدعی ہے بلکہ یہ اس تحریک کا سب سے بڑا علمبردار اور نمایاں ترین کردار ادا کرنے والا شیعی عالم ہے اس نے نہایت درجہ کی جرات و بے باکی سے اس دعویٰ کا اظہار کیا اور یہ بھی کہا کہ یہ تمام شیعوں کا متفقہ قول ہے اس اعتبار سے اس نے اپنی حقیقت کو اور اسلام کے خلاف اپنے باطن کو پوری طرح آشکار کر دیا ہے اس مقصد کے تحت اس نے فصل الخطاب فی تحریف کتاب رب الارباب نامی کتاب لکھی ہے اس کتاب میں اس نے تحریف کے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوشش کو صرف کر ڈالا ہے اپنے ائمہ سے منقول روایات اور متقدمین کی تصریحات کے انبار لگا دینے کے بعد اس نے اپنی طرف سے ہرقسم کی عیارانہ تشریحات کو بطورِ استدلال کے پیش کیا ہے۔ اس کے علاؤہ اس نے اپنی کتاب میں قرآن میں تحریف کے منکر شیعی علماء کی گرفت کی ہے اور ان کے شبہات کا ازالہ کیا ہے ساتھ ہی انہیں اس مؤقف کے اختیار کرنے پر سخت ملامت بھی کی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ تحریفِ قرآن کے مؤقف کو ہی اختیار کریں ، کتاب کا مؤلف یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے مکروہ اور خبیث عمل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے قرب کا مستحق بن سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی مذکورہ بالا کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے:

وبعد فيقول العبد المذنب المسئى حسين تقى النوری الطبرسی) جعله الله من الواقفين ببابه المتمسكين بكتابه هذا كتاب لطيف وسفر شريف عملته فی اثبات تحريف القرآن وفضائح اهل الجور والعدوان وسميته فصل الخطاب فی تحريف كتاب رب الارباب وجعلت له ثلاث مقدمات وبابين واودعت فيه من بديع الحكمة ما تقربه كل عين وارجو ممن ينتظر رحمة المسيئون ان ينفعنی به فی يوم لا ينفع فيه مال ولا بنون۔ 

(مقدمه فصل الخطاب فی تحريف كتاب رب الارباب صفحہ 6)۔

و بعد! خطا کار اور گنہگار بندہ حسین تقی نوری طبرسی اللہ تعالیٰ سے اپنے در پر حاضری سے فیض یاب ہونے اور اپنی کتاب پر عمل پیرا ہونے والوں میں داخل فرمائے کہتا ہے کہ یہ عمدہ کتاب اور نفیس صحیفہ ہے جسے میں نے قرآن میں کئی گئی تحریف کو ثابت کرنے اور ظلم و زیادتی اور حد شکنی کرنے والوں کی ذلتوں کو نمایاں کرنے کی خاطر تالیف کیا ہے میں نے اپنی اس کتاب کا نام فصل الخطاب فی تحریف کتاب رب الارباب رکھا ہے یہ تین مقدمات اور دو ابواب پر مشتمل ہے اس کے اندر میں نے نادر و نایاب حکمتوں کو جمع کر دیا ہے جس سے ہر آنکھ کو ٹھنڈک محسوس ہوگی مجھے اس ذات سے امید ہے، جس کی رحمت گنہگاروں کے لیے مرغوب ہے کہ مجھے اس کتاب کے اجر سے اس دن سرفراز فرما دے جس دن مال کام آئے گا اور نہ ہی اولاد۔

ایسی گمراہی اور ضلالت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ۔

تیسرا مقصد:

قرآنِ کریم کی تحریف کے دعویٰ کو اپنی معتمد کتابوں میں بیان کرنے والے متقدمین اور متاخرین شیعی علماء کے نام:

  1. علی بن ابراہیم قمی نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں۔
  2.  نعمۃ الله الجزائری نے اپنی کتاب الانوار النعمانیہ میں۔
  3.  الفيض الكاشانی نے اپنی تفسیر الصافی میں۔
  4.  ابو منصور الطبرسی نے اپنی کتاب الاحتجاج میں۔
  5. محمد باقر مجلسی نے اپنی دو کتابوں بحار الانوار اور مرآة العقول میں۔
  6. محمد بن المعمان ملقب بہ مفید نے اپنی کتاب اوائل المقالات میں۔
  7. یوسف البحرانی نے اچھی کتاب الدرر النجفیہ میں۔
  8.  عدنان البحرانی نے اپنی کتاب مشارق الشموس الدریہ میں۔
  9. نوری الطبرسی نے اپنی کتاب فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب۔ 
  10.  مرزا حبیب الخوئی نے اپنی کتاب منہاج البراعة فی شرح نہج البلاغہ میں۔
  11. محمد بن یعقوب الکلینی نے اپنی کتاب الکافی میں۔
  12.  محمد العیاشی نے اپنی تفسیر میں۔
  13.  ابو جعفر الصفار نے اپنی کتاب بصائر الدرجات میں۔
  14. الاردبیلی نے اپنی کتاب حدیقہ الشیعہ میں۔
  15.  الکرمانی نے اپنی کتاب ارشاد العوام میں۔
  16.  الکاشانی نے اپنی کتاب ھدیۃ الطالبین میں۔

چوتھا مقصد:

اکابر شیعی علماء کی شیعوں کے محدث اول محمد بن یعقوب الکلینی کے متعلق گواہی کہ وہ قرآن کریم کے محرف ہونے کا مدعی و معتقد تھا: 

شیعوں کے اکابر علماء نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ کلینی قرآن میں تحریف و نقص کا معتقد تھا ذیل میں ان علماء کا تذکرہ کیا جاتا ہے جنہوں نے اس امر کی شہادت دی ہے۔

مفسر کبیر محمد بن مرتضیٰ الکاشانی المعروف فيض الكاشانی:

اس نے شیعوں کے ہاں مشہور و معروف اپنی تفسیر الصافی میں لکھا ہے:

واما اعتقاد مشائخنا فی ذلك فالظاهر من ثقة الاسلام محمد بن يعقوب الكلينی طاب ثراه انه كان يعتقد التحريف والنقصان فی القرآن لانه كان روى روايات فی هذا المعنى فی كتابه الكافی ولم يتعرض للقدح فيها مع انه ذكر فی اول الكتاب انه كان يثق بما رواه فيه۔

(تفسير الصافی جلد 1 صفحہ 52 مطبوعة الاعلمی بيروت)۔

رہا تحریفِ قرآن کی بابت ہمارے مشائخ کا عقیدہ تو حقہ الاسلام محمد بن یعقوب الکلینی اللہ تعالیٰ اس کی تربت کو ترو تازہ رکھنے کا واضح اور ظاہر عقیدہ یہی تھا کہ قرآن میں نقص اور تحریف ہوئی ہے اس لئے کہ انہوں نے اپنی کتاب صافی میں اسی مفہوم و مطلب کی کافی روایات وارد کی ہیں مگر ان پر کسی قسم کا کوئی اعتراض وارد نہیں کیا اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ انہوں نے کتاب کے آغاز میں یہ لکھا ہے کہ اس کتاب کے اندر بیان شده تمام روایات ان کے نزدیک قابلِ اعتماد ہیں۔

امام ابو الحسن العاملی:

یہ اپنی شہادت کا اس طرح اظہار کرتا ہے:

صفحہ 5 از 13