شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں…

شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں موافقت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 6

جو شخص بھی تورات کی نصوص و عبارات کا باریک نظری سے جائزہ لے گا اسے کامل یقین ہو جائے گا کہ ان نصوص کو لکھنے والے حضرت موسیٰ علیہ السلام نہیں بلکہ کوئی اور ہے اسی طرح جو شخص عہدِ قدیم کے پہلے پانچ صحیفوں (اسفار) جن کے متعلق یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہی انہیں لکھا تھا اور اسی عقیدہ کی بناء پر وہ ان اسفار کو ان کی طرف منسوب کرتے ہیں کو اپنے سامنے رکھے گا تو اسے اس حقیقت کے تسلیم کرنے میں ذرا سا بھی ترد نہیں ہوگا کہ پانچوں اسفار حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تحریر فرمودہ نہیں ہیں بلکہ ان کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں سے لکھا ہوا ہونا ایک ناممکن اور محال امر ہےکیونکہ خود ان اسفار کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ انہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اور بہت بڑی مدت کے بعد لکھا گیا ہے قدیم و جدید محققین نے ایسی متعدد مثالیں بیان کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اسفار کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کرنے کا معاملہ کلیۃً باطل اور محال ہے۔

یہودیوں کی اپنی کتاب مقدس میں تحریف کی چند مثالیں:

پہلی مثال:

سفرِ تثنیہ کی چونتیسویں فصل میں مذکور ایک روایت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات اور پھر موآب کے علاقہ میں ان کی تدفین کے متعلق بیان ہوا ہے توراۃ میں مذکورہ آیت کے الفاظ یہ ہیں:

فمات هناك موسى عبد الرب فی ارض مؤاب حسب قول الرب ودفنه فی الجواء فى ارض مؤاب مقابل بيت فغور ولم يعرف انسان قبره الى هذا اليوم وكان موسىٰ ابن مائة وعشرين سنة حين مات انتهى۔

اس وقت مؤاب کی سرزمین میں رب کے حکم کے تحت رب کے غلام موسیٰ کو وفات آگئی اور انہیں مؤاب کی زمین فغور کے گھر کے مقابل جواء (نام مقام) میں دفن کر دیا گیا ان کی قبر کے متعلق تا حال کسی کو معلوم نہیں ہو سکا وفات کے وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کسی عقل مند انسان کے لیے اس بات کو سچا تسلیم کر لینا ممکن ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بذاتِ خود تورات کے اندر اپنی وفات تدفین اور بنو اسرائیل کے آپ پر رونے کی تفصیلات کو قلمبند کر دیا ہے پھر مذکورہ بالا عبارت میں سے ان کی قبر کے متعلق تا حال کسی کو معلوم نہیں ہو سکا کے جملہ پر غور و فکر کے ذریعہ سے ایک نہایت ہی اہم بات معلوم ہوتی ہے جس سے پوری قطعیت سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جملہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات سے طویل ترین مدت کے بعد لکھا گیا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کی قبر کی شناخت اسی لمبی مدت کی وجہ سے ناممکن ہوئی اور اس طرح کی صورت عام حالات کے مطابق اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے کہ جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ حضرت موسی علیہ السلام کے بعد اور اس صحیفہ کی تالیف کے دوران یہودیوں کی کئی نسلیں گزر چکی تھیں۔

دوسری مثال:

سفر الخروج میں لکھا ہے:

فقال الرب موسىٰ انظر انا جعلتك الها لفرعون و هارون اخوك يكون نبيك۔

"رب نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: دیکھ! میں نے تجھے فرعون کا معبود بنا دیا ہے اور تیرا بھائی حضرت ہارون علیہ السلام تیرا نبی ہو گا۔

یہودیوں کے پاس موجودہ تورات کی اکیلی ہی عبارت ہمارے اس دعویٰ کی مضبوط اور ٹھوس دلیل ہے کہ تورات میں تحریف واقع ہوئی ہے وگرنہ یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ فرمایا ہو کہ میں نے تجھے معبود کا منصب عطا کیا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ علیہ السلام سمیت جملہ انبیاء و رسل علیہم السلام کو بھیجا ہی اس کام کے لیے گیا تھا وہ لوگوں کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی الوہیت و ربوبیت میں اس کی وحدانیت کا پرچار کریں اور اسی کی دعوت دیں۔

ہماری طرح یہودیوں کے علماء و احبار بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد تورات میں کی گئی تحریف کا اعتراف کرتے ہیں یہودیوں کے بہت بڑے عالم سامؤیل ابنِ یحییٰ نے اسلام کی دولت سے مالا مال ہونے کے بعد اپنی کتاب میں لکھا ہے:

علمائهم واحبارهم يعلمون ان هذه التوراة التی بايديهم لا يعتقد احد من علمائهم واحبارهم انها المنزلة على موسیٰ البتة لان موسىٰ صان التوراة عن بنى اسرائيل ولم يبثها فيهم وانما سلمها الى عشيرته اولاد ليوى ولم يبذل موسیٰ من التوراة لبنى اسرائيل الا نصف سورة يقال لها هائينزو وهؤلاء والائمة الهاروينون الذين كانوا يعرفون التوراة ويحفظون أكثرها قتلهم بختضر على دم واحد يوم فتح بيت المقدس ولم يكن حفظ التوراة فرضا ولا سنة بل كان كل واحد من الهارونيين يحفظ فصلا من التوراة۔ (کتاب افحام اليهود: 135)۔

یہودی علماء و احبار اس حقیقت سے کما حقہ آگاہ ہیں کہ یہ تورات جو ان کے پاس موجود ہے اس کے متعلق ان کے احبار و علماء میں سے کوئی ایک بھی یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ واقعتاً یہ وہی تورات ہے جسے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا گیا تھا اس لیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنو اسرائیل سے تورات کو محفوظ کر کے رکھا اور اسے انہوں نے عام نہیں کیا تھا انہوں نے تو اسے اپنے خاندان یعنی لیوی کی اولاد کے حوالہ کیا تھا بنو اسرائیل کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تورات کی صرف آدھی سورت کو عام کیا تھا اس سورۃ کا نام ہائینزو ہے اور یہ ہارونی امام تھے یہ تورات کے عالم اور اس کے اکثر حصہ کو زبانی یاد رکھتے تھے انہیں تو بیت المقدس کی فتح کے موقع پر بختِ نصر نے مجموعی طور پر قتل کر ڈالا تھا پھر تورار کو یاد کرنا نہ فرض تھا اور نہ ہی سنت بلکہ ہارونیوں کا ہر فرد از خود تورات کے ایک حصہ کو حفظ کر لیا کرتا تھا۔

عزراء وراق ہی کتاب مقدس کا حقیقی مؤلف ہے:

یہ بات تو ہمیں معلوم ہوگئی کہ محرف تورات کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے نہیں لکھا ہے لیکن یہاں ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس تحریف شده تورات کا کاتب کون ہے؟۔

صفحہ 2 از 6