Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رخصتی کی پہلی رات

  علی محمد الصلابی

رخصتی والی رات میں سیدہ اسماء بنت یزید اور ان کی سہیلیوں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تیار کرنے کی ذمہ داری لی۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بناؤ سنگھار کیا۔(قَیَّنْتُ: میں نے زیب وزینت کروائی۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث والأثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 135)

پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی رونمائی کی دعوت دی۔(لجلوتہا: تاکہ اسے کھلے چہرے میں دیکھ سکیں۔)

(جمہرۃ اللغۃ لابن درید: جلد 1 صفحہ 63۔ الصحاح للجوہری: جلد 6 صفحہ 2304۔ لسان العرب لابن المنظور: جلد 14 صفحہ 151)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ سے لبالب بھرا ہوا ایک بڑا پیالہ (العس: بڑا پیالہ۔ اس کی جمع عساس اور اعساس ہے۔ (تہذیب اللغۃ: جلد 1 صفحہ 63۔ النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 3 صفحہ 236) لایا گیا۔ آپﷺ نے اس میں سے کچھ پیا، پھر آپﷺ نے وہ پیالہ اپنی دلہن کو دینا چاہا تو انھوں نے اپنی گردن جھکا لی اور شرما گئی۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے انھیں ڈانٹ پلائی اور کہا: تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے لے لو۔ بقول راویہ کے تب انھوں نے لے لیا۔ اس میں سے کچھ پیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ’’باقی اپنی سہیلیوں کو دے دو۔‘‘

(تِرْبَکِ: پنی سہیلیوں کو۔ یہ لفظ ہم عمر پر بولا جاتا ہے۔ (الصحاح: جلد 1 صفحہ 91۔ تہذیب اللغۃ:  جلد 14 صفحہ 195) 

سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلکہ آپﷺ اپنے دست مبارک سے پکڑ لیں اور اس میں سے کچھ پی لیں، پھر آپﷺ وہ پیالہ مجھے اپنے دست مبارک سے عنایت کریں۔ آپﷺ نے وہ لیا اور اس میں سے کچھ پی لیا۔ پھر وہ مجھے پکڑا دیا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: تو میں بیٹھ گئی اور پیالہ اپنی ٹھوڑی کے قریب کر کے گھمانے لگی، میں چاہتی تھی کہ وہاں سے پیوں جہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا ( المشرب: جس جگہ سے کوئی شخص پیے۔ النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 2 صد 455 تھا۔

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 458۔ حدیث: 27632۔ حمیدی: 367۔ الطبرانی: جلد 24 صفحہ 171، حدیث: 434۔ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے الزوائد: جلد 14 صفحہ 53 میں کہا اس کی سند میں شہر نامی راوی متکلم فیہ ہے اور اس کی حدیث حسن ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’آداب الزفاف کے صفحہ 19 میں کہا: اسے دو اسناد سے روایت کیا گیا ہے جو ایک دوسری کو تقویت دیتی ہیں اور اس کا ایک شاہد بھی ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے