دوسرا نکتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گزر بسر پر ایک طائرانہ نظر
علی محمد الصلابیگھر کا منظر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے کے سامان کی تفصیل یوں بتاتی ہیں کہ ’’جس بستر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے وہ رنگی ہوئی کھال کا تھا (الَادَم: اسم جمع ہے۔ ادیم اس کھال کو کہتے ہیں جس کی دباغت مکمل ہو جائے۔ المغرب فی ترتیب المعرب للمطرزی، جلد 1 صفحہ 33۔ تاج العروس للزبیدی: جلد 31 صفحہ 192) اور اس کے اندر کھجور کے چھلکے بھرے ہوئے تھے۔
(صحیح مسلم: 2082۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا: اس میں تکیہ، بستر اور سرہانے بنانے اور ان پر ٹیک لگانے کا جواز ہے اور چمڑے کا استعمال بھی جائز ہے۔ (اکمال المسلم شرح صحیح مسلم: جلد 6 صفحہ 303)
ابتدا میں دونوں کے لیے ایک ہی بستر تھا۔ اس کی دلیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی وہ حدیث ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ ’’جب آپ کو حیض آجاتا تھا تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اپنے ساتھ سلاتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں، جب میں اپنے اوپر تہہ بند کس لیتی۔ ان دنوں ہمارے پاس صرف ایک ہی بستر ہوتا تھا۔ جب اللہ عزوجل نے مجھے دوسرا بستر عطا کیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ ہو جاتی۔
(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 191، حدیث: 24650۔ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے ’’التمھید: جلد 2 صفحہ 168‘‘ میں کہا: ہمارے علم کے مطابق یہ حدیث ابن لہیہ سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہے)
کچھ وقت گزرنے کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر میں مزید تکیے بھی بنا لیے، وہ بیان کرتی ہیں:
’’میرے گھر تصویروں والا ایک کپڑا تھا، میں نے اسے اپنے گھر کے اندر ایک کونے میں لٹکایا ہوا تھا۔
(السَّہْوۃ: گھرکے فرش میں گڑھا سا ہوتا تھا جس میں گھر کا کچھ سامان رکھ دیا جاتا جیسے صندوقچہ سا ہو اور یہ بھی کہا گیا: ریک یا الماری کی طرح کی کوئی چیز جس میں سامان رکھا جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری للعینی: جلد 12 صفحہ 40)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! تم اسے میرے آگے سے ہٹا دو، میں نے اسے اتار کر اس کے تکیے بنا لیے۔‘‘
(صحیح بخاری: 5959۔ صحیح مسلم: 2107 اور متن بھی اسی کا ہے۔)