حضور اکرمﷺ پر جھوٹ باندھنے، صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار کرنے اور سیدنا امیر معاویہؓ کے گستاخ کے ساتھ تعلقات رکھنے، اس کا مرید ہونے اور اس کو پیشوا ماننے اور اس کی مجلس میں بیٹھنے کا حکم
مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی کا فتوی
سوال: ایک شخص یہ کہتا ہے کہ میرے پاس ایک کتاب ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا جس معاہدہ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دستخط نہ ہوں تو وہ معاہدہ باطل ہے۔ سیدنا صدیق اکبرؓ کے سلیکشن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ موجود نہیں تھے، اس لئے ان کی خلافت صحیح نہیں نیز سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو دیگر خلفائے راشدینؓ یعنی سیدنا صدیق اکبرؓ سیدنا فاروق اعظمؓ اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتا ہے۔
اسی طرح مذکورہ شخص امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو صحابی ماننے سے انکار کرتا ہے۔ دلیل میں یہ کہتا ہے کہ انہوں نے سیدنا علیؓ سے جنگ کی اور علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا۔ سیدنا علیؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے نام خط لکھا، انہیں اپنے پاس مدینہ بلایا مگر وہ حاضر نہیں ہوئے۔ جنگ صفین میں صلح کرنے کیلئے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے نمائندہ سیدنا عمرو بن عاصؓ نے سیدنا علیؓ کے نمائندے سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کو دھوکہ دیا۔
مذکورہ بالا سوالات کا جواب کتاب و سنت اور فقہ حنفی کی رو سے بحوالہ کتب معتبرہ عنایت فرما کر مذکورہ شخص اور اس کے معتقدین کو گمراہی سے بچائیں۔ نیز اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ کیا ایسا شخص سنی مسلمان ہو سکتا ہے؟ کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا اور اس کو پیشوا جاننا جائز ہے؟ اور جو اس کو اپنا پیشوا مانتے ہیں اُن کا کیا حکم ہے؟
جواب: مذکورہ شخص نے جس کتاب کا حوالہ دے کر بات کہی ہے، جو سوال میں مذکور ہے، یہ کتاب شیعہ کی لکھی ہوئی ہے اور یہ بات کہنے والا حضور اکرمﷺ پر افتراء کر رہا ہے، ایسے شخص کے متعلق حدیث شریف میں فرمایا
ربعی ابن حراش سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا علیؓ کو خطاب کرتے سنا کہ انہوں نے فرمایا کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا مجھ پر جھوٹ نہ باندھو، کیونکہ جو بھی مجھ پر جھوٹ باندھے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔
دوسری روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، پس اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
خلافت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ:
قائل مذکور نے افتراء علی النبیﷺ کر کے جو روایت گڑھی اس کا مقصد خلیفہ اوّل سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کا انکار کرتا ہے اور صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت اجماع قطعی سے ثابت ہے اور اس کا انکار کفر ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ جو شخص سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی امامت کا انکار کرے گا تو وہ کافر ہے۔ اور فتویٰ بزازیہ میں ہے کہ جس نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار کیا وہ کافر ہے صحیح قول کے مطابق۔
شرح مواقف میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کو ایسے اجماع سے ثابت کیا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو حق پر مضبوطی سے قائم تھے اور ان کے اتفاق سے اس اجماع کا ثبوت ہے اور ان کے ایسے اتفاق کو اجماع قطعی کہتے ہیں۔ لہٰذا شخص مذکور خلاف سیدنا صدیق اکبرؓ کا انکار کرنے کے باعث کافر ہے اور جھوٹی روایت بیان کر کے حدیث شریف کی رو سے جہنمی ہے۔
سیدنا امیر معاويہ رضی اللہ عنہ:
سیدنا امیر معاویہؓ صحابی رسول ہے اور حضور اکرمﷺ کے رشتہ دار ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں قرآن و حدیث میں جتنی بشارتیں آئی ہیں، ان میں سیدنا امیر معاویہؓ بھی داخل ہیں۔ اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل میں بکثرت احادیث مبارک مروی ہیں، اُن میں بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ داخل ہیں۔ اُن میں سے چندا حادیث یہ ہے
