دوسرا مبحث رفاقت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں گزرے سنہری ایام
علی محمد الصلابیپہلا نکتہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ سے تین سال پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی۔ یہ اسی سال کی بات ہے جس سال سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی۔ امام عینی رحمہ اللہ شارح بخاری کے بقول صحیح ترین رائے کے مطابق ان کی وفات ہجرت سے تین سال پہلے ہوئی۔ ایک رائے پانچ سال اور ایک رائے چار سال پہلے کی ہے۔
(عمدۃ القاری للعینی: جلد 1 صفحہ 63)
امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کہا:
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ کی طرف بغرض ہجرت روانگی سے تین سال پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے وفات پائی۔ اس سلسلے میں جو کچھ کہا گیا ہے ان سب میں یہ قول بہترین اور ان شاء اللہ صحیح ترین ہے۔‘‘
(الاستیعاب: جلد 4 صفحہ 1881)
صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ الفاظ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے تین سال بعد مجھ سے نکاح کیا۔
(صحیح بخاری: 3817)
تو اس سے مراد ازدواجی تعلقات کا قیام ہے۔
(فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 136 و 224)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے سات یا آٹھ ماہ بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ازدواجی تعلقات قائم کیے۔
امام ابن مندہ رحمہ اللہ کے بقول: ’’جب وہ نو سال کی عمر کو پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں تشریف لانے کے سات ماہ بعد ان کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کیے۔ ‘‘
(معرفۃ الصحابۃ لابن مندہ: صفحہ 939 )
شارح صحیح بخاری علامہ عینی رحمہ اللہ کے بقول :’’پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر میں ہجرت کے سات یا آٹھ ماہ بعد ’’سنح‘‘ کے مقام پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کیے۔"
(عمدۃ القاری للعینی: جلد 17 صفحہ 34)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے بقول:
’’اسماعیلی نے اپنی سند کے ساتھ ہشام سے روایت کی کہ اس کے والد نے ولید کی طرف لکھ بھیجا: تو نے مجھ سے پوچھا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کب وفات پائی؟تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے (بغرض ہجرت مدینہ) کوچ سے تقریباً تین سال پہلے فوت ہوئیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں اپنے قیام کے دوران ان سے ازدواجی تعلقات تب قائم کیے جب وہ نو سال کی تھیں، تو اس سیاق میں کوئی اشکال نہیں نیز اس سے سابقہ اشکال بھی دُور ہو جاتا ہے، واللہ اعلم۔ ‘‘
جب یہ ثابت ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے پہلے سال ماہ شوال میں ان سے ازدواجی تعلقات قائم کیے تھے تو یہ قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے سات ماہ بعد ان سے ازدواجی تعلقات قائم کیے تھے، جب کہ امام نووی نے اپنی کتاب ’’التہذیب‘‘ میں اس رائے کو ضعیف کہا ہے۔ حالانکہ اگر ہم ماہ ربیع الاول سے شمار کریں تو یہ رائے ضعیف ثابت نہیں ہوتی۔
(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 225 )
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ ان لوگوں کا استدلال ان تمام استنباطات سے ہے جو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی بہن سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی عمروں کے درمیان فرق سے دیکھتے ہیں، جو حقیقت یہاں واضح کرنا مقصود ہے اور جسے سمجھنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ چھ سال کی عمر میں نکاح کی تحدید و تعیین علماء کے اجتہاد پر مبنی نہیں ہے کہ دیکھا جائے کہ غلط کیا ہے اور صحیح کیا ہے۔بلکہ یہ تو ایک ثابت شدہ تاریخی حقیقت ہے جس کی صحت کی تاکید اور جسے ماننے کی ضرورت کی متعدد وجوہ ہیں :
1۔ اس حقیقت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہ جن کا اپنا ذاتی معاملہ ہے، وہ خود بیان کرتی ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ چھ سال کی عمر میں شادی کی، اور جب میں نو سال کی ہوئی تو میرے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازدواجی تعلقات قائم کیے۔‘‘
(اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، حدیث: 3896 )
2۔ یہ روایت کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین کتابوں میں مروی ہے۔ جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے ناموں سے مشہور و متداول ہیں ۔
3۔ اس روایت کے محکم ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کی متعدد اسناد ہیں اور اس روایت کی صرف ایک سند نہیں جیسا کہ کچھ لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے۔ اس حدیث کی اسناد کے مفصل مطالعہ کے لیے اس موضوع پر لکھی گئی کتب و مصادر کی طرف رجوع مستحسن ہے۔ ان میں سے بعض کے نام اس حاشیہ نمبر 3 کے آخر میں بھی تحریر ہیں۔
4۔ یہ کہ شادی کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کی تصریح ان صحابیات سے بھی مروی ہے جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آپ کے ساتھ شادی میں رابطہ کار تھیں۔
