تیسرا نکتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے احوال
علی محمد الصلابینبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کا جمال منظر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کا اہتمام کرتیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسی زیب و زینت کے ساتھ آئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا انداز پسند آجائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو جائیں۔چونکہ ان کا اپنا قول ہے کہ ’’ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے اپنے ہاتھ میں چاندی کے چھلے (فتخات: یعنی بڑی انگوٹھیاں، عرب عورتیں زینت کے وقت پہنتی ہیں۔ (عون المعبود للمبارکفوری: جلد 4 صفحہ 299) پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر فرمایا: اے عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے جواب دیا: میں نے انھیں اس لیے پہنا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھے لگیں۔
(علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ابی داؤد: حدیث: 1565 میں صحیح کہا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی (قرابت دار) خواتین کو جو نصیحتیں کرتی تھیں ان میں سے یہ نصیحت بھی تھی کہ وہ اپنے خاوند کے لیے زیب و زینت اختیار کریں۔ انھوں نے کسی عورت سے کہا: ’’اگر تم خاوند والی ہو تو اپنی آنکھیں (المقلۃ: آنکھ۔ النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 4 صفحہ 348)
خوب صاف کرو اور انھیں جتنا بھی خوب صورت بنا سکتی ہو بنا لو۔‘‘
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد: جلد 8 صفحہ 70۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 188)