شیعوں اور یہودیوں کے اپنے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی…

شیعوں اور یہودیوں کے اپنے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی تکفیر اور ان کی جان و مال کی حلت کے عقیدہ میں مشابہت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 5 از 5

ابوعبد اللہ سے ناصبی (یعنی سنی) کے قتل کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا: ناصبی کا خون حلال ہے مگر سخت احتیاط کی ضرورت ہے لہٰذا اگر ہوسکے تو اس پر دیوار کو گرادے یا اسے پانی میں ڈبودے کہ تیرے اس فعل پر اس کی نگاہ نہ پڑے کہیں وہ تیرے خلاف گواہی نہ دے ڈالے ایسا ممکن ہو سکے تو اسے ضرور قتل کر دے۔

سابعاً: یہودی اپنے مخالفین کی املاک و ثروت کو اپنے لئے مباح سمجھتے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو ان سے ہر ممکن وسیلہ طریقہ سے چھین لینے کی ترغیب دیتے ہیں جیسا کہ تلمود میں مذکور ہے:

ان الله سلط اليهود على اموال باقى الامم ودمائهم۔

اللہ نے یہودیوں کو باقی (غیر یہودی) اقوام کی جانوں اور ان کے اموال پر اقتدار و اختیار عطا کیا ہے۔

اسی طرح شیعہ بھی دیگر مسلمانوں کے مال و متاع کو اپنے لئے حلال سمجھتے ہیں اور اپنے ہم مذہبوں کو تلقین کرتے ہیں کہ یہ مال جہاں ملے اور جس بھی طریقہ سے ملے چھین لیں اس سلسلے میں یہ لوگ سیدنا صادقؒ کا یہ قول بطورِ دلیل کے پیش کرتے ہیں:

انه قال: خذ مال الناصبی حيث وجدت وابعث بالخمس۔

سیدنا صادقؒ نے کہا ہے کہ ناصبی کے مال کو جہاں سے بھی ملے غصب کر لو اور اس کا خمس بھیج دو۔

اس کے علاؤہ خمینی کا یہ فتویٰ بھی:

والظاهر جواز اخذ ماله این وجد و بای نحو کان۔ 

ناصبی کے مال کو جہاں سے ملے اور جس بھی طریقہ سے ملے چھین لینے کا جواز بالکل راجح اور ظاہر ہے۔

یہودی اپنے مالی معاملات میں آپس میں سودی لین دین کو حرام جانتے ہیں جب کہ غیر یہودیوں سے سود لینے کو بالکل جائز سمجھتے ہیں جیسا کہ سفر التثنیہ میں مذکور ہے:

للأجنبی تقرض بالربا لكن لأخيك لا تقرض بربا۔ 

اجنبی (غیر یہودی) کو سود پر قرض دو مگر اپنے بھائی (یہودی) کو سود پر قرض نہ دیا کرو۔

اسی طرح شیعہ بھی آپس میں سودی لین دین کو حرام سمجھتے ہیں جب کہ ذمیوں اور اہلِ سنت سے سود وصول کرنے کو جائز تصور کرتے ہیں جیسا کہ ان کی کتابوں میں مذکور ہے:

ليس بين الشيعی والذمى ولا بين الشيعی والناصبی ربا۔ شیعوں اور ذمیوں کے درمیان اور شیعوں اور ناصبیوں کے درمیان سود ممنوع نہیں ہے۔

 تاسعاً: یہودی مذہب کی رو سے یہودی شخص کا غیر یہودیہ عورت سے نکاح و زواج حرام ہے ایسا کرنے والا شخص گناہ گار اور یہودی تعلیمات کا مخالف گردانا جاتا ہے جیسا کہ سفر الخروج میں مذکور ہوا ہے اسی طرح شیعہ بھی غیر شیعوں خاص طور پر اہلِ سنت سے زواج کو حرام قرار دیتے ہیں اور ایسا کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی محرمات کو پامال کرنے والا سمجھتے ہیں اس سلسلے میں شیعی کتب میں یہ روایت مذکور ہے:

عن أبی جعفرؒ أنه سئل عن مناكحة الناصبی والصلاة خلفه فقال: لا تناكحه ولا تصلى خلفه۔

سیدنا ابو جعفرؒ سے ناصبیوں سے نکاح اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کی بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ان کے ساتھ نہ نکاح کرو اور نہ ہی ان کی اقتداء میں نماز پڑھا کرو۔

یہ چند ایک مسائل و معاملات ہیں جن میں شیعہ اور یہودی اپنے مخالفین کی تکفیر اور ان کی جان و مال کی اباحت کے عقیدہ کی وجہ سے باہمی طور پر متفق ہیں ان مقامات میں ان دونوں گروہوں کے درمیان ظاہر و بین مشابہت کو بخوبی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے یہاں تک کہ دونوں کی متعلقہ معاملہ میں نصوص وروایات میں بھی کمالِ درجہ کی مماثلت پائی جاتی ہے اس سے ہمارے اس مؤقف کو تقویت ملتی ہے کہ شیعوں میں یہ عقائد بنیادی طور پر یہودی صحائف و اسفار اور تلمود سے ہی منتقل ہوئے ہیں پھر ان روایات میں شیعی رنگ و اسلوب کی مناسبت کے پیش نظر رد و بدل کر کے اور بعض عبارتوں میں تغیر کے ذریعہ سے آل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کی طرف جھوٹ اور افتراء کے ساتھ منسوب کر دیا گیا ہے۔


صفحہ 5 از 5