شیعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور قرآن کریم

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 7 از 13

ممتاز شیعی عالم سلطان محمد الخراسانی۔

قرآن میں تحریف کو تواتر سے ثابت کرتے ہوئے لکھتا ہے:

اعلم انه قد استفاضت الاخبار من الآئمة الاطهار بوقوع الزيادة والنقيصة والتحريف والتغيير فيه بحيث لا يكاد يقع شك۔

(کتاب تفسير بيان السعادة فی مقدمات العبادة: 19 مطبوعه الاعلمی)۔

واضح رہے کہ ائمہ اطہار سے مشہور روایات وارد ہوئی ہیں کہ قرآن میں زیادتی نقص تحریف اور رد و بدل واقع ہوا ہے۔ ان روایات میں شک و شبہ کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اسی طرح شیعی علامہ اور الحجہ سید عدنان البحرانی تحریف کے بالتواتر ثبوت کے متعلق لکھتا ہے: الاخبار التی لا تحصى كثيرة وقد تجاوزت حد التواتر (مشارق الشموس الدرية: 126 ناشر مكتبه عدنانيه البحرين) 

(قرآن میں تحریف کے متعلق) بہت اور بے شمار روایات ملتی ہیں جو تواتر کی حد سے بھی تجاوز کر جاتی ہیں۔

چھٹا مقصد:

شیعہ امامیہ کے زعم کے مطابق قرآنِ کریم کی تحریف کی انواع و اقسام:

پہلی قسم: قرآنِ کریم میں سے کچھ سورتوں کا مکمل حذف۔

شیعوں نے اپنی طرف سے گھڑی ہوئی کچھ خرافات اور لغویات کے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ یہ قرآن کریم کی سورتیں تھیں ان کے بقول رسول اللہﷺ کے بعد قرآن کو جمع کرنے والوں نے ان سورتوں کو مکمل طور پر قرآن کریم سے ساقط کر دیا ان کے دعویٰ کے مطابق ان سورتوں میں ایک سورۃ سورۃ النورین تھی جس کی عبارت ان کے دعویٰ کے مطابق اس طرح تھی:

بسم الله الرحمن الرحيميا ايها الذين امنوا امنوا بالنورين الذين انزلنا هما يتلوان عليكم آياتی ويحذر انكم عذاب يوم عظيم نوران بعضهما من بعض وانا السميع العليم۔ (تذكرة الائمة: صفحہ 19)۔

اللہ کے نام سے شروع جو رحمٰن رحیم ہے اے ایمان والو تم ان دو نوروں پر ایمان لاؤ، جنہیں ہم نے اتارا ہے وہ تم پر میری آیات کو پڑھتے ہیں اور تم کو بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈراتے ہیں یہ دونوں نور ایک ہی طرح کے ہیں اور میں سننے والا جاننے والا ہوں۔

کتاب فصل الخطاب اور شیعی امام مجلسی کی تالیف تذکرۃ الائمہ میں بیان شدہ ان باطل و بے بنیاد کلمات کو آخر تک پڑھ لیجیے۔ ان کے نزدیک ایک سورت سورۃ الولایۃ کے نام سے بھی قرآن کریم میں موجود تھی مجلسی کی کتاب تذکرۃ الائمہ میں اس مزعومہ سورت کے الفاظ درج ذیل ہیں:

بسم الله الرحمن الرحيميا ايها الذين امنوا امنوا بالنبى والولى الذين بعثنا هما يهديانكم الى صراط مستقيم نبی وولى بعضها من بعضها وانا العليم الخبير ان الذين يوفون بعهد الله لهم جنات النعيم، فالذين اذا تليت عليهم آياتنا كانوا به مكذبين ان لهم فی جهنم مقاما عظيما، اذا نودى لهم يوم القيامة ابن الضالون المكذبون للمرسلين، ما خلقهم المرسلون الا بالحق، وما كان الله لينظرهم الى اجل قريب، وسبح بحمد ربك وعلى من الشاهدين۔ (تذكرة الائمة: صفحہ 19)۔

اللہ کے نام سے شروع جو رحمٰن و رحیم ہے اے ایمان دارو! تم نبی اور ولی پر ایمان لاؤ، ہم نے انہیں بھیجا ہے تاکہ وہ سیدھی راہ کی طرف تمہاری رہنمائی کریں نبی اور ولی دونوں ایک ہی طرح کے ہیں اور میں جاننے والا باخبر ہوں۔ یقیناً جو لوگ اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد کو پورا کرتے ہیں ان کے لیے نعمتوں سے بھری جنتیں ہیں پس جو لوگ ایسے ہیں کہ جب ان پر ہماری آیات کو پڑھا جاتا ہے تو وہ ان کی تکذیب کرتے ہیں ان کے لیے جہنم میں بہت بڑا عذاب ہے۔ جب ان کو قیامت کے دن پکارا جائے گا کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والے گمراہ کہاں ہیں؟ مرسلون تو انہیں حق کے ساتھ تخلیق کیا ہے۔ اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ ان کو قریبی مدت تک مہلت دینے والا۔ اور آپ اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح بیان کریں اور علی شہادت دینے والوں میں سے ہے۔

انہی (بقول شیعہ محذوف) سورتوں میں سے ایک سورت سورۃ الخلع بھی ہے۔ مجلسی کی تذکرۃ الائمہ کے مطابق اس کا مضمون درج ذیل ہے:

بسم الله الرحمن الرحيم اللهم انا نستعينك ونثنى عليك ولا نكفرك ونخلع ونترك من يفرجك۔

اللہ کے نام سے شروع جو رحمٰن و رحیم ہے اے ہمارے معبود! ہم تیری مدد کے طلب گار اور تیرے ثناخواں ہیں ہم تیرا انکار نہیں کرتے ہم تو تیری حدود سے تجاوز کرنے والوں سے علیحدگی اختیار کرتے اور ان سے دستبردار ہوتے ہیں۔

اسی طرح شیعوں کا دعویٰ ہے کہ قرآن کریم میں سورۃ الحفد بھی موجود تھی جسے حذف کر دیا گیا ہے۔ مجلسی نے اپنی کتاب تذکرۃ الآئمہ میں اس سورۃ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:

بسم الله الرحمن الرحيم۔ اللهم اياك نعبد ولك نصلی ونسجد واليك نسعى ونحفد نرجوا رحمتك ونخشى نقمتك ان عذاب بالكافرين ملحق۔

اللہ کے نام سے شروع جو رحمٰن و رحیم ہے اے ہمارے معبود! ہم تیری ہی عبادت کرتے اور تیرے لیے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں اور تیری طرف دوڑتے اور تگ و دو کرتے ہیں، تیری رحمت کے امید وار اور تیری ناراضگی سے خائف ہیں، یقیناً تیرا عذاب کفار کو لاحق ہونے والا ہے۔

نیز شیعوں کا یہ غالیانہ عقیدہ بھی ہے کہ قرآن پاک میں موجود سورۃ الفجر کا اصل نام سورۃ الحسین ہے یہی نہیں بلکہ قرآن پورے کا پورا اہلِ بیتؓ کے لیے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سیدنا حسینؓ اور اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق شیعوں کی یہ مبالغہ آرائی ہے۔

دوسری قسم: بعض قرآنی آیات سے کچھ کلمات کا حذف

شیعوں کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن کریم میں سے بہت سارے الفاظ و کلمات کو حذف کر دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم سے ان کلمات کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ساقط کیا ہے جن کلمات کو یہ لوگ محذوف شدہ تصور کرتے ہیں ان میں سے اکثر کا تعلق سیدنا علیؓ اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر مختلف اشیاء کے ساتھ وابستہ ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ فی علی کے الفاظ کو قرآن کے بہت سارے مقامات سے حذف کیا گیا ہے ان مقامات کے شمار کے طور پر نہیں بلکہ ان میں سے چند ایک کو علی سبیل المثال بیان کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَاِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ الخ۔ (سورة البقره: آیت 23)۔

اگر تم اس کتاب ہی کے بارے میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے تو کوئی ایک سورۃ تم بھی بنا لاؤ۔

صفحہ 7 از 13