شیعوں اور یہودیوں کے اپنے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی…

شیعوں اور یہودیوں کے اپنے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی تکفیر اور ان کی جان و مال کی حلت کے عقیدہ میں مشابہت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 4 از 5

اہلِ سنت کی اخروی حیات کے متعلق شیعوں کا جو مؤقف ہے وہ یہ ہے کہ ان کے عقیدہ کے مطابق اہلِ سنت اور دیگر تمام مخالفین ابدالآباد کیلئے جہنم میں رہیں گے چاہے وہ کتنے ہی عبادت گزار متقی اور پرہیزگار ہی کیوں نہ ہوں ان کی عبادتیں اور اخروی محنتیں انہیں اللہ کے عذاب سے قیامت کے دن نجات نہ دلا سکیں گی صدوق نے عقاب الاعمال میں صادق کا یہ قول نقل کیا ہے:

ان الناصب لنا أهل البيت لا يبالى صام ام صلى زنا ام سرق انه فی النار انه فی النار۔

ہمارا یعنی اہلِ بیت کا دشمن روزہ دار ہو یا نمازی زانی ہو یا چور فکر نہ کرے وہ جہنمی ہے وہ جہنمی ہے۔

اسی طرح ابان بن تغلب کی ایک روایت اس کتاب میں مذکور ہے:

قال: قال ابو عبدالله عليه السلام كل ناصب وان تعبد واجتهد يصير الى هذه الآية عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً۔ (ثواب الاعمال وعقاب الاعمال للصدوق صفحہ 247)۔

ایان بن تغلب کہتا ہے کہ ابو عبد اللہؒ نے کہا ہر ناصبی (یعنی سنی) چاہے وہ کتنی عبادت وریاضت کرلے اس کا انجام اس آیت کے مطابق ہوگا مصیبت جھیلتے ہوں گے خستہ ہوں گے جلتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔

کتاب المحاسن میں علی الخدمی کی یہ روایت مذکور ہے:

عن على الخدمى قال: قال ابو عبدالله عليه السلام ان الجار يشفع لجاره والحميمم لحميمه ولو ان الملائكة المقربين والانبياء المرسلين شفعوا فی ناصب ما شفعوا۔ (كتاب المحاسن: صفحہ 184)۔

علی الخدمی کا بیان ہے کہ ابو عبد اللہؒ نے کہا: پڑوسی اپنے پڑوسی کے حق میں اور مخلص دوست اپنے گہرے دوست کے حق میں سفارش کریں گے ان کی سفارش کو قبول بھی کر لیا جائے گا مگر ناصبی (یعنی سنی) کے حق میں سفارش کو قبول نہیں کیا جائے گا چاہے مقرب فرشتے اور انبیاء و مرسلین بھی ان کے لئے سفارش پیش کرنے والے ہوں۔

شیعوں اور یہودیوں کے مابین اپنے مخالفین کی تکفیر اور ان کی جان و مال کی اباحت میں مشابہت:

اولاً: یہودی اپنے سواء سب کو کافر کہتے ہیں اور ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ سب لوگ بت پرست ہیں اور صحیح دین سے محروم ہیں جیسا کہ تلمود میں لکھا ہے:

كل الشعوب ما عدا اليهود وثنيون وتعاليم الحاخامات مطابقة لذلك۔

تمام غیر یہودی اقوام بت پرست ہیں یہ عقیدہ حاخاموں کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔

اسی طرح شیعہ بھی اپنے علاوہ دوسرے مسلمانوں کو کافر گردانتے ہیں ان کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ ملت اسلام پر ان کے علاوہ کوئی بھی قائم نہیں ہے اس سلسلے میں یہ لوگ اپنے ائمہ سے متعدد روایات نقل کرتے ہیں مثلاً ایک روایت ہے:

ما احد على فطرة الاسلام غيرنا وشيعتنا وسائر الناس من ذلك براء۔

ہم اہلِ بیت کے علاوہ اور ہمارے شیعوں کے علاوہ کوئی بھی فطرتِ اسلام پر قائم نہیں ہے باقی تمام لوگ اس سے لاتعلق ہیں۔

ثانياً: یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے علاوہ تمام لوگ جہنمی ہیں اور وہ اس میں ابدالآباد تک رہیں گے جیسا کہ تلمود میں ہے:

