شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں…

شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں موافقت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 6

ہم اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کہتے ہیں کہ اس موضوع پر محققین علماء کی لکھی ہوئی تحقیقات کے مطالعہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کی پختہ رائے یہ ہے کہ تحریف کے بعد تورات کا کاتب عزراء الوراق ہے اور اس نے یہ کتاب یروشلم پر بابلی حکمران بختِ نصر کی یلغار ہیکل سلیمانی کی بربادی اور یہودیوں کی بہت بڑی تعداد کے قتل ہو جانے کے بعد لکھی ہے چنانچہ ابنِ حزمؒ نے اپنی کتاب الفیصل میں لکھا ہے:

ان عزراء الوراق هو الذى املى على اليهود التوراة من حفظه وكان املاء عزراء للتوراة بعد ازيد من سبعين سنة من خراب بيت المقدس۔

عزراء الوراق ہی وہ شخص ہے جس نے اپنی یادداشت سے یہودیوں کو تورات لکھوائی تھی اور عزراء کا تورات لکھوانے کا عمل بھی بیت المقدس کی ویرانی و تباہ حالی سے ستر سے بھی زائد سالوں کے بعد وقوع پذیر ہوا تھا

اس کی تائید امام ساموئیل ابنِ یحییٰ المغربی کے ان کلمات سے ہوتی ہے لکھتے ہیں:

فلما راى عزراء ان القوم قد احرق هيكلهم وزالت دولتهم وتفرق جمعهم ورفع كتابهم جمع من محفوظاته ومن الفصول التی يحفظها الكهنة ما لفق منه هذه التوراة التی بايديهم الآن ولذلك بالغوا فی تعظيم عزراء هذا غاية المبالغة وزعموا ان النور الى الآن يظهر على قبره الذی عند بطائح العراق لانه عمل لهم كتابا يحفظ دينهم فهذه التوراة التی بايديهم على الحقيقة كتاب عزراء وليس كتاب اللہ۔(كتاب افحام اليهود 139)۔

جب عزراء نے یہ دیکھا کہ یہودیوں کا ہیکل نذرِ آتش کر دیا گیا ہے ان کی حکومت زوال سے دو چار ہوگئی ہے اور ان کا شیرازہ بکھر گیا ہے اور ان کی کتاب بھی ان سے اٹھالی گئی ہے تو اس نے اپنی یادداشت سے اور کاہنوں کے حفظ کردہ اجزاء کی مدد سے اس تورات کو مرتب کیا جو اس وقت یہودیوں کے پاس موجود ہے یہی وجہ ہے کہ یہودی عزراء کی حد درجہ تعظیم و توقیر بجا لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عراق کے میدانوں میں موجود اس کی قبر سے ابھی تک نور کی برسات ہورہی ہے کہ اس نے انکے لیے ایسی کتاب مرتب کر دی ہے جس سے ان کا دین محفوظ ہوگیا ہے لہٰذا یہودیوں کے پاس موجود تورات عزراء کی لکھی ہوئی کتاب کتاب اللہ ہرگز نہیں۔

شیعہ اور ان کی قرآنِ پاک میں تحریف:

شیعوں کا قرآنِ کریم کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ اس میں تحریف اور تبدیلی ہوئی ہے بہت ساری آیات کو اس میں بڑھا دیا گیا ہے اور کچھ کو اس میں سے نکال دیا گیا ہے اور نکال دی گئی آیات اس وقت مسلمانوں کے پاس موجودہ قرآن سے دو گنا زائد تھیں بلکہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن میں سے سر فہرست خلفاء ثلاثہؓ سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ ہیں نے قرآن میں تحریف کی ہے اور اس میں سے بہت سارے حصے کو نکال دیا ہے کہتے ہیں: ساقط شدہ آیات کا تعلق درج ذیل دو بڑے اور بنیادی موضوعات کے ساتھ ہے۔

