شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں…

شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں موافقت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 6

شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں موافقت

یہودیوں کی مقدس کتاب (129) اجزاء پر مشتمل ہے ان میں سے پہلے پانچ اجزاء تو یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی تھی اور اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خود اپنے ہاتھ سے تحریر کیا تھا ان کے علاوہ عہدِ قدیم کے باقی اسفار کے متعلق انکا یہ مؤقف ہے کہ ان کو موسیٰ علیہ السلام کے بعد تشریف لانے والے دوسرے انبیاء علیہم السلام بنی اسرائیل نے تحریر کیا ہے لیکن سچی درست بات یہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو الواح پر تحریر شدہ تورات عطاء فرمائی تھی۔ اس میں بنی اسرائیل کے لیے نصیحت اور ہر معاملہ میں کھلی تفصیل موجود تھی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام کو تورات میں بیان شدہ احکامات کی اطاعت والتزام کا حکم فرمایا تھا اور انہیں یہ حکم بھی دیا گیا کہ وہ اپنی قوم کو تورات کے عمدہ اور احسن احکامات کی اتباع اور پیروی کا حکم دیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب حکیم میں ایک جگہ بیان فرمایا ہے کہ یہودیوں نے خود ہی تورات کو لکھا ہے لیکن انہوں نے تورات کی بہت ساری آیات کو چھپا دیا ہے ارشادِ الٰہی ہے: قُلۡ مَنۡ اَنۡزَلَ الۡـكِتٰبَ الَّذِىۡ جَآءَ بِهٖ مُوۡسٰى نُوۡرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ‌ تَجۡعَلُوۡنَهٗ قَرَاطِيۡسَ تُبۡدُوۡنَهَا وَتُخۡفُوۡنَ كَثِيۡرًا‌ ۚ وَعُلِّمۡتُمۡ مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَلَاۤ اٰبَآؤُكُمۡ‌ؕ قُلِ اللّٰهُ‌ۙ ثُمَّ ذَرۡهُمۡ فِىۡ خَوۡضِهِمۡ يَلۡعَبُوۡنَ۝ (سورۃ الانعام: آیت 91)۔

آپ کہیے! وہ کتاب کس نے نازل کی تھی؟ جسے لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے تھے نور اور لوگوں کے لیے ہدایت تھی جس کو تم نے (مختلف) اوراق کر رکھا ہے کہ انہیں ظاہر کر دیتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو اور تم سکھائے گئے ہو وہ جو تم نہیں جانتے تھے نہ تم اور نہ تمہارے باپ دادا آپ کہیے کہ اللہ نے اسے نازل کیا ہے) پھر انہیں ان کے مشغلوں میں بیہودگی سے پڑے رہنے دیجیے

بلکہ یہودیوں نے تورات کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیئے گئے عہد و میثاق کو توڑ ڈالا اس کی حفاظت کرنے کی بجائے انہوں نے کئی اشیاء کو بھلا دیا یہ دلیل ہے اس چیز کی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء فرمودہ امانت کتاب توارت کی حفاظت کے تقاضوں کو پورا کرنے میں شدید ترین غفلت اور کوتاہی کا ارتکاب کیا ارشادِ الٰہی ہے: فَبِمَا نَقۡضِهِمۡ مِّيۡثَاقَهُمۡ لَعَنّٰهُمۡ وَجَعَلۡنَا قُلُوۡبَهُمۡ قٰسِيَةً‌ ۚ يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ‌ۙ وَنَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوۡا بِهٖۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنۡهُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡ‌ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاصۡفَحۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ۝ (سورة المائدة آیت 13)۔

غرض ان کی پیمان شکنی ہی کی بناء پر ہم نے انہیں رحمت سے دور کر دیا ہے اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کر دیا ہے وہ کلام کو اس کے موقع و محل سے بدل دیتے ہیں اور جو کچھ انہیں نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک (بڑا) حصہ بھلا بیٹھے ہیں اور ان میں سے بجز معدودے چند کے آپ کو ان کی ذہانت کی اطلاع آئے دن ہوتی رہتی ہے سو آپ ان کو معاف کر دیجئے اور (ان سے) درگزر کیجئے بے شک اللہ نیک کاروں کو پسند کرتا ہے۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ وہ تورات جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا وہ اس کے ایک حصہ میں یہودیوں کی طرف سے تعریف کی وجہ سے اور دوسرے حصہ کو یہودیوں کے بھلا دینے کی وجہ سے گم ہو گئی ہے یہی وجہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کے عہد مبارک میں جن لوگوں نے تورات کی مکمل صحت و درستی کا دعویٰ کیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو مکمل تورات پیش کرنے کا حکم دیا لیکن وہ مکمل تورات پیش نہ کر سکے اس لئے کہ جو تورات ان کے پاس موجود تھی یہ قطعاً وہ نہ تھی جسے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل فرمایا تھا ارشادِ الٰہی ہے: قُلۡ فَاۡتُوۡا بِالتَّوۡرٰٮةِ فَاتۡلُوۡهَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ۝ (سورة آلِ عمران: آیت 93)۔

آپ کہیئے کہ تورات لاؤ اور اسے پڑھو! اگر تم سچے ہو۔

اس آیت سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ توارت مکمل طور پر درست نہیں ہے اگر یہودیوں کے پاس تورات کا ایک جزء بھی صحیح موجود ہوتا تو وہ اسے ضرور پیش کرتے اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہودیوں کے پاس تورات کا صحیح اور حقیقی نسخہ موجود نہیں ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو چیلنج فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے تورات کو ضائع کر دینے کی وجہ سے یہودیوں کی مذمت فرمائی ہے اور انہیں گدھوں کے ساتھ مشابہت دی ہے اس لئے کہ یہودی اور گدھے کتاب کے حامل ہونے اور اس سے فائدہ نہ اٹھانے کی خاصیت میں مکمل مماثلت رکھتے ہیں ارشادِ باری تعالی ہے:

مَثَلُ الَّذِيۡنَ حُمِّلُوا التَّوۡرٰٮةَ ثُمَّ لَمۡ يَحۡمِلُوۡهَا كَمَثَلِ الۡحِمَارِ يَحۡمِلُ اَسۡفَارًا‌ ؕ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ۝ (سورة الجمعة آیت 5)۔

جن لوگوں کو تورات پر عمل کا حکم دیا گیا تھا پھر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابیں لادے ہو (کیسی) بری مثال ہے ان قوم والوں کی جہنوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور اللہ ظالم لوگوں کو (توفیق) ہدایت نہیں دیا کرتا۔

صفحہ 1 از 6