شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں…

شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں موافقت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 6 از 6

والمستفاد من هذه الأخبار وغيرها من الروايات من طريق اهل البيت ان القرآن الذی بين اظهرنا ليس بتمامه كما انزل على محمدﷺ ما بل منه ما هو خلاف ما انزل الله و منه ما هو مغير محرف وانه قد حذف منه اشياء كثيرة منها اسم على الام فی كثير من المواضع و منها لفظة آل محمدﷺ مال غير مرة ومنها اسماء المنافقين في مواضعها ومنها غير ذلك وانه ليس ايضا على الترتيب المرضى عند الله وعند رسول اللهﷺ۔(تفسير الصافی جلد 1 صفحہ 44)۔ 

ان احادیث سے اور ان کے علاؤہ اہلِ بیت سے مروی دوسری روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قرآن جو ہمارے درمیان موجود ہے یہ پورے کا پورا وہ قرآن نہیں ہے جسے محمدﷺ پر نازل کیا گیا تھا بلکہ اس میں اللہ کے اتارے گئے کلام کے خلاف بھی مجموعہ ہے تبدیل شدہ اور تحریف شدہ آیات بھی ہیں اس میں بہت سی اشیاء کو خارج کر دیا گیا ہے کے نام کو بیشتر مقامات سے ہٹایا گیا ہے آلِ محمدﷺ کے الفاظ کو متعدد مقامات سے حذف کیا گیا ہے منافقین کے ناموں کو تمام جگہوں سے ساقط کر دیا گیا ہے اس کے علاؤہ دوسرے ردو بدل بھی کیے گئے ہیں پھر یہ قرآن اللہ اور اس کے رسولﷺ کی پسندیدہ ترتیب پر بھی قائم نہیں ہے۔

کاشانی نے قرآنِ کریم میں بعض آیات کو حذف کر دینے کی جو صراحت کی ہے اس کے متعلق میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مستقل اور مفصل عنوان (شیعہ اور قرآنِ کریم) کے تحت گفتگو کروں گا اور اس موقع پر شیعوں کے بقول حذف آیات کی انواع و اقسام پر بھی روشنی ڈالوں گا شیعوں کے عقیدہ کے مطابق قرآنِ کریم میں حذف شدہ آیات کی تین اقسام ہیں۔

1۔ پہلی قسم:

مکمل سورتوں کا حذف یعنی قرآنِ کریم میں سے کافی ساری مستقل سورتوں کو حذف کر دیا گیا ہے۔

2 ۔دوسری قسم:

حذف کی دوسری قسم یہ ہے کہ بعض آیات کو قرآنِ کریم سے ساقط کر دیا گیا ہے۔

3۔ تیسری قسم:

شیعہ امامیہ کے عقیدہ کے مطابق کچھ کلمات کو آیات سے حذف کر دیا گیا ہے جیسا کہ ائمہ اور اولیاء کے نام وغیرہ ان ساری اقسام کو میں آئندہ بحث شیعہ اور قرآن میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے بیان کروں گا۔

9۔ ان کا نواں عالم:

یہ ان کا امام محمد باقر المجلسی المتوفی 1111ھ ہے یہ شیعوں کا شیخ الاسلام ہے اس نے اپنے بحار الانوار نامی انسائیکلو پیڈیا میں ایسی سینکڑوں روایات درج کر دی ہیں جن میں کھلی صراحت موجود ہے کہ قرآنِ کریم میں تحریف ہوئی ہے انہی روایات میں سے ایک یہ ہے:

عن ابی عبدالله انه قال: والله ماكنى الله فی كتابه حتىٰ قال يا ويلتى ليتنى لم اتخذ فلانا خليلا وانما هی فی مصحف على يا ويلتی ليتنى لم اتخذ الثانی خليلا۔ (بحار الانوار جلد 4 صفحہ 19)۔

ابو عبداللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا ہے: اللہ کی قسم! اللہ نے اپنی کتاب میں اپنے فرمان ہائے میری شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا میں کنایہ و اشارہ فرمایا ہی نہیں ہے بلکہ سیدنا علیؓ کے مصحف میں اسکی کھلی صراحت مذکور ہے اس میں ہے ہائے میری شامت کاش میں نے دوسرے کو دوست نہ بنایا ہوتا۔

اس روایت میں دوسرے کے لفظ سے شیعہ سیدنا عمرؓ کو مراد لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قیامت کے دن سیدنا ابوبکرؓ معاذالله سیدنا عمرؓ سے اظہار برأت کریں گے اور یہ الفاظ بولیں گے جو شخص مزید مطالعہ کا خواہشمند ہے اسے چاہیے کہ وہ بحار الانوار کی جلد نمبر 24 کا مطالعہ کرے اس میں دسیوں صفحات شیعہ امامیہ کے اس عقیدہ کی تشریح کے لیے بھرے ملیں گے کہ قرآنِ کریم میں تحریف ہوئی ہے اور اسے نظر آجائے گا کہ اس عقیدہ میں قائدانہ کردار شیعہ امام محمد باقر المجلسی نے ادا کیا۔

10 ۔ان کا دسواں عالم:

یہ ان کا امام نعمۃ اللہ الجزائری المتوفی 1112ھ ہے اس نے اپنی کتاب الانوار النعمانیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر قرآنِ کریم میں تحریف کی تہمت عائد کرتے ہوئے یوں لکھا ہے:

لا تعجب من كثرة الاخبار الموضوعة فانهم بعد النبیﷺ قد غيرها وبدلوا فی الدين ما هو اعظم من هذا كتغييرهم القرآن وتحريف كلماته وحذف مافيه مدائح آل الرسول والأئمة الطاهرين وفضائح المنافقين واظهار مساويهم۔(الانوار النعمانية جلد1 صفحہ 79)۔

موضوع روایات کی کثرت و بہتات تجھے حیرت کا شکار نہ بنا دیں اس لیے کہ ان لوگوں (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے نبیﷺ کے بعد ہی دین کو بدل ڈالا تھا بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ سنگین جرم کے مرتکب ہو گئے قرآن کو بدل ڈالا کلمات میں تحریف کردی اور قرآن میں مذکور آلِ رسول اور ائمہ کے فضائل و مدائح کو ساقط کر دیا اور منافقوں کے عیوب و جرائم کو بھی قرآن سے نکال دیا۔

اس ساری بحث سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ شیعوں اور ان کے یہودی آقاؤں کے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتب میں تحریف کے جرم میں کسی قدر قوی مشابہت موجود ہے اور اس سے ہمارے اس مؤقف کو بھی تقویت ملتی ہے کہ شیعی عقائد و نظریات بنیادی طور پر بندروں اور خنزیروں کی اولاد مغضوب علیہ جماعت یہودیوں کے عقائد و نظریات سے اخذ شدہ ہیں۔


صفحہ 6 از 6