Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ولیمہ کی روداد

  علی محمد الصلابی

جس دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی، اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمہ کھلایا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ بیان کرتی ہیں :

’’میری شادی پر نہ اونٹ ذبح کیے گئے اور نہ بکری ذبح کی گئی۔ تاآنکہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ (یہ سعد بن عبادہ بن دلیم ابو ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ جلیل القدر صحابہ میں سے تھے۔ بنو خزرج کے سردار اور مشہور جرنیل تھے۔ انھیں شرافت، نجابت اور سخاوت کی وجہ سے خاص شہرت حاصل تھی۔ 15ھ میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 478۔ الاصابۃ: جلد 3 صفحہ 66) نے کھانے سے بھرا ہوا ایک برتن بھیجا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بھیجا کرتے تھے۔ جو آپﷺ نے باری باری اپنے گھر والوں کو دیا اور میں اس وقت نو برس کی تھی۔‘‘ 

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 210، حدیث:  25810۔ الطبرانی: جلد 23 صفحہ 23، حدیث: 57 ۔ الحاکم: جلد 2 صفحہ 181۔ البیہقی: جلد 7 صفحہ 129، حدیث: 14118۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے کہا: یہ صحیح مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ والنہایہ: جلد 3 صفحہ 129 میں کہا: یہ سیاق مرسل کی طرح ہے۔ لیکن یہ روایت متصل ہے۔ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 228 میں کہا: اس کی اکثر روایات مرسل ہیں۔ اس کی سند میں ایک راوی محمٹدبن عمرو بن علقمہ ہے اسے متعدد محدثین نے ثقہ کہا ہے۔ اس کے دیگر راوی صحیح مسلم کے راوی ہیں۔ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: جلد 7 صفحہ 266 میں اس کی سند کو حسن کہا ہے۔)