شیعوں اور یہودیوں کے اپنے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی…

شیعوں اور یہودیوں کے اپنے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی تکفیر اور ان کی جان و مال کی حلت کے عقیدہ میں مشابہت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 5

شیعوں اور یہودیوں کے اپنے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی تکفیر اور ان کی جان و مال کی حلت کے عقیدہ میں مشابہت

یہودی بھی اپنے علاوہ دوسرے تمام لوگوں کی تکفیر کرتے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ ایماندار صرف وہی ہیں ان کے علاوہ باقی تمام لوگ مشرک بت پرست اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سے کلی طور پر محروم ہیں ان کی کتاب تلمور میں لکھا ہے:

كل الشعوب ما عدا اليهود وثنيون وتعاليم الحاخامات مطابقة لذلك۔ (تلمود صفحہ 100)۔

تمام غیر یہودی اقوام بت پرست ہیں یہ عقیدہ حاخاموں کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔

یہودیوں کی اس عمومی تکفیر سے مسیح عیسیٰ علیہ السلام بھی محفوظ نہیں رہ سکے تلمود میں ان کے متعلق لکھا ہے کہ (معاذ اللہ) مسیح علیہ السلام کافر تھے انہیں اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہ تھی اسی تلمود کے اندر ایک مقام پر مسیح علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کے متعلق یوں لکھا ہے:

ان المسيح كان ساحراً و وثنيا فينتج ان المسيحيين و ثنيون ايضا مثله۔ (تلمود صفحہ 99)۔

مسیح جادوگر اور بت پرست تھا جس کا کھلا مطلب یہ ہے کہ تمام مسیحی بھی انہی کی طرح بت پرست اور کافر ہیں۔

نیز یہودیوں کا اپنے مخالفین کے متعلق یہ بھی عقیدہ ہے کہ یہ جہنم میں داخل ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اس کے اندر رہیں گے تلمود میں لکھا ہے:

النعيم ماوى اليهود ولا يدخل الجنة الا اليهود اما الجحيم فماوى الكفار من المسيحين والمسلمين ولا نصيب لهم فيها سوى البكاء لما فيها من المظلوم والعفوفة۔ (تلمود صفحہ 67)۔

جنت یہودیوں کا ٹھکانا ہے کہ جنت میں صرف یہودی ہی داخل ہوں گے جو ہے جہنم تو یہ کافروں یعنی مسیحیوں اور مسلمانوں کا ٹھکانہ ہے اس تاریک اور بدبودار مقام میں ان کے لیے رونے کے علاوہ اور کچھ مقدر نہ ہوگا۔

دنیاوی زندگی کے اعتبار سے یہودیوں کا اپنے مخالفین کے متعلق موقف:

یہودیوں کا اپنے علاوہ دوسرے مذہب کے متعلق دنیوی زندگی کے اعتبار سے یہ عقیدہ ہے کہ ان کے مخالفین کسی بھی احترام وقار اور حرمت کے مستحق نہیں ہیں ان کے تمام حقوق رائیگاں اور باطل ہیں اس اعتبار سے ان کے خون اموال اور ان کی عزت و آبرو یہودیوں کے لیے کلی طور پر مباح ہیں بلکہ ان کے مقدس اسفار میں خاص طور پر تلمود میں ایسی نصوص وارد ہوئی ہیں جن میں غیر یہودی افراد کو قتل کر دینے کی اور کسی بھی ممکن وسیلہ سے ان کے اموال کو غصب کر لینے کی بھی صریح ترغیب موجود ہے غیر یہودی افراد کے خون کو مباح کرنے والی ایک نص اور ملاحظہ فرمائیں تلمود میں ہے:

حتى افضل القوم يجب قتله۔ (تلمود 146)۔

یہاں تک کہ (غیر یہودی) معتدل ترین شخص کو بھی قتل کر دینا ضروری ہے۔

الکوٹ سیمونی تلمود کا بڑا عالم کہتا ہے:

كل من يسفك دم شخص غير تقى عمله مقبول عند اللّٰه كمن يقدم قربانا اليه۔ (كتاب فضح التلمود صفحہ 146)۔

جو شخص کسی برے انسان (غیر یہودی شخص) کا خون بہا دیتا ہے اس کا یہ عمل اللہ کے ہاں مقبول ہوتا ہے گویا کہ اس نے اللہ کے حضور قربانی پیش کی ہے۔

تلمود میں یہ لکھا ہے:

قتل الصالح من غير اليهود ومحرم على اليهودی ان ينجر احدا من الاجانب من الهلاك او يخرجه من حفرة فيها بل عليه ان يسدها بحجر۔

غیر یہودی صالح انسان کو بھی قتل کر دیا جائے یہودیوں پر کسی اجنبی شخص کو ہلاکت سے بچانا یا اسے کھائی یا گڑھے سے نکالنا حرام ہے ان پر تو یہ لازم ہے کہ پتھر کے ذریعہ سے گڑھے کے منہ کو بند کر دے۔

یہودیوں کے دین کی رو سے جو شخص کسی اجنبی (غیر یہودی) انسان کو قتل کر دیتا ہے وہ دین یہود کی سربلندی کا فریضہ سر انجام دیتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعہ سے فردوس اعلیٰ میں دائمی سکونت کا مستحق بن جاتا ہے۔ تلمود میں لکھا ہے:

ان من يقتل مسيحيا او اجنبيا أو وثنيا يكافأ بالخلود فی الفردوس۔

جو شخص کسی مسیحی کو یا اجنبی کو یا بت پرست کو قتل کر دیتا ہے اسے فردوس میں دوام اور خلود کا اعزاز عطا کیا جائے گا۔

یہ یہودیوں کی قدیم و جدید کتب میں درج شدہ نصوص تھیں جن میں یہ کھلی صراحت موجود ہے کہ یہودی اپنے مخالفوں کے خون بہا دینے کو اپنے لیے مباح قرار دے رہے ہیں بلکہ ان نصوص کی روشنی میں ان کا یہ عقیدہ ہے کہ غیر یہودیوں کا قتل اہم ترین فریضہ اور اعلیٰ ترین ذریعہ ہے قربِ الٰہی کا ایسا کرنے والا شخص جنت الفردوس میں ابدالآباد تک رہنے کا مستحق قرار پاتا ہے۔

مخالفوں کے اموال کی اباحت:

یہودیوں کے مقدس اسفار میں مخالفوں کے اموال کی حلت و اباحت کے متعلق بہت ساری نصوص وارد ہوئی ہیں جبکہ تلمود میں ہے:

ان السرقة غير جائزة من الانسان اما الخارجون عن دين اليهود فسرقتهم جائزة۔

کسی (یہودی شخص) کی چوری نا جائز ہے،ض البتہ غیر یہودیوں کی چوری کر لینا جائز ہے ایک دوسرے مقام پر یوں لکھا ہے:

حياة غير اليهود يملك لليهودي فكيف بأمواله۔

غیر یہودیوں کی تو زندگی بھی یہودی کی ملکیت ہوتی ہے تو اس کا مال کیسے اس کے زیر تصرف نہیں ہوگا۔

اسی طرح تلمود میں یہودیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر یہودیوں کے مال ان کے مالکوں کے حوالے نہ کریں جو شخص ایسا کرے گا وہ گنہگار ہے یہودی روایات میں سے ایک روایت اس طرح وارد ہوئی ہے۔

اذا رد احد الى غريب ما اضاعه فالرب لا يغفر له ابدا۔ 

جب کوئی (یہودی) شخص کسی اجنبی (غیر یہودی) کے ضائع شدہ مال کو واپس کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گا۔

یہودی تعلیمات کے مطابق یہودیوں کے مابین سودی لین دین حرام ہے مگر غیر یہودیوں کے ساتھ اس کی کھلی اجازت ہے اس لیے کہ اس طریقہ سے غیر یہودیوں کے اموال کو اپنے قبضہ میں لایا جاسکتا ہے جسے وہ اپنے عقیدہ کے مطابق یہودیوں کی ہی ملک تصور کرتے ہیں۔ تلمود میں لکھا ہے:

غير مصرح لليهودى ان يقرض الاجنبی الا بالربا۔

کسی یہودی کے لیے یہ قطعاً جائز نہیں کہ وہ غیر یہودی کو بلا سود قرضہ دے۔

اسی طرح یہودی اپنے مخالفین کی عزت و آبرو کو اپنے لیے مباح جانتے ہیں بلکہ ان کے نزدیک مخالفین کی عزتوں کو کوئی حرمت و تحفظ حاصل نہیں ہے ان کے نزدیک غیر یہودیہ عورت سے زنا بدکاری جائز ہے اس کے لیے وہ عجیب و غریب دلیل پیش کرتے ہیں جیسا کہ تلمود میں لکھا ہے:

صفحہ 1 از 5