Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں چراغ نہیں تھا

  علی محمد الصلابی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چراغ نہیں تھا۔ اس کی دلیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول ہے:

’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوئی ہوئی تھی اور میرے دونوں پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے کی جگہ ہوتے تھے۔ جب آپﷺ سجدہ کرنے لگتے تو مجھے دبا دیتے تو میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی، جب آپﷺ کھڑے ہو جاتے تو میں پھر دراز کر لیتی۔ وہ فرماتی ہیں: اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہ ہوتے تھے۔‘‘ 

(صحیح بخاری: 382۔ صحیح مسلم: 512)

ایک رات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف بکری کی دستی کا گوشت بھیجا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے پکڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹا۔ وہ کہتی ہیں یہ کام چراغ کے بغیر ہوا۔ پو چھا گیا: اے ام المؤمنین! چراغ کے بغیر کیسے ممکن ہوا؟ تو انھوں نے کہا: ’’اگر چراغ کے لیے تیل ہوتا تو ہم اسے (بطورِ غذا) استعمال کرلیتے۔‘‘ 

( مسند احمد: جلد 6 صفحہ 217، حدیث: 25867۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ’’صحیح الترغیب والترہیب: حدیث: 3276 ‘‘میں صحیح کہا ہے۔ علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے ’’مجمع الزوائد: جلد 10 صفحہ 324 ‘‘ میں کہا: اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرۂ مبارکہ مسجد نبوی کے مشرقی جانب تھا اور اس کا دروازہ مسجد نبوی کے اندر مغربی جانب کھلتا تھا۔ گویا مسجد نبوی ان کے گھر کا صحن بن گئی تھی۔ کمرہ کی چوڑائی چھ یا سات فٹ تھی۔ جس کی دیواریں پتھروں سے بنائی گئی تھیں اور اس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں سے بنی ہوئی تھی۔ چھت اتنی پست تھی کہ جو بھی کھڑا ہوتا اس کا سر اسے چھو لیتا۔ بارش سے بچاؤ کے لیے بالوں سے بنے ہوئے چیتھڑوں سے ڈھانپی گئی تھی۔‘‘ 

(قصر الامل لابن ابی الدنیا: صفحہ 162۔ البدایۃ والنہایۃ: جلد 4 صفحہ 545۔ وسیرۃ السیّدہ عائشہ للندوی: صفحہ 71)

مسجد کے دروازے کا ایک ہی طاق تھا جو عرعر (صنوبر کی کچھ اقسام کے نام ہیں جو گھریلو فرنیچر میں استعمال ہوتی ہیں، اس لکڑی کی متعدد اقسام ہیں ۔یہ ایک بڑے درخت کو کہتے ہیں جو لمبائی اور چوڑائی میں پھیلا ہوتا ہے اور اس کے پتے بڑے بڑے ہوتے ہیں۔ (المعجم الوسیط للطبرانی: صفحہ 460، 595۔ الادب المفرد للبخاری: حدیث: 776۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الادب المفرد میں حدیث نمبر 597 کے تحت اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔) یا ساگوان کی لکڑی کا بنا ہوا تھا۔ اس حجرے کی ایک جانب سائبان تھا۔ 

(مشربہ: بلند کمرہ، بالاخانہ۔ (فتح الباری: جلد 1 صفحہ 488)

(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی بیویوں سے ایلاء کیا تھا تو ایک ماہ تک اسی سائبان میں ٹھہرے تھے۔ )

(صحیح بخاری: 1911)

یہی وہ حجرۂ مبارکہ تھا جس میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تقریباً پچاس سال بسر کیے۔