شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں…

شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں موافقت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 5 از 6

اگر قرآن کو اس کے نزول کے مطابق پڑھا جائے تو تمہیں اس کے اندر ہمارے نام لکھے ہوئے مل جائیں گے۔

یعنی اگر قرآن میں تحریف کا ارتکاب نہ ہوچکا ہوتا تو آپ کو قرأت کے دوران اہلِ بیتؓ کے نام لکھے ہوئے ملتے لیکن اس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے (بقول عیاشی بموجب عقیدہ شیعہ) تحریف کر دی ہے اور انہیں بدل ڈالا ہے اس تفسیر میں سیدنا ابوجعفرؓ سے ان کا یہ قول بھی نقل ہوا ہے۔

ان القرآن قرطرح منه أى كثير و لم يزد فيه الاحرف اخطات به الكتبة وتوهمها الرجال۔ (تفسیر عیاشی جلد 1 صفحہ 180)۔

 قرآن میں سے بہت ساری آیات کو نکال دیا گیا ہے اس میں صرف ایک حرف کا اضافہ کیا گیا ہے جو کاتبوں کی غلطی اور وہم کا نتیجہ ہے۔

6۔ ان کا چھٹا عالم:

امام المفيد المتوفی 413ھ ہے جسے شیعی عقائد کا موس اور بانی قرار دیا جاتا ہے اس نے تحریف کے عقیدہ کے متعلق باقی تمام اسلامی فرقوں کے مقابلہ میں اپنے علماء کا اجماع نقل کیا ہے اس شیعی عالم مفید نے اپنی کتاب (اوائل المقالات) میں لکھا ہے:

واتفقوان ائمة الضلال خالفوا فی كثير من تأليف القرآن و عدلوا فيه عن موجب التنزيل و سنة النبیﷺ ما واجمعت المعتزلة والخوارج والمرجئة واصحاب الحديث على خلاف الامامية فی جميع ما عددناه۔ (اوائل المقالات صفحہ 48)۔

شیعوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ گمراہ اماموں (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے قرآن کی بہت ساری تراکیب میں مخالفت کی ہے اور انہوں نے قرآن کے اور سنتِ نبیﷺ کے تقاضوں سے انحراف کیا ہے جبکہ معتزلہ خوارج مرجنہ اور محدثین امامیہ کی بیان کردہ تمام باتوں کی مخالفت پر متفق ہیں۔

7۔ ان کا ساتواں عالم:

ابو منصور الطبرسی المتوفی 620 ھ ہے اسی طبری نے ان کی کتاب (الاجتماع) میں سیدنا ابوذر غفاریؓ سے یہ روایت بیان کی ہے:

عن ابی ذر الغفاریؓ قال لما توفى رسول الله جمع على عليه السلام القرآن و جاء و به الى المهاجرين والأنصار وعرضه عليهم لما قد أوصاه رسول اللهﷺ ما فلما فتحه ابوؓبكر خرج فی اول صفحة فتحها فضائح القوم فوثب عمرؓ وقال: يا علىؓ أردده فلا حاجة لنا فيه فاخذه عليه السلام وانصرف ثم احضروا زيد بن ثابتؓ و كان قارئا للقرآن فقال له عمرؓ ان علياؓ جاء بالقرآن و فيه فضائح المهاجرين والانصار وقد رأينا ان تؤلف القرآن و تسقط منه ما كان فضيحة وهتكا للمهاجرين والأنصار فأجابه زيدؓ الى ذلك۔ (كتاب الاحتياج للطبرسی 156)۔

سیدنا ابو ذرغفاریؓ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہﷺ فوت ہوئے سیدنا علیؓ نے قرآن جمع کیا اور اسے رسول اللہﷺ کی وصیت کے مطابق مہاجرین وانصار کی طرف لائے۔ اور اسے ان پر پیش کیا جب اسے سیدنا ابوبکرؓ نے کھولا تو کھولتے ہی پہلے ہی صفحہ پر انہیں قوم یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برائیوں کے تذکرے نظر آئے عمر تیزی سے اٹھے اور کہنے لگے سیدنا علیؓ! تم اسے واپس لے جاؤ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو آپؓ اسے اٹھا کر واپس چلے گئے پھر انہوں نے سیدنا زید بن ثابتؓ کو جو قرآن کے قاری تھے بلایا اس سے سیدنا عمرؓ نے کہا کہ سیدنا علیؓ قرآن لایا ہے لیکن اس میں مہاجرین و انصار کے عیوب مذکور ہیں ہماری رائے یہ ہے کہ ایک قرآن کو جمع کریں اور اس میں سے مہاجرین و انصار کے عیوب و نقائص کو خارج کر دیں تو سیدنا زیدؓ نے اس کے مطابق تعمیل کردی۔

بلکہ طبری کا تو یہ دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جہاں جرائم کا ذکر کیا ہے وہیں اس نے ان جرائم کے مرتکبین کے ناموں کی بھی صراحت کردی تھی لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان ناموں کو حذف کر دیا اس طرح یہ واقعات اور قصے وضاحت کے بغیر ادھورے رہ گئے اس نے اپنی کتاب (الاحتجاج) میں لکھا ہے:

ان الكناية عن اصحاب الجرائر العظيمة من المنافقين فی القرآن ليست من فعله تعالىٰ وانها من فعل المغيرين والمبدلين الذين جعلوا القرآن عضين و اعتاضوا الدنيا من الدين۔

قرآنِ کریم میں بڑے بڑے جرائم کرنے والے منافقوں کے متعلق اشارہ و کنایہ کا انداز اللہ تعالیٰ کی طرف سے قطعاً نہیں ہے بلکہ یہ قرآن میں تغیر و تبدل کرنے والوں (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی طرف سے ہوا ہے (مزید کتاب) یہ قرآن کو بدلنے والوں کا کام ہے جنہوں نے قرآن کو تقسیم کر دیا اور دین کے بدلہ میں دنیا کو خرید لیا۔

یہ ہے شیعوں کے امام طبری کا قرآنِ کریم کے متعلق عقیدہ اس نے جتنا کچھ ظاہر کیا ہے یہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو اس نے اپنے نفس میں پوشیدہ رکھا ہے اور یہ سب کچھ منافقت اور دھوکہ جسے وہ تقیہ کا نام دیتے ہیں کی بنیاد پر ہے اس کے خیالات و نظریات کی نسبت سے دیکھا جائے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے جس کی طرف طبری نے خود ہی اپنی اس کتاب میں یوں نشاندہی کردی ہے لکھتا ہے:

ولو شرحت لك كل ما أسقط و حرف وبدل مما يجرى هذاالمجرى لطال وظهر ما تحضر التقية اظهاره من مناقب الأولياءومثالب الاعداء كتاب۔ (الاحتجاج صفحہ 254)۔

اگر میں ساقط کیے گئے تحریف یا تبدیل کر دیئے گئے ہر مقام کی تیرے سامنے مکمل تشریح کردوں تو کلام حد سے زیادہ لمبی ہو جائے اور اولیاء کے فضائل اور دشمنوں کے عیوب و نقائص تمام کے تمام ظاہر ہو جائیں جس کے اظہار میں تقیہ مانع ہے۔

8۔ ان کا آٹھواں عالم:

یہ ان کا امام الفیض الکاشافی المتوفی 1091ھ ہے اس کا شمار کبار شیعہ مفسرین و علماء میں ہوتا ہے یہ تفسیر الصافی کا مؤلف ہے اس نے اپنی اس کتاب کی تمہید میں بارہ مقدمات لکھتے ہیں ان میں چھٹے مقدمہ کو اس نے قرآنِ کریم میں تحریف کے ثبوت کے لیے مختص کیا ہے۔ اور اس مقدمہ کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے:

المقدمة السادسة فی نبذمما جاء فی جمع القرآن و تحريفه و زيادته و نقصه و تأويل ذلك۔

یعنی قرآن کے جمع میں کی گئی تحریف زیادتی اور کمی کے متعلق مجموعے اور ان سب کی حقیقت کا بیان۔

پھر یہ مؤلف اپنے متعدد مستند مصادر سے نقل کردہ ایسی روایات جو قرآن میں تحریف کے اثبات پر مشتمل ہیں کو بیان کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچتا ہے، کہتا ہے:

صفحہ 5 از 6