شیعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور قرآن کریم

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 8 از 13

اس آیت کے متعلق کلینی یہ روایت بیان کرتا ہے:

عن جعفر قال: نزل جبريل بهذه الآية على محمدﷺ هكذا وَاِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا فی على فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ۔

(اصول الكافی كتاب الحجة باب فيه نكت ونتف من التنزيل فی الولاية: جلد 1 صفحہ 417)۔

ابوجعفر سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ جبرائیلؑ نے اس آیت کو محمدﷺ پر ان الفاظ کے ساتھ اتارا تھا اور اگر تم اس کتاب ہی کے بارے میں شک میں ہو جو ہم اپنے بندے پر سیدنا علیؓ کے متعلق اتاری ہے تو کوئی ایک سورۃ تم بھی بنا لاؤ۔

اللہ کا فرمان ہے:

بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ اَنۡ يَّڪۡفُرُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بَغۡيًا اَنۡ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ۚ الخ۔(سورة البقرة: 90)۔

بری ہے وہ چیز جس کے عوض میں انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ہے کہ انکار کرتے ہیں اس (کلام) کا جو اللہ نے نازل کیا ہے۔ اس ضد پر کہ اللہ نے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہا اپنا فضل نازل کیا ہے۔

اس فرمانِ الٰہی کے متعلق کلینی ابو جعفر سے یہ روایت نقل کرتا ہے:

عن أبی جعفر قال: نزل جبريل بهذه الآية على محمد صلى الله عليه وآله هكذا "بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ اَنۡ يَّڪۡفُرُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فی علی بَغۡيًا اَنۡ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ۚ۔

(اصول الكافی كتاب الحجة باب فيه نكت ونتف من التنزيل فی الولاية: جلد1 صفحہ 417)۔

ابو جعفر سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس آیت کو جبرائیلؑ نے محمدﷺ پر یوں نازل کیا تھا بری ہے وہ چیز جس کے عوض میں انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ہے کہ انکار کرتے ہیں اس (کلام) کا جو اللہ نے سیدنا علیؓ کے متعلق نازل کیا ہے اس ضد پر کہ اللہ نے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہا اپنا فضل نازل کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّـطۡمِسَ وُجُوۡهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰٓى اَدۡبَارِهَاۤ الخ۔(سورة النساء: 47)

اے وہ لوگو! جنہیں کتاب مل چکی ہے اس کتاب پر ایمان لاؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے تصدیق کرنے والی اس (کتاب) کی جو تمہارے پاس ہے قبل اس کے کہ ہم چہروں کو مٹا ڈالیں اور چہروں کو ان کے پیچھے کی جانب الٹا دیں۔

اس آیت کے متعلق کلینی نے یہ روایت اپنی کتاب میں وارد کی ہے: عن أبی جعفر قال: نزلت هذه الآية على محمد صلى الله عليه وآله هكذا يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا انزلت فی علی مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّـطۡمِسَ وُجُوۡهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰٓى اَدۡبَارِهَاۤ۔

 ابوجعفر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: یہ آیت محمدﷺ پر ان لفظوں کے ساتھ نازل کی گئی ہے: اے وہ لوگو! جن کو کتاب مل چکی ہے اس (کتاب) پر ایمان لاؤ جسے میں نے سیدنا علیؓ کے متعلق نازل کیا ہے، تصدیق کرنے والی اس (کتاب) کی جو تمہارے پاس ہے، قبل اس کے کہ ہم چہروں کو مٹا ڈالیں اور چہروں کو ان کے پیچھے کی طرف الٹاویں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اِذْ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ جَآءُوۡكَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰهَ وَاسۡتَغۡفَرَ لَـهُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيۡمًا‏۝(سورة النسا: آیت 64)۔

اور کاش! کہ جس وقت یہ اپنی جانوں پر زیادتی کر بیٹھتے تھے، آپ کے پاس آجاتے پھر اللہ سے مغفرت چاہتے اور رسول بھی ان کے حق میں مغفرت فرماتے تو یہ ضرور اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے۔

شیعوں نے اس آیت میں صریحاً تحریف کر ڈالی ہے تفسیر قمی تحریف شدہ آیت کے الفاظ یہ لکھے گئے ہیں:

ولو انهم اذ ظلموا انفسهم جاء وك يا على فاستغفر والله واستغفر لهم الرسول۔

یعنی اور کاش! کہ جس وقت یہ اپنے جانوں پر زیادتی کر بیٹھتے تھے، اے سیدنا علیؓ! یہ آپ کے پاس آجاتے ، پھر اللہ سے مغفرت چاہتے اور رسول بھی ان کے حق میں مغفرت فرماتے ۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَشَدَّ تَثۡبِيۡتًا (سورۃ النساء : آیت 66) 

اور اگر یہ (لوگ) وہ کر ڈالتے جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور ان کو ثابت قدم رکھنے والا بھی۔

شیعوں نے اس آیت میں بھی تحریف کی ہے، ممتاز شیعی عالم کلینی نے ابو عبداللہ سے یہ روایت نقل کی ہے: 

عن ابی عبدالله قال: هكذا نزلت هذا الآية وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ فی علی علیه السلام لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَشَدَّ تَثۡبِيۡتًا۔

ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اس طرح نازل کی گئی تھی: اور اگر یہ وہ کر ڈالتے جن کی انہیں سیدنا علیؓ کے بارے میں نصیحت کی جاتی ہے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور ان کو ثابت قدم رکھنے والا بھی۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِىۡ هٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ فَاَبٰٓى اَكۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوۡرًا۝ (سورة الاسراء آیت 89)۔

اور بالیقین ہم نے لوگوں کے لیے قرآن میں ہر قسم کا اعلیٰ مضمون طرح طرح سے بیان کیا ہے لیکن اکثر لوگ انکار کیے بغیر نہ رہ سکے۔

شیعی علماء نے اس آیت میں بھی تحریف کر ڈالی ان کے امام کلینی اور ان کے دینی قائد عیاشی نے ابو جعفر سے اس آیت کے متعلق یہ روایت نقل کی ہے:

عن أبی جعفر قال: نزل جبريل بهذه الآية هكذا فابی اكثر الناس بولاية على الا كفورا 

(اصول الكافی كتاب الحجة، باب فی نكت ونتف من التنزيل فی الولاية جلد 1 صفحہ 425 تفسير العياشی جلد 2 صفحہ 317)۔

ابو جعفر کا بیان ہے کہ جبریل علیہ السلام نے یہ آیت ان لفظوں کے ساتھ نازل کی تھی لیکن اکثر لوگ سیدنا علیؓ کی ولایت کا انکار کیے بغیر نہ رہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

 يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا۝(سورۃ الاحزاب آیت 71)۔

اور جس کسی نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کی سو وہ بڑی کامیابی کو پہنچ گیا۔

صفحہ 8 از 13