ان النعيم ماوى ارواح اليهود ولا يدخل الجنة الا اليهود اما الجحيم فمأوى الكفار من المسلمين ولا نصيب لهم فيما سوى البكاء لما فيها من الظلام والعفوفة۔

جنت یہودیوں کا ٹھکانہ ہے کہ جنت میں صرف یہودی ہی داخل ہوں گے رہی جہنم تو یہ کافروں یعنی مسلمانوں اور مسیحیوں کا مستقر ہے اس تاریک اور بدبودار مقام میں ان کیلئے رونے کے علاوہ اور کچھ مقدر نہ ہوگا۔

بعینہ اسی طرح شیعوں کا اپنے علاوہ دیگر مسلمانوں کے متعلق عقیدہ ہے کہ وہ اور ان کے مذہبی پیشوا جہنم میں داخل ہوں گے اپنے ائمہ سے یہ روایت نقل کرتے ہیں:

ثالثاً: صرنا نحن وهم وسائر الناس همج للنار والى النار۔

جنت میں ہم اور ہمارے شیعہ ہی داخل ہوں گے ( ہمارے علاؤہ) باقی سارے لوگ جہنمی درندے ہیں جو جہنم کی طرف دوڑیں گے۔

یہودی ہوں یا شیعہ دونوں کا مذہب نسل پرستی اور عصبیت پر قائم ہے یہ دونوں مذہب خاص گروہوں اور انسانی طبقات کو قطعیت کے ساتھ جہنم کے لئے متعین کرتے ہیں یہودی مسلمانوں سور مسیحیوں کو جہنمی قرار دیتے ہیں تو شیعہ ناصبیوں (یعنی اہلِ سنت) کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنمی کہتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے آئمہ سے یہ روایت نقل کرتے ہیں:

كل ناصب وان تعبد واجتهد يصير الى هذهٖ الآية عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً۔

ہر ناصبی چاہے وہ کتنی ہی عبادت اور ریاضت کرلے اس کا انجام اس آیت کے مطابق ہوگا مصیبت جھیلتے ہوں گے خستہ ہوں گے جلتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے

رابعاً: یہودیوں اور شیعوں کا مسلمانوں کے متعلق کامل اور قطعی اتفاق ہے کہ یہ جہنم میں داخل ہوں گے یہ ان دونوں کی مسلمانوں کے خلاف بغض و عناد اور شدید عداوت میں موافقت و اتحاد کی کھلی دلیل ہے۔ 

خامساً: یہودی اپنے مخالفوں کے خون کو مباح سمجھتے ہیں جیسا کہ تلمود میں لکھا ہے:

حتى افضل القوم يجب قتله۔ یہاں تک کہ (غیر یہودی) معتدل ترین شخص کو بھی قتل کر دینا ضروری ہے۔

اسی طرح شیعہ بھی اپنے مخالفین کا خون بہا دینے کو جائز قرار دیتے ہیں جیسا کہ ان کی کتب کے اندر یہ لکھا ہے:

ان ابا عبدالله سئل عن قتل الناصب فقال حلال الدم والمال۔ 

ابوعبد اللہ سے ناصبی (یعنی سنی) کے قتل کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: اس کا خون حلال ہے اور اس کا مال بھی۔

سادساً: یہودی اپنے مخالفوں کو ہلاک کرنے کیلئے دھوکہ فریب اور سازش کا حربہ استعمال کرتے ہیں جیسا کر تلمود میں لکھا ہے:

محرم على اليهودى ان ينجى احدا من الاجانب من هلاك او يخرجه من حفرة يقع فيها بل عليه ان يسدها حجر۔

یہودیوں پر کسی اجنبی (غیر یہودی) شخص کو ہلاکت سے بچانا یا اسے کھائی یا گڑھے سے بچانا یا نکالنا حرام ہے ان پر تو یہ لازم ہے کہ پتھر کے ذریعہ سے گڑھے کے منہ کو ان پر بند کردے۔

شیعہ بھی اپنے مخالفوں سے خلاصی حاصل کرنے کیلئے یہی طریقہ استعمال کرتے ہیں ان کی ابوعبد اللہ سے بیان کردہ ایک روایت میں ہے:

سئل عن قتل الناصب فقال: حلال الدم والمال أتقى عليك فان قدرت ان تقلب عليه حائطا او تغرقه فی ماء لكی لا يشهد به عليك فافعل۔

صفحہ 4 از 5