Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مہر کتنا تھا

  علی محمد الصلابی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بیوی کا علیحدہ علیحدہ مہر کہیں بھی مروی نہیں، البتہ مجموعی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں کے مہر کا تذکرہ ملتا ہے۔ (یا سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کا مہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بادشاہ حبشہ نجاشی رحمہ اللہ نے ادا کیا تھا۔ جس کی مقدار چار ہزار درہم تھی۔ مترجم)

سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے: ’’میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنا مہر ادا کیا؟ انھوں نے جواب دیا: آپ کی تمام بیویوں کا مہر بارہ اوقیہ سے کچھ اوپر تھا۔ پھر خود ہی کہا: تجھے معلوم ہے کہ النّشُّ کیا ہے؟ میں نے نفی میں جواب دیا۔ انھوں نے کہا: نصف اوقیہ کو کہتے ہیں۔ اس طرح آپ نے پانچ سو درہم مہر ادا کیا۔‘‘ 

(صحیح مسلم: 1426)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے علم میں نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں کچملہ نکاح بارہ اوقیہ سے زائد پر کیے ہوں۔‘‘

(ابوداؤد: 2106۔ ترمذی: 1114۔ اسی کی روایت ہے۔ نسائی: جلد 6 صفحہ 117۔ ابن ماجہ: 1544۔ مسند احمد: جلد 1 صفحہ 40، حدیث: 285۔ دارمی: جلد 2 صفحہ 190، حدیث: 2200۔ طیالسی: جلد 1، صفحہ: 46۔ ابن حبان: جلد 10 صفحہ 480، حدیث: 4620۔ المعجم الاوسط: جلد 1 صفحہ 179، حدیث: 570۔ حاکم: جلد 2 صفحہ 191۔ بیہقی: جلد 7 صفحہ 234، حدیث: 14736۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔ احمد شاکر نے مسند احمد کی تحقیق میں اس کی اسناد کو صحیح کہا ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ترمذی، حدیث: 1114، میں اسے صحیح کہا ہے۔