(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 210۔ حدیث: 25810)
ان کی سند کے ساتھ مروی ہے کہ ہمیں ابو سلمہ اور یحییٰ رحمہما اللہ نے یہ حدیث سنائی: ’’جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے وفات پائی تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ خولہ بنت حکیم آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ شادی نہیں کریں گے؟ آپ نے فرمایا: ’’کس کے ساتھ ؟ ‘‘ انھوں نے کہا: اگر آپ کنواری کے ساتھ چاہیں تو وہ بھی ہے اور اگر آپ بیوہ یا مطلقہ کے ساتھ چاہیں تو وہ بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ عزوجل کی مخلوق میں سے آپﷺ کی محبوب ترین شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہے۔ ‘‘مفصل واقعہ مذکور ہے۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: ’’بے شک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نکاح کے وقت عمر چھ سال تھی۔ جب آپﷺ نے ان کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کیے تو اس وقت ان کی عمر نو سال تھی۔
اس حدیث کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے ’’سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 113‘‘ میں کہا: ’’یہ مرسل ہے۔‘‘جب کہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ’’البدایۃ والنہایۃ: جلد 3 صفحہ 129‘‘ میں کہا: ’’سیاق حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرسل ہے حالانکہ یہ متصل ہے۔‘‘اور ہیثمی رحمہ اللہ نے ’’مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 228‘‘ میں کہا: اس (مذکورہ) راوی کی اکثر احادیث مرسل ہوتی ہیں اور اس کی سند میں محمد بن عمرو بن علقمہ راوی کو متعدد ائمہ نے ثقہ کہا ہے اور اس حدیث کے دیگر رواۃ صحیح مسلم کے ہیں۔ ‘‘شعیب ارناؤوط رحمہ اللہ نے ’’مسند احمد‘‘ کی تحقیق کے دوران جلد 6 صفحہ 210 پر اسے حسن کہا ہے۔
5۔ اس واقعہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود بھی بیان کیا ہے۔ دیگر راویوں نے بھی ان سے روایت کیا ہے۔ جن مصادر و مراجع میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حالات درج ہیں ان سب کا متفقہ فیصلہ یہی ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی اس حقیقت میں اختلاف نہیں کیا اور یہ کوئی اجتہادی مسئلہ بھی نہیں۔ جب کوئی اپنی ذات کے بارے میں خو د بات کرے تو پھر کسی اور کو اس سے اختلاف کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
6۔ تمام تاریخی مصادر کا اتفاق ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ولادت باسعادت اسلام میں ہوئی جو بعثت نبوی کے چار یا پانچ سال کے بعد کا واقعہ ہے۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تصریح کی ہے اور اس بنیاد پر ہجرت کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر آٹھ یا نو سال بنتی ہے۔ یہ حقیقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اپنے متعلق بیان کردہ حکایت کے موافق ہے، جو تحریر کی جا چکی ہے۔
7۔ مصادر اس بات پر بھی متفق ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ اس طرح ہجرت کے وقت ان کی عمر نو سال ہی بنتی ہے۔ یہ حقیقت اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے وقت عمر کے متعلق بیان کردہ دیگر حقائق میں مکمل موافقت ہے۔
8۔ سیرت، تاریخ اور سوانح و تراجم کے تمام مصادر میں مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات تریسٹھ سال کی عمر میں ہوئی، اور یہ 57ھ تھا۔ اس طرح (نکاح کے وقت) ان کی عمر چھ سال اور ہجرت کے سال ان کی عمر آٹھ سال بنتی ہے اور جب نامکمل سال مکمل شمار کیے جائیں، جیسا کہ عربوں کی حساب کے دوران عادت ہے تو ہجرت کے سال ان کی عمر آٹھ سال بنتی ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کے بعد ازدواجی تعلقات قائم ہوتے وقت ان کی عمر آٹھ سال اور آٹھ ماہ یعنی نو سال بنتی ہے۔
9۔ جو کچھ تحریر کر دیا گیا ہے وہ علماء کی اس تحقیق کے بھی موافق ہے جو انھوں نے سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق اور سیدہ عائشہ کی عمروں کے درمیان فرق تحریر کیا ہے۔
علامہ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عمر میں دس سال سے زیادہ بڑی تھیں۔‘‘
(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 188)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بعثت نبوی کے چار یا پانچ سال بعد پیدا ہوئیں۔ ابو نعیم رحمہ اللہ ’’معرفۃ الصحابۃ: جلد 6 صفحہ 3253 پر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے متعلق تحریر کرتے ہیں وہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس سال پہلے پیدا ہوئیں۔
گویا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی عمروں میں چودہ یا پندرہ سال کا فرق ہے اور یہ رائے علامہ ذہبی رحمہ اللہ کی گزشتہ رائے کے موافق ہے۔ ان تمام دلائل سے پہلی دلیل ہی کافی ہے۔ اس کے علاوہ جومزید دلائل تحریر کیے گئے ہیں وہ پہلی دلیل کی تاکید اور توثیق کے طور پر تحریر کیے گئے ہیں۔ نیز صحیح دلیل ایک ہی ہو تو وہ دعویٰ کے ثبوت کے لیے کافی ہوتی ہے جب کہ اس مسئلہ میں تو اہل علم کا اجماع بھی ہے۔ واللہ اعلم