حديث نمبر (1)
حضور اکرمﷺ نے فرمایا میرے کسی صحابی کو برا نہ کہو، تمہارا پہاڑ بھر سونا خیرات کرنا ان کے سوا سیر جو کے صدقہ کے برابر نہیں ہو سکتا، نہ ان کے آدھے کے۔
حديث نمبر (2)
حضور اکرمﷺ نے فرمایا تارے آسمان کیلئے امن ہیں اور میں صحابہ کیلئے امن ہوں اور میرے صحابہ میری اُمت کیلئے امن ہیں۔
حديث نمبر (3)
حضور اکرمﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، انہیں اپنے طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بناؤ، جس نے میرے صحابہ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا، جس نے ان کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے (اپنے عذاب کی) گرفت میں لے لے۔
حديث نمبر (4)
حضور اکرمﷺ نے فرمایا میرے صحابہ تارے ہیں تم جس کی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔
حديث نمبر (6)
حضور اکرمﷺ نے فرمایا جب تم انہیں دیکھو جو میرے صحابی کو برا کہتے ہیں تو کہہ دو کہ تمہارے شر پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہو۔
ان احادیث کے علاؤہ سیدنا امیر معاویہؓ کے خصوصی فضائل ہیں۔ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضور کریمﷺ کے کاتب وحی بھی تھے اور کاتب خطوط بھی، یعنی جو نامہ و پیام سلاطین وغیرہ سے حضور اکرمﷺ فرماتے تھے وہ سیدنا امیر معاویہؓ سے لکھواتے تھے۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار عالم و مجتہدین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ہوتا ہے اور خصوصاً مجتہدین صحابہؓ بڑے و اشرف و اعلیٰ مانے جاتے تھے۔
ترمذی شریف میں سیدنا عبدالرحمٰن ابن ابی عمیرہؓ سے روایت کی ہے کہ فرمایا حضور اکرمﷺ نے اے اللہ معاویہ کو ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا، یعنی هادی مهدی اور معاویہ کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔
حافظ حارث ابن اسامہ نے ایک بہت لمبی حدیث روایت فرمائی ہے، جس میں خلفائے راشدینؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل ہیں، اُس میں یہ بھی ہے و معاویہ بن ابی سفیان اعلم امتی و اجودها: یعنی معاویہ میری امت کے بڑے علم حلم اور سخاوت والے ہیں۔
کسی نے حضرت عبداللہ ابن مبارکؒ سے پوچھا کہ ابو عبد الرحمٰن سیدنا امیر معاویہؓ اور عمر ابن عبدالعزیزؒ میں کون افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی باگ کا غبار جو حضور اکرمﷺ کے ساتھ جہاد کے موقع پر واقع ہوا وہ حضرت عمر ابن عبدالعزیزؒ سے ہزار مرتبہ اچھا ہے۔
کیوں نہ ہو کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے حضور اکرمﷺ کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں۔ اور سیدنا فاروق اعظمؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کی بہت سے مواقع پر تعریف فرمائی ہیں، انہیں دمشق کا حاکم مقرر کیا اور کبھی معزول نہ فرمایا۔ اسی طرح عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے پورے زمانہ خلافت میں سیدنا امیر معاویہؓ کو حکومت کے عہدہ پر بحال رکھا۔ یہ ان دو بزرگ صحابہؓ کی طرف سے سیدنا امیر معاویہؓ کی انتہائی عظمت و امانت کا اقرار و اعلان ہے۔ اور سیدنا علیؓ نے بہت سے مواقع پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تعریف فرمائی۔
قارئین کرام!
سیدنا امیر معاویہؓ کے متعلق مختصر فضائل ہم نے نقل کر دیئے ہیں۔ لہٰذا جس جاہل شخص نے سیدنا امیر معاویہؓ کی صحابیت کا انکار کیا وہ در پردہ شیعہ ہے اور تقیہ کر کے سنی بنا ہوا ہے۔ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کا انکار کر کے اس نے شیعیت کا اظہار کر دیا ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ جس شخص کے متعلق سوال کیا گیا ہے، وہ شیعہ ہے اور سیدنا صدیق اکبرؓ کی خلافت کے انکار اور افتراء علی النبیﷺ کرنے کی وجہ سے کافر ہے۔ مسلمانوں کا اس سے تعلقات رکھنا مرید ہونا، اور اس کی صحبت میں بیٹھنا حرام ہے قال الله تعالیٰ
فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ(سورۃ الانعام: آیت، 68)
ترجمہ: نصیحت کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو۔
اور پہلے سوال کے جواب میں جب بیان کر دیا گیا کہ یہ کافر ہے تو اس سے اسلام کی تائید کی امید رکھنا ہی غلط ہے، کیونکہ کافر کفر کی ہی تائید کرے گا، اس لئے کہ الكفر ملة واحد تمام کفار ایک ملت ہے۔
(وقار الفتاویٰ: جلد، 1 صفحہ، 76)