شیعوں اور یہودیوں کے اپنے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی…

شیعوں اور یہودیوں کے اپنے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی تکفیر اور ان کی جان و مال کی حلت کے عقیدہ میں مشابہت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 5

وكذا لا يجوز للمومن ان ينكح الناصبية والغالية لأنهما بحكم الكفار وان انتحلا دين الاسلام۔ (تحرير الوسيله جلد 2 صفحہ 260)۔

مومن (یعنی شیعی مرد) کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ناصبی اور غالیوں کی عورتوں سے نکاح کرے اس لیے کہ یہ دونوں فرقے کفار میں شمار ہوتے ہیں اگرچہ یہ دونوں اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔

اہلِ سنت کے پیچھے نماز:

شیعہ اہل سنتِ کی اقتداء میں نماز کو ناجائز کہتے اور اس طرح پڑھی گئی نماز کو باطل قرار دیتے ہیں ماسواء اس صورت کے کہ یہ نماز رواداری یا تقیہ کے طور پر پڑھی گئی ہو اس سلسلے میں شیعوں کی کتاب المحاسن میں یہ روایت وارد ہوئی ہے:

عن الفضيل بن يسار قال سالت ابا جعفر عليه السلام عن مناكحة الناصب والصلاة خلفه فقال: لا تناكحه ولا تصلى خلفه۔ (كتاب المحاسن صفحہ 161)۔

فضیل بن یسار کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا ابوجعفرؒ سے ناصبیوں کے ساتھ نکاح کرنے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق سیدنا ابوجعفرؒ سے دریافت کیا تو آپ نے کہا: اس کے ساتھ نہ نکاح کرو ممتاز شیعی عالم نعمۃ اللہ الجزائری نے بھی اپنی کتاب الانوار النعمانیہ میں اس مؤقف کی تصدیق و تائید کی ہے چنانچہ اس نے لکھا ہے:

واما الناصبی وأحواله وأحكامه فهو مما يتم ببيان امرين: الاول فی بيان معنى الناصب الذی ورد فی الأخبار انه نجس وانه شر من اليهودی والنصرانی والمجوسى وانه كافر نجس باجماع علماء الاماميه رضوان الله عليهم۔ (الانوار النعمانية جلد 2 صفحہ 306)۔

ناصبی (یعنی سنی) کے احوال و احکامات دو امور کی وضاحت کے محتاج ہیں اولاً: اخبار و روایات میں مذکور ناصبی کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ وہ نجس ہے اور وہ یہودی نصرانی اور مجوسی سے بھی زیادہ برا ہے اور یہ علماء امامیہ رضوان اللہ علیہم کے نزدیک متفقہ طور پر کافر و نجس ہے۔

اس کے علاوہ شیعہ امام اہلِ سنت امام احمد بن حنبلؒ ہی کی شخصیت کیلئے بھی ناصبی کا لفظ استعمال کرتے ہیں چنانچہ نویں صدی کے مشہور شیعی عالم نباطی نے امام احمد بن حنبلؒ کے متعلق جاہل پستان والے کی نسل اور بدترین ناصبی کے الفاظ استعمال کئے ہیں یاد رہے کہ سیدنا علیؓ بن ابی طالب کے دور میں فرقہ خوارج کا ایک سربراہ تھا جسے ذوالثدیہ (پستان والا) کہا جاتا تھا نباطی کے الفاظ ملاحظہ کیجئے لکھتا ہے:

ان الامام احمدؒ من اولاد ذی الثدية جاهل شديد النصب۔ 

(الصراط المستيقم إلى مستحق التقديم جلد 3 صفحہ 322)۔

امام احمدؒ پستان والے کی نسل سے جاہل اور بدترین ناصبی ہے۔

شیعوں کا مسلمانوں کی جانوں اور ان کے اموال کے متعلق موقف:

شیعوں کے نزدیک مسلمانوں خاص طور پر اہلِ سنت کے مال و جان مباح ہیں ان کی معتمد کتابوں کے اندر ایسی روایات موجود ہیں جن میں اہلِ سنت کو قتل کرنے اور ان کے مال و متاع کو چھین لینے کی کھلی تلقین اور ترغیب دی گئی ہے ان کے امام مجلسی نے اپنی کتاب بحار الانوار میں اپنی سند کے ساتھ ابنِ فرقد کی یہ روایت نقل کی ہے:

