شیعوں اور یہودیوں کے اپنے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی…

شیعوں اور یہودیوں کے اپنے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی تکفیر اور ان کی جان و مال کی حلت کے عقیدہ میں مشابہت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 5

اليهودی لا يخطئ اذا اعتدى على عرض الاجنبية لأن كل عقد نكاح عند الاجانب فاسد، لا المراة غير اليهودية تعتبر بهيمة والعقد لا يوجد بين البهائم۔

جب کوئی یہودی مرد کسی اجنبیہ (غیر یہودیہ) سے زیادتی کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ خطاوار نہیں ہوتا اس لیے کہ اجنبیوں ( غیر یہودیوں) کے نکاح کے تمام عقود فاسد ہوتے ہیں کہ غیر یہودیہ عورت جانور کی حیثیت رکھتی ہے اور جانوروں کے مابین عقد نکاح ہوتا ہی نہیں ہے۔

تلمود کے دوسرے مقام پر لکھا ہے:

لليهودی الحق فی اغتصاب النساء غير المؤمنات وان الزنا بغير يهود ذكورا كانوا ام اناثا لاعقاب عليه لان الا جانب من نسل الحيوانات۔

یہودی مردوں کو غیر مؤمنہ (غیر یہودیہ) عورتوں کی عصمت دری کا حق حاصل ہے غیر یہودی مرد ہوں یا عورتیں ان کے ساتھ زناکاری کی کوئی سزا نہیں ہے اس لیے کہ غیر یہودی حیوانات کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

شیعوں کی اپنے مخالفین کی تکفیر:

یہودیوں کی اپنے مخالفین کی تکفیر اور ان کے جان و مال کی اباحت و حلت کے عقیدہ سے واقفیت حاصل کر لینے کے بعد ہم شیعہ امامیہ اثناء عشریہ کی طرف منتقل ہوتے ہیں اور اس کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا یہ بھی اپنے یہودی آقاؤں کی طرح اپنے مخالفین کو کافر اور ان کے جان و مال کو اپنے لیے مباح جانتے ہیں۔

میں کہتا ہوں کہ شیعوں کا یہ دعویٰ ہے کہ اہلِ ایمان صرف وہی ہیں، ان کے علاؤہ باقی تمام مسلمان کافر اور مرتد ہیں ان کا دینِ اسلام کے ساتھ کوئی ربط و تعلق نہیں ہے شیعہ اپنے علاوہ دیگر مسلمانوں کو اس وجہ سے کافر کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے ولایت سے انکار کیا ہے۔ جس کے متعلق شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ ارکانِ اسلام میں داخل ہے لہٰذا جو شخص شیعوں کی طرح ولایت کا عقیدہ نہیں رکھتا وہ کافر ہے بالکل اس شخص کی طرح کا کافر ہے جو شہادتین کا انکار کرتا ہے یا نماز ترک کر دیتا ہے بلکہ ان کے نزدیک ولایت کا درجہ ارکانِ اسلام سے فائق تر اور بلند ہے ولایت سے یہ لوگ سیدنا علیؓ بن ابی طالب کی اور ان کے بعد آنے والے ائمہ کی امامت و ولایت مراد لیتے ہیں چونکہ شیعوں کے علاوہ باقی اسلامی گروہ اس فاسد عقیدہ کی مخالفت کرتے ہیں لہٰذا اسی بناء پر ہر شیعہ ان تمام اسلامی فرقوں پر کفر کا حکم عائد کرتے اور انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں نہ صرف یہی بلکہ یہ لوگ اپنے تمام مخالفین کی جانوں اور ان کے اموال کو بھی اپنے لیے مباح سمجھتے ہیں شیعوں کے مخالفین میں سر فہرست اہلِ سنت و الجماعت کا گروہ ہے جنہیں شیعہ کبھی ناصبی کبھی عالمی کبھی سواد اور کبھی وہابیہ کا نام دیتے ہیں شیعوں کی اہم ترین اور انتہائی معتمد کتابوں کے اندر ایسی روایات کثرت سے وارد ہوئی ہیں جن میں ان کا اپنے علاوہ دیگر مسلمان فرقوں کی تکفیر کا عقیدہ پوری صراحت کے ساتھ موجود ہے برقی نے ابو عبداللهؒ (جہاں بھی ابو عبداللہؒ کانام وارد ہوا ہے اس سے شیعہ حضرات سیدنا جعفر صادقؒ کی شخصیت کو مراد لیتے ہیں) سے درج ذیل روایت نقل کی ہے:

انه قال ما احد على ملة ابراهيم الا نحن وشيعتنا وسائر الناس منها براء۔ (كتاب المحاسن صفحہ 148)۔

ابوعبد اللہ نے فرمایا: ہمارے اور ہمارے شیعوں کے علاوہ کوئی بھی ملتِ ابراہیمی پر قائم نہیں ہے باقی تمام لوگ اس سے لا تعلق ہیں۔

اسی طرح کلینی نے الکافی کی الروضہ میں یہ روایت درج کی ہے:

عن على بن الحسين انه قال: ليس على فطرة الاسلام غيرنا وغير شيعتنا وسائر الناس من ذلك براء۔ (الكافی (الروضه: جلد 8 صفحہ 145)۔

علی بن الحسین کہتے ہیں کہ ہم اہلِ بیت اور ہمارے شیعوں کے علاؤہ کوئی بھی فطرتِ اسلام پر نہیں ہے باقی تمام لوگ اس سے محروم ہیں۔

جی ہاں شیعہ صرف اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اپنے علاوہ باقی تمام اسلامی فرقوں کو کافر قرار دیتے ہیں اس سلسلے میں یہ لوگ اہلِ بیت کی طرف جھوٹی روایات اور من گھڑت اقوال منسوب کرتے ہیں جن سے یہ عالی قدر لوگ قطعی طور پر بری الذمہ ہیں شیعہ جب اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کی تکفیر کا عقیدہ رکھتے ہیں تو یہ ان کے ساتھ سلوک اور برتاؤ بھی کفار اور مشرکین والا ہی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ اپنے ماسواء مسلمانوں کا ذبیحہ نہیں کھاتے اس عقیدہ کی بناء پر یہ مسلمانوں کو مشرکوں کا حکم دیتے ہیں تفسیر عیاشی میں ہے:

عن حمران قال سمعت ابا عبدالله عليه السلام يقول فی ذبيحة الناصب واليهودی قال: لا تاكل ذبيحته حتى تسمعه يذكر اسم الله۔ (تفسير العياشی: جلد 1 صفحہ 375)۔

حمران کا بیان ہے کہ میں نے ابوعبد اللهؒ کو ناصبی اور یہودی کے ذبیحے کے متعلق یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس کا ذبیحہ مت کھاؤ یہاں تک کہ تم اسے اپنے ذبیح پر اللہ کا نام لیتے ہوئے نہ سن لو۔

اسی طرح شیعہ اہلِ سنت کے ساتھ نکاح و زواج کو بھی نا جائز سمجھتے ہیں کلینی نے الکافی میں یہ روایت درج کی ہے:

عن الفضيل بن يسار قال سالت اباعبدالله عليه السلام عن نكاح الناصب قال: لا والله ما يحل۔ (كتاب الكافی جلد 5 صفحہ 350)۔

فضیل بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہؒ سے ناصبی (یعنی سنی) سے نکاح کے متعلق سوال کیا تو آپ نے کہا: ہرگز نہیں اللہ کی قسم! یہ حلال نہیں ہے۔

طوسی کی کتاب الاستبصار میں یہ روایت منقول ہوئی ہے: 

عن فضيل بن يسار عن أبی جعفر قال ذكر الناصب فقال لا تناكحهم ولا تاكل ذبيحتهم ولا تسكن معهم۔ (الاستبصار للطوسی جلد 3 صفحہ 184)۔

فضیل بن یسار کا بیان ہے کہ سیدنا ابوجعفرؒ کے سامنے ناصبیوں (یعنی سنیوں) کا تذکرہ ہوا تو آپ نے کہا: ان کے ساتھ نکاح کرو نہ ان کا ذبیحہ کھاؤ اور نہ ان کے ساتھ بود و باش اختیار کرو۔

یہی نہیں بلکہ خمینی نے بھی اپنی کتاب تحریر الوسیلہ میں اہلِ سنت کے ساتھ شیعوں کے نکاح کو حرام قرار دیا ہے چنانچہ اس نے لکھا ہے:

ولا يجوز للمومنة ان تنكح الناصب المعلن بعداوة اهل البيت عليه السلام۔

مومنہ (یعنی شیعی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ناصبی (یعنی سنی) سے نکاح کرے کہ وہ اہلِ بیتؓ سے کھلی عداوت رکھتا ہے مزید لکھتا ہے:

وكذا الا يجوز للمومن ان ينكح الناصبية۔

اسی طرح مومن (شیعی مرد) کے لیے بھی یہ روا نہیں ہے کہ وہ ناصبیہ (یعنی سنی عورت) سے نکاح کرے۔

مزید وضاحت کے ساتھ یہ بھی لکھتا ہے:

صفحہ 2 از 5