شیعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور قرآن کریم

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 6 از 13

اعلم ان الذی يظهر من ثقة الاسلام محمد بن يعقوب الكلينی طاب ثراه انه كان يعتقد التحريف والنقصان فی القرآن، لانه روى روايات كثيرة فی هذا المعنى فی كتابه الكافی الذی صرح فی اوله بانه كان يثق فيما رواه فيه ولم يتعرض لقدح فيها ولا ذكر معارض لها۔

(تفسير مرآة الانوار و مشكاة الاسرار مقدمه 2 فصل 4)۔

واضح رہے کہ ثقہ الاسلام محمد بن یعقوب الکلینی ان کی مرقد تروتازہ رہے کا یہ کھلا عقیدہ تھا کہ قرآن میں نقص اور تحریف ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے اسی مدلول پر مشتمل کثیر روایات کو اپنی کتاب الکافی میں درج کیا ہے، اور شروع کتاب میں یہ صراحت بھی کر دی ہے کہ اس کتاب کی تمام مرویات اس کے نزدیک صحیح ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ان روایات پر کسی قسم کی کوئی جرح کی ہے اور نہ ہی اس کی مخالف روایات کا تذکرہ کیا ہے۔

النوری الطبرسی:

اس نے اپنی کتاب فصل الخطاب کے تیسرے مقدمے میں لکھا ہے:

اعلم ان لهم فی ذلك اقوالاً مشهورها أثنان، اول وقوع التغيير والنقصان فيه وهو مذهب الشيخ الجليل على بن ابراهيم القمى شيخ الكلينی فی تفسيره صرح فی اوله وملأ كتابه من اخباره مع التزامه فی اوله بان لا يذكر فيه الاعن مشائخه وثقاته ومذهب تلميذم ثقة الاسلام الكلينی رحمه الله على ما نسبة اليه جماعة لنقله الاخبار الكثيرة الصريحة فی هذا المعنى فی كتاب الحجة خصوصا في باب النكت والنتف من التنزيل وفی الروضة من غير تعرض لردها او تاويلها۔

(فصل الخطاب فی اثبات تحريف كتاب رب الارباب: 23) 

معلوم رہے کہ اس مسئلہ (تحریف قرآن) کی بابت (شیعی) علماء کے کئی اقوال ہیں ان میں دو قول بہت مشہور ہیں پہلا قول یہ ہے کہ قرآن میں کمی بھی ہوئی ہے اور تحریف بھی۔ یہ ممتاز عالم اور کلینی کے استاد علی بن ابراہیم القمی کا اپنی تفسیر کے شروع میں تصریح شده مؤقف ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب کو اس مضمون کی روایات سے بھر دیا ہے اور اپنی کتاب کے اول میں انہوں نے اس بات کا التزام کیا ہے کہ وہ اس میں صرف اپنے مشائخ سے اور ثقہ راوی سے نقل شدہ روایات کو ہی درج کریں گے ان کے شاگرد ثقۃ الاسلام کلینی کا بھی یہی مؤقف ہے۔ جیسا کہ کچھ لوگوں نے ان کی طرف اس مؤقف کو منسوب کیا ہے اس لیے کہ انہوں نے اپنی کتاب کتاب الحجۃ میں خاص طور پر اس کے باب باب النکت والنتف من التنزیل اور اپنی کتاب الروضۃ اس مفہوم کی بہت ساری روایات کو کسی تردید یا تاویل کے بغیر درج کیا ہے۔

چوٹی کے شیعی علماء کی اس شہادت کے بعد کہ شیعہ اثناء عشریہ کا ثقۃ الاسلام کلینی قرآنِ کریم میں تحریف کا مدعی اور معتقد تھا میں شیعوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ جب تمہارے حدیث کے معتبر اور موثوق مصدر کے متعلق تمہارے ہی کباںٔر علماء کی یہ شہادتیں موجود ہیں، تو پھر آپ اس وقت اہلِ سنت سے کیوں الجھتے اور ناراض ہو جاتے ہو جب وہ مؤلف کافی کے متعلق وہی کچھ بیان کریں جو تمہارے اپنے علماء کی شہادتوں سے ثابت ہو چکا ہے۔ میری خواہش ہے کہ اس سوال کا مکمل صداقت اور حد درجہ صراحت کے ساتھ جواب دیا جائے۔

پانچواں مقصد:

