سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے وقت ان کے پاس کوئی خادم نہیں تھا۔ کچھ عرصے بعد بریرہ نامی ایک خادمہ کو خرید کر آزاد کر دیا اور اپنے لیے اس کی ولاء کی شرط لگائی۔
(صحیح بخاری: 456۔ صحیح مسلم: 1504)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے وقت ان کے پاس کوئی خادم نہیں تھا۔ کچھ عرصے بعد بریرہ نامی ایک خادمہ کو خرید کر آزاد کر دیا اور اپنے لیے اس کی ولاء کی شرط لگائی۔
(صحیح بخاری: 456۔ صحیح مسلم: 1504)