  1.  اہلِ بیت اور خاص طور پر سیدنا علیؓ بن ابی طالب کے فضائل اور ان کی امامت کے متعلق قرآنی تصریحات۔
  2.  مہاجرین و انصار کے عیوب اور نقائص ان مہاجرین و انصار کو شیعہ منافق کہتے ہیں بقول ان کے یہ لوگ اسلام میں سازش زنی کے ساتھ داخل ہوئے تھے۔

شیعوں کا قرآن کے متعلق یہی عقیدہ ہے جیسا کہ ان کی مشہور کتب تفسیر و حدیث میں اس کے متعلق ان کے علماء کی تصریحات موجود ہیں لیکن موجودہ دور کے شیعہ علماء اس عقیدہ کا انکار کرتے ہیں اور ان کا یہ انکار اس وجہ سے نہیں ہوا ہے کہ انہیں اس عقیدہ کی خرابی کا علم ہو گیا ہے یا وہ حق کی طرف رجوع کے طلبگار ہوگئے ہیں بلکہ بعض اوقات ان کی زبانی لغزشوں اور قلموں کی بے اعتدالی سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ ابھی تک اپنے قدیمی خبیث عقیدہ پر قائم ہیں اور اس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے وجہ یہ ہے کہ انہوں نے جب دیکھا کہ علماء مسلمان اس عقیدہ سے نفرت کرتے اور اس سے حد درجہ کراہت کرتے ہیں تو انہیں خطرہ لاحق ہوگیا کہ اگر وہ اس کا کھل کر اظہار و اعلان کر دیتے تو اس کے رد عمل میں پیدا ہونے والے نتائج ان کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوں گے اسی لیے وہ اسے نفاق فریب اور دھوکہ کے پردہ میں لپیٹ لینے پر مجبور ہو گئے جسے شیعہ اثناء عشریہ کی لغت میں تقیہ کہا جاتا ہے۔

شیعوں کے بڑے بڑے علماء جو پہلی صدی سے تیرہویں صدی کے طویل ادوار میں پیدا ہوتے رہے کا اجتماعی طور پر اس عقیدہ پر اتفاق ہے کہ قرآن میں تحریف اور تغیر و تبدل واقع ہوا ہے ماسوائے چار اشخاص کے کہ انہوں نے اس عقیدہ کی صراحت نہیں کی ہے ان کے علاؤہ ان کے باقی محدثین اور مفسرین قرآن میں تحریف کی صراحت کرتے ہیں میں یہاں ان بڑے شیعہ علماء کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اپنی معتمد مؤلفات میں قرآن میں تحریف کے عقیدہ و دعویٰ کو کھل کر بیان کیا ہے جس سے قرآن میں تحریف کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے میں کوشش کروں گا کہ ان علماء کے تذکرہ کے دوران ان کے زمانہ کی ترتیب کو ملحوظ رکھوں اور ان کی وفیات کی تاریخ کو بھی بیان کروں۔

1۔ ان کا پہلا عالم:

سلیم بن قیس الهلالی متوفی 90ھ ہے اس نے اپنی کتاب کتاب سلیم بن قیس میں ایسی متعدد روایات درج کی ہیں جن کا لب لباب یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں تحریف ہوئی ہے انہی روایات میں سے ایک روایت سیدنا علیؓ بن ابی طالب سے اس کی اپنی سند کے ساتھ موجود ہے اس میں ہے:

ان الاحزاب تعدل سورة البقرة والنور ستون ومائة آية والحجرات ستون آية والحجر تسعون ومائة آيه فما هذا۔(كتاب سليم بن قيس 122)۔

سورة الاحزاب سورۃ البقرہ کے مساوی تھی اور سورۃ النور کی ایک سو ساٹھ آیات تھیں حجرات کی ساٹھ آیات اور سورۃ الحجر کی ایک سو نوے آیات تھیں (یہ تحریف نہیں) تو پھر کیا ہے؟۔

صفحہ 3 از 6