شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں…

شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں موافقت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 4 از 6

شیعہ امام سلیم بن قیس کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ سورۃ الاحزاب جس کی آیات کی تعداد 73 ہے اصل میں اور تحریف کے بغیر دو سو اسی آیات پر مشتمل سورۃ البقرہ کے مساوی تھی سورۃ النور سلیم بن قیس کے مؤقف کے مطابق ایک سو ساٹھ آیات پر مشتمل تھی جب کہ موجودہ مصحف میں یہ سورۃ مبارکہ کل 64 آیات پر مشتمل ہے سورۃ الحجرات کی سلیم بن قیس کے نزدیک ساٹھ آیات تھیں جبکہ موجود مصحف میں یہ سورۃ کل 18 آیات پر مشتمل ہے سورۃ الحجرات ان کے مذہبی قائد سلیم بن قیس کے نزدیک ایک سو نوے آیات کی تھی لیکن مسلمانوں کے پاس موجود محفوظ قرآنِ کریم میں یہ کل 99 آیات پر مشتمل ہے شیعہ امامیہ کے علماء کا اور ان کے انتہائی سر کردہ اولین عالم سلیم بن قیس کا یہی عقیدہ ہے کہ قرآنِ کریم میں سے ایسی آیات کو بڑی مقدار میں نکال دیا گیا ہے جو اہلِ بیت کی فضیلت پر اور خاص طور پر سیدنا علیؓ بن ابی طالب کے فضائل و مناقب پر مشتمل تھیں۔

2۔ ان کا دوسرا عالم:

محمد بن حسن الصفار المتوفی (290ھ) ہے اس نے اپنی کتاب بصائر الدرجات میں سیدنا ابوجعفر صادقؒ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا ہے:

ما من احد من الناس يقول انه جمع القرآن كله كما انزل الله الا كذاب وما جمعه وما حفظه كما انزل الا علىؓ بن ابی طالب والأئمة من بعده۔ (بصائر الدرجات للصفار: 213)

لوگوں میں سے جو شخص بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے قرآنِ کریم کو اس کے نزول کے مطابق جمع لیا ہے تو وہ کذاب ہے اس لیے کہ نزول کے مطابق قرآن کو صرف سیدنا علیؓ بن ابی طالب نے اور ان کے بعد آنے والے ائمہ نے ہی محفوظ اور جمع کیا ہے۔

ان سے ایک دوسری روایت یوں بیان کرتا ہے:

ما يستطيع احد ان يدعى انه جمع القرآن كله ظاهره وباطنه غير الاوصياء۔

ائمہ کے علاؤہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب نہیں ہے کہ اس نے قرآن اس کے ظاہر و باطن سمیت مکمل طور پر جمع کیا ہے۔

3۔ ان کا تیسر ا عالم:

علی بن ابراہیم القمی المتوفی 307ھ ہے اس نے اپنی تفسیر کے پہلے جزء میں مقدمہ کے اندر یہ لکھا ہے:

فالقرآن منه ناسخ ومنسوخ ومنه محكم ومنه متشابه ومنه عام ومنه خاص ومنه تقديم ومنه تأخير ومنه مقطع ومنه معطوف ومنه حرف مكان حرف وانه على خلاف ما انزل الله۔ (تفسیر القمی جلد 1 صفحہ 8)۔

قرآن میں ناسخ بھی ہے اور منسوخ بھی ہے اس میں محکم بھی ہے اور تشابہ بھی اس میں عام بھی ہے اور خاص بھی اس میں تقدم بھی ہے اور تأخر بھی اس میں مستقل بھی اور معطوف بھی اس میں ایک کلمہ کی بجائے دوسرا کلمہ بھی ہے اور اللہ کے اتارے گئے کلام کے مخالف بھی۔

 پھر اس نے حدود پامال کرتے ہوئے اور بہتان طرازی کرتے ہوئے قرآنِ کریم سے اپنے مزعومہ مؤقف کی صداقت کے لیے کئی مثالیں بھی درج کی ہیں وہ اپنی بیان کردہ مثالوں میں تغیر و تبدل کرتا ہے اور آیات کو آگے پیچھے کرتا ہے وہ یہ سب کچھ کتاب اللہ میں اپنے یہودی استاذوں کی مکمل موافقت میں کرتا ہے جو آیات کو ایک جگہ سے ہٹا کر اپنی مقدس کتاب میں تحریف کیا کرتے تھے۔ (العیاذ بابعہ)