اکابر شیعی علماء کے بیانات کہ قرآن کریم پر حرف گیری کرنے والی روایات تواتر اور شہرت کے درجہ پر فائز ہیں:

مفید شیعوں کا بہت بڑا عالم ہے اس نے اپنی کتاب اوائل المقالات میں لکھا ہے: ان الاخبار قد جاءت مستفيضة عن أئمه الهدى من آلِ محمدﷺ باختلاف القرآن وما احدثه بعض الظالمين فيه من الحذف والنقصان۔

(اوائل المقالات صفحہ 93)۔ 

آلِ محمدﷺ سے وابستہ ائمہ ہدی سے منقول ہونے والی روایات مشہورہ سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں اختلاف موجود ہے اور اس میں کچھ ظالموں (یعنی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی طرف سے قطع و برید کا صدور ہوا ہے۔

شیعوں کا ہی ایک امام ہے ابو الحسن العالمی اس نے اپنی کتاب تفسیر مرآة الانوار و مشکوة الاسرار کے دوسرے مقدمے میں لکھا ہے:

اعلم ان الحق الذى لا محيص عنه بحسب الاخبار المتواتر الآتية وغيرها ان هذا القرآن الذى فى ايدينا قد وقع فيه بعد رسول اللهﷺ شیء من التغييرات واسقط الذين جمعوه بعد كثيرا من الكلمات والآيات۔

(تفسير مرآة الانوار ومشكاة الاسرار : صفحہ 36)

معلوم رہے کہ درج ذیل متواتر روایات کے علاؤہ دوسری اخبار کی رو سے یہ ناقابل تردید سچ ہے کہ یہ قرآن جو اس وقت ہمارے پاس موجود ہے اس میں رسول اللہﷺ کے بعد رد و بدل وغیرہ واقع ہوا ہے رسول اکرمﷺ کے بعد جن لوگوں نے اسے جمع کیا تھا، انہوں نے ہی اس کی بہت ساری آیات اور کلمات کو حذف کر دیا۔

اسی طرح ان کا ایک اور مذہبی قائد ہے نعمۃ اللہ الجزائری اس نے اپنی کتاب الانوار النعمانیہ میں یوں لکھا ہے:

ان تسليم تواتره عن الوحى الالهى وكون الكل قد نزل به الروح الأمين يفضى الى طرح الاخبار المستفيضة بل المتواترة الدالة بصريحها على وقوع التحريف فی القرآن كلاماً ومادة واعراباً۔

(انوار النعمانية: جلد 2 صفحہ 357)۔

یہ تسلیم کر لینا کہ قرآن وحی الٰہی کے ذریعے سے متواتر ہے اور یہ کہ سارے کا سارا روح الامین (جبرائیل علیہ السلام) کا نازل کردہ ہے ایسی مشہور بلکہ متواتر روایات کو مسترد کر دینے کا باعث بنے گا جن میں کھلی صراحت موجود ہے کہ قرآن کے الفاظ میں ہے مفہوم میں اور اعراب میں تحریف واقع ہوئی ہے۔

محمد باقر مجلسی ہشام بن سالم کے واسطے سے ابو عبداللہ سے مروی حدیث: قال ان القرآن الذی جاء به جبرائيل عليه السلام الى محمدﷺ سبعة عشر الف آية۔

ابو عبداللہ فرماتے ہیں کہ وہ قرآن جسے جبرائیل علیہ السلام محمدﷺ کے پاس لائے تھے وہ ستر ہزار آیات پر مشتمل تھا۔ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

موثق وفی بعض النسخ عن هشام بن سالم موضع هارون بن سالم، فالخبر صحيح، فلا يخفى ان هذ الخبر وكثير من الاخبار الصحيحة فی نقص القرآن وتغييره وعندى ان الاخبار فی هذا الباب متواترة۔ 

(مرأة العقول: جلد 12 صفحہ 525)۔

یہ روایت توثیق شدہ ہے ہاں بعض نسخوں میں ہارون بن سالم کے بجائے ہشام بن سالم مذکورہ ہے تاہم یہ روایت درست ہے لہٰذا یہ بات پوشیدہ نہیں رہنی چاہیے کہ اس روایت کے علاؤہ دوسری بہت ساری صحیح روایات میں قرآن میں نقص اور رد و بدل کی صراحت ملتی ہے۔ میرے اس موضوع پر وارد ہونی والی جملہ روایات متواتر ہیں۔

صفحہ 6 از 13