امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) حضرت علیؓ اور اولاد علیؓ سے تعصب رکھتا تھا۔ (مسند احمد بن حنبل)
مولانا ابوالحسن ہزارویامیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) حضرت علیؓ اور اولاد علیؓ سے تعصب رکھتا تھا۔ (مسند احمد بن حنبل)
الجواب اہلسنّت
محترم حضرات اندازہ لگائیے حدیث پاک اوپر رکھ کر یہ بدبخت کیا کیا تصرف کرتے ہیں۔ ابو داؤد کا مترجم اور فوائد لکھنے والا وہی نواب وحیدالزماں ہے جس کا رفض ابلتی ہنڈیا کی طرح جوش لے رہا ہے ہے چنانچہ لکھتا ہے
فائدہ: امام حسین علیہ السلام کے انتقال پر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو یہ کہنا کہ یہ مصیبت نہیں ہے، مبنی تھا اوپر تعصب کے علیؓ اور اولاد علیؓ سے (عکسی صفحہ)
یہاں نوٹ کرنے کی چند اہم گزارشات ہیں ہیں
1: ابو داؤد کے حوالے سے نقل شدہ بات ابو داؤد کی ہے نہ ابو داؤد میں بیان شدہ احادیث کی بلکہ امام ابو داؤد کی کتاب پر اردو ترجمہ کے نام سے بے فائدہ باتیں لکھنے والا نواب وحید الزماں کا یہ کالا سیاہ کارنامہ ہے۔
2:نواب صاحب جس کی یہ حاشیہ آرائی ہے نہ صرف شیعہ بلکہ تقیہ باز رافضی تھا جو اول مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوا اور پھر چند کا کاغذ سیاہ کرنے کے بعد رفض کا اعلان کیا تاکہ سنت آباء زندہ ہو جائے "جو کہتے تھے صبح کو اسلام قبول کرو کرو اور شام کو کافر ہو جاؤ. شاید اس طرح (مسلمان اپنے مذہب حق سے) لوٹ آئیں" (القرآن)
اس چال سے نواب صاحب کا مقصود بھی یہی کچھ تھا تا کہ اہلسنّت میں داخل ہو جاؤ او پھر چھوڑ دو شاید اس طرح کمزور اہلسنت بھی اسی گمان سے کہ اتنا بڑا کتابوں کا مصنف جو یہ مسلک چھوڑ گیا تو کوئی بات ضرور ہوگی ناں بہرحال یہ اس کا اپنی جگہ خوب دھوکا سہی مگر اس سے سے بڑا دھوکا یہ ہے کہ اس نواب کی کتاب کو اہلسنّت کا نمائندہ بنا کر الزام میں پیش کرتے ہیں جس کا اپنا کوئی دین مذہب نہ تھا۔