4ـ ان کا چوتھا عالم:

قمی کے بعد اس کا شاگرد محمد بن یعقوب الکلینی المتوفی 338 ہے جسے شیعوں کے بہت بڑے محدث ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس نے ان کے لیے الکافی لکھی ہے جسے شیعہ کے نزدیک وہی مرتبہ دیا جاتا ہے جو صحیح البخاری کو اہلِ سنت کے نزدیک دیا جاتا ہے ذرا دیکھیے تو شیعہ کلینی نے اپنی کتاب الکافی میں کیا لکھا ہے؟ کلینی نے علی بن محمد سے اس کے بعض شاگردوں کے واسطہ سے محمد بن محمد بن ابی نصر سے یہ روایت نقل کی ہے:

قال دفع الى ابو الحسن عليه السلام مصحفا و قال: لا تنظر فيه ففتحته و قرأت فيه لم يكن الذين كفروا فوجدت فيه اسم سبعين رجلا من قريش باسمائهم واسماء آبائهم قال: فبعث الى ابعث الى بالمصحف۔ (اصول الكافی جلد 2 صفحہ 631)۔

احمد بن محمد بن ابی نصر کا بیان ہے کہ ابو الحسن سلام نے ایک مصحف میرے سپرد کیا اور کہا: اس میں دیکھنا نہیں ہے میں نے اسے کھولا اور اس میں میں نے لَمۡ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ الخ۔ (سورة البینہ آیت 2) (یعنی سورة البینہ کی تلاوت کی میں نے اس میں قریش کے ستر اشخاص کے نام اور ان کے آباء کے نام لکھے دیکھے احمد بن محمد بن نصر کہتا ہے کہ پھر ابو الحسن نے میری طرف پیغام بھیجا کہ یہ مصحف ان کی طرف بھیج دوں چنانچہ میں نے یہ مصحف ان کی طرف بھیج دیا۔

کلینی نے ابو عبداللہ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے:

قال: ان القرآن الذک جاء به جبريل الى محمدﷺ الله سبعة عشر الف آية۔

وہ قرآن جسے جبریل علیہ السلام محمدﷺ کی طرف لائے تھے وہ ستر ہزار آیات پر مشتمل تھا۔

اس قول کی رو سے تو یہ لازم آتا ہے کہ قرآنِ کریم کے دو تہائی حصے غائب ہوگئے ہیں صرف یہی نہیں بلکہ شیعوں کے امام کلینی نے ایک روایت کے مطابق یہ کہا ہے کہ ان کے پاس ایک دوسرا قرآن ہے جو مسلمانوں کے پاس موجود قرآن کریم سے تین گنا زائد ہے کافی کی کتاب الحجہ میں ہے:

عن أبی بصير عن أبی عبدالله انه قال وان عندنا لمصحف فاطمةؓ وما يدريهم ما مصحف فاطمةؓ قال: قلت وما مصحف فاطمةؓ قال مصحف فيه مثل قرآنكم هذا ثلاث مرات والله مافيه من قرآنكم حرف واحد۔

ابو بصیر ابو عبداللہ سے بیان کرتا ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے پاس سیدہ فاطمہؓ کا مصحف موجود ہے لوگوں کو کہا: معلوم کہ سیدہ فاطمہؓ کا مصحف کیا ہے؟ راوی کہتا ہے: میں نے کہا: سیدہ فاطمہؓ کا مصحف کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ جو مصحف تمہارے اس قرآن سے تین گنا زائد ہے اللہ کی قسم! اس میں تمہارے قرآن کا ایک حرف بھی موجود نہیں ہے۔

5۔ ان کا پانچواں عالم:

یہ ان کا امام محمد بن مسعود بن لیاش المعروف بالعیاش ہے اس کا شمار ان کے مشہور شیعی علماء میں ہوتا ہے جن کو خصوصی طور پر قرآنِ کریم میں تحریف کے عقیدہ کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی ہے ان میں امام عیاشی بھی ہے یہ تفسیر العیاشی کا مؤلف ہے اس تفسیر کو شیعوں میں اہم ترین اور قدیم ترین تفسیر کا مرتبہ حاصل ہے۔ عیاشی نے اپنی اسی تفسیر کے پہلے جزو میں یہ روایت درج کی ہے:

عن ابی عبدالله قال لو قرى القرآن كما انزل لأ لفيتنا مسمين۔(تفسير العياش جلد 1 صفحہ13)۔

صفحہ 4 از 6