عن ابن فرقد قال قلت لابی عبدالله عليه السلام ما تقول في قتل الناصبی؟ قال حلال الدم أتقى عليك فان قدرت ان تقلب عليه حائطا او تغرقه فی ماء لكى لا يشهد به عليك فافعل۔

ابنِ فرقد کا بیان ہے کہتا ہے کہ میں نے ابو عبد اللہؒ سے ناصبی کے قتل کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ناصبی کا خون حلال ہے مگر سخت احتیاط کی ضرورت ہے لہٰذا اگر ہو سکے تو ایسے انداز سے اس پر دیوار کو گرا دے یا اسے پانی میں ڈبو دے کہ تیرے اس فعل پر اس کی نگاہ نہ پڑے کہیں وہ تیرے خلاف گواہی نہ دے ڈالے اب ممکن ہو سکے تو اسے ضرور قتل کر دے۔

یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ شیعہ اہلِ سنت کی جانوں اور ان کے مال و اسباب کو بالکل اپنے یہودی آقاؤں کی طرح اپنے لئے مباح قرار دیتے ہیں دورِ حاضر کے شیعوں کا بھی یہی عقیدہ ہے جیسا کہ عصرِ حاضر کے شیعہ امام اور ان کے الحجہ العظمی آیت الله الخمینی نے اپنی کتاب تحریر الوسیلہ میں خمس کے بیان کے تحت یہ لکھا ہے:

والأقوى الحاق الناصبی باهل الحرب فی اباحة ما غنمتم منهم وتعلق الخمس به بل الظاهر جواز اخذ ماله این وجد و بأى نحو كان ووجوب اخراج خمسه۔(تحرير الوسيله)

راجح بات یہ ہے کہ ناصبی (یعنی سنی) کو مال غنیمت اور اس سے خمس کے مسئلہ میں اہلِ حرب کافروں کے ساتھ شامل کیا جائے گا بلکہ ناصبی کے مال کو جہاں بھی ملے اور جس بھی طریقہ سے ممکن ہو سکے چھین لیا جائے اور اس سے خمس کو نکالا جائے مذکورہ بالا قول میں خمینی نے اپنے پیرو کاروں کو اہلِ سنت کے مال و متاع کو جہاں بھی ملے اور جیسے بھی ممکن ہو سکے چھین لینے کی اباحت کا فتویٰ دیا ہے اہلِ سنت کے متعلق خمینی کے اس کھلے اور واضح مؤقف پر اس کے معاصر علماء میں سے کسی نے بھی رد نہیں کیا اس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس مؤقف پر خمینی کے تمام معاصر شیعی علماء کا اتفاق ہے اسی طرح شیعی علماء اپنے یہودی آقاؤں کی طرح اپنے مخالفین سے سودی لین دین کو مباح سمجھتے ہیں جیسا کہ ان کی معتمد کتابوں "کافی من لا يحضره الفقيه اور الاستبصار" میں رسول کریمﷺ کی طرف یہ جھوٹی من گھڑت اور خود ساخته روایت منسوب کی گئی ہے کہ آپ کا ارشاد ہے:

ليس بيننا و بين اهل حربنا ربا ناخذ منهم الف درهم بدرهم وناخذ منهم ولا نعطيهم۔

ہمارے اور ہمارے دشمنوں کے مابین سود ممنوع نہیں ہے ہم ان سے ایک درہم کے عوض ہزار درہم وصول کر سکتے ہیں تاہم ہمیں ان سے سود لینے کی اجازت ہے انہیں دینے کی نہیں۔

ایسا ہی ایک قول کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں صادق سے مروی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:

ليس بين المسلم وبين الذمى ربا ولا بين المرأة وبين زوجها ربا۔ (ثواب الاعمال وعقاب الاعمال صفحہ 215 بحار الانوار للمجلسی جلد 27 صفحہ 235)۔

مسلمان اور ذمی کے مابین سود ممنوع نہیں ہے اسی طرح خاوند اور بیوی کے درمیان بھی سود کی ممانعت نہیں ہے۔

اہلِ سنت کی اخروی زندگی کے متعلق شیعوں کا موقف:

صفحہ 3 از 5