شیعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور قرآن کریم

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 9 از 13

اس آیت کے متعلق شیعوں کے امام کلینی نے یہ روایت نقل کی ہے جس میں کھلی تحریف کا ارتکاب کیا گیا ہے:

عن ابی عبدالله قال: ومن يطع الله ورسوله فی ولاية على والأئمة من بعده فقد فاز فوزا عظيما هكذا نزلت والله۔

(اصول الكافی: جلد 1 صفحہ 414 ، الصراط المسقيم للبياضی : جلد 1 صفحہ 279)۔

ابو عبداللہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: الله کی قسم ! یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی: اور جس کسی نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی سیدنا علیؓ اور ان کے بعد آنے والی آئمہ کی ولایت کے متعلق ہدایات کی پیروی کی سو وہ بڑی کامیابی کو پہنچ گیا۔

قرآنِ کریم کے متعدد اور کثیر ترین مقامات ایسے ہیں، جہاں سے شیعوں کے دعویٰ کے مطابق سیدنا علیؓ ابنِ ابی طالب کے نام کو حذف کیا گیا ہے جس قدر مثالیں میں نے پیش کی ہیں اس سے قرآن کریم کے متعلق شیعوں کی گمراہی اور ضلالت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے آلِ محمد اور آلِ بیتؓ کے الفاظ کے متعلق بھی ان لوگوں کا یہی دعویٰ ہے کہ قرآن کریم کے بہت سارے مقامات سے ساقط کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے آئمہ سے بہت سی ایسی روایات نقل کی ہیں جن میں ان آیات کا ذکر موجود ہے، جن سے ان کے بقول آلِ محمد یا آلِ البیتؓ کے کلمات کو حذف کیا گیا ہے، مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا قَوۡلاً غَيۡرَ الَّذِىۡ قِيۡلَ لَهُمۡ فَاَنۡزَلۡنَا عَلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ۝(سورة البقره آیت 59)۔

اس فرمانِ الٰہی میں بقول شیعہ حذف شدہ الفاظ کے متعلق شیعی امام عیاشی نے یہ روایت اپنی تفسیر میں درج کی ہے:

عن أبی جعفر قال: نزل جبريل بهذه الآية هكذا فبدل الذين ظلموا آل محمد حقهم غير الذی قيل لهم فانزلنا على الذين ظلموا آل محمد حقهم رجزا بما كانوا يفسقون۔

(تفسير العياشی: جلد 1 صفحہ 45)۔

ابو جعفر سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جبریلؑ یہ آیت اس طرح لائے تھے۔

مگر آلِ محمد کے حقوق میں ظلم زیادتی کرنے والوں نے جو انہیں بتایا گیا تھا اس کے خلاف ایک اور کلمہ بدل ڈالا سو ہم نے آلِ محمد کے حقوق میں ظلم زیادتی کرنے والوں پر آسمان سے بہت بڑا عذاب نازل کیا اس سبب سے کہ وہ نافرمانی کر رہے تھے۔ 

ساتواں مقصد:

 اس سوال کا جواب کہ شیعہ حضرات اس قرآن کریم کی تلاوت کیوں کرتے ہیں جو اہلِ سنت کے پاس موجود ہے حالانکہ وہ اس کو ناقص اور محرف تسلیم کرتے ہیں:

اس ہم ترین سوال کے جواب میں شیعہ امامیہ اثناء عشریہ کے اکابر علماء میں سے سب سے پہلے ان کے چوٹی کے عالم نعمۃ اللہ الجزائری نے اپنی کتاب الانوار النعمانیہ میں لکھا ہے:

روى انهم فی الاخبار عليهم السلام امر شيعتهم بقرأة هذا الموجود من القرآن فی الصلوة وغيرها والعمل باحكامه حتى يظهر مولانا صاحب الزمان فيرتفع هذا القرآن من ايدى الناس الى السماء ويخرج القرآن الذی ألفه امير المؤمنين عليه السلام فيقرأ ويعمل بأحكامه۔  (الانوار النعمانية: جلد 2 صفحہ 360)۔

روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ ائمہ نے اپنے شیعوں کو موجودہ قرآن کی نماز وغیرہ میں قرآت کا اور اس کے احکامات کے مطابق عمل کرنے کا حکم دیا ہے، یہاں تک کہ ہمارے آقا صاحب الزمان کا ظہور ہو جائے چنانچہ (اس کے ظہور کے بعد) اس قرآن کو لوگوں کے پاس سے ختم کر کے آسمان پر اٹھا لیا جائے گا اور وہ قرآن لایا جائے گا جسے امیر المؤمنین سیدنا علیؓ نے جمع کیا تھا، پھر وہی پڑھا جائے گا اور پیروی بھی اس کے احکامات کی ہوگی۔

اس سے ظاہر ہوا کہ شیعی امام الجزائری کے مطابق صحیح قرآن وہی ہے جسے امیر المومنین سیدنا علی ابنِ ابی طالبؓ نے جمع کیا تھا، جس کا ظہور شیعہ اثناء عشریہ کے عقیدے کی رو سے آخر الزمان میں ہوگا۔ شیعی امام ابوالحسن العاملی نے اپنی تفسیر مراة الانوار و مشکاۃ الاسرار کے تیسرے مقدمے میں یوں لکھا ہے:

ان القرآن المحفوظ عما ذكر الموافق لما انزله الله تعالیٰ ما جمعه على عليه السلام وحفظه الى ان وصل الى ابنه الحسن عليه السلام وهكذا الى ان وصل الى القائم عليه السلام المهدى وهو اليوم عنده صلوات الله عليه ۔(مراة الانوار ومشكوة الاسرار : 36)۔

جو قرآن ان مذکورہ عیوب سے پاک اور تنزیلِ الٰہی سے موافق ہے وہ سیدنا علیؓ کا جمع کردہ ہے، جو ان کے پاس محفوظ شکل میں تھا، ان کے پاس سے ان کے بیٹے سیدنا حسنؓ تک پھر درجہ بدرجہ القائم المہدی تک پہنچا اور اب یہ قرآن ان کے پاس محفوظ ہے صلوات اللہ علیہ۔

اس مذکورہ بالا کلام سے واضح ہوا کہ معتمد اور صحیح قرآن شیعہ عقیدے کے مطابق وہی ہے جو غار میں مقیم مہدی منتظر کے پاس موجود ہے، جیسا کہ ممتاز شیعی عالم و امام ابو الحسن العاملی کی صراحت سے ثابت ہوتا ہے۔ بالکل یہی بات ایک دوسرے شیعی عالم علی اصغر بروجردی نے اپنی فارسی کتاب عقائد شیعہ میں لکھی ہے:

یہ عقیدہ رکھنا لازم ہے کہ اصل قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی یا رد و بدل نہیں ہوا ہے جب کہ موجودہ قرآن میں کچھ منافقوں (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے تحریف کر دی ہے اور اس سے کچھ (آیات و کلمات کو) حذف بھی کیا ہے تاہم امام العصر کے پاس اصلی اور حقیقی قرآن موجود ہے اور اللہ ان کے ظہور کو جلد ممکن بنائے۔ (عقائد الشیعہ صفحہ 27)۔

شیعی امام محمد بن النعمان ملقب به مفید نے مذکورۃ الصدر سوال کا یوں جواب دیا ہے:

ان الخبر قد صح عن ائمتنا عليهم السلام انهم قد رأوا بقرأة ما بين الدفتين وألا نتعداه الى زيادة فيه ولا الى نقصان منه ان يقوم القائم عليه السلام فيقرى الناس على ما انزل الله تعالیٰ وجمعه امير المومنين عليه السلام۔ 

(كتاب المسائل السروية: صفحہ 78)۔

یہ بات درست ہے کہ ہمارے ائمہ نے دوستوں کے درمیان موجود قرآن کو پڑھنے کا امر کیا ہے اور ہمیں اس میں اضافے سے یا اس میں کمی کرنے سے منع کیا ہے۔ یہاں تک کہ (قائم مہدی منتظر) کا ظہور ہو جائے (قائم اپنے ظہور کے بعد) لوگوں کو تنزیلِ الٰہی اور امیر المومنین کی جمع و تالیف کے مطابق قرآن پڑھائیں گے۔ 

آٹھواں مقصد:

 شیعہ حضرات کی اللہ تعالیٰ کی کتاب کی مغالطہ اور دھوکہ پر مبنی تفسیروں کی مثالیں: 

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

صفحہ